Duniya ya Aakhirat? | Surah Bani Isra'eel (17) | Hindi/Urdu | Episode 10 episode artwork

EPISODE · Nov 18, 2023 · 6 MIN

Duniya ya Aakhirat? | Surah Bani Isra'eel (17) | Hindi/Urdu | Episode 10

from Surah Bani Israel Series · host Quran and Seerat

جو شخص آخرت کو نہیں مانتا ، یا آخرت تک صبر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اپنی کوششوں کا مقصود صرف دنیا اور اس کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو بناتا ہے، اسے جو کچھ بھی ملےگا بس دنیا میں مل جائے گا۔ آخرت میں وہ کچھ نہیں پا سکتا ۔ اور بات صرف یہیں تک نہ رہے گی کہ اسے کوئی خوشحالی آخرت میں نصیب نہ ہوگی، بلکہ مزید برآں دنیا پرستی ، اور آخرت کی جوابدہی وذمہ داری سے بے پر واہی اس کے طرز عمل کو بنیادی طور پر ایسا غلط کر کے رکھ دے گی کہ آخرت میں وہ اُلٹا جہنم کا مستحق ہو گا۔ وَإِذَآ أَرَدۡنَآ أَن نُّہۡلِكَ قَرۡيَةً أَمَرۡنَا مُتۡرَفِيہَا فَفَسَقُواْ فِيہَا فَحَقَّ عَلَيۡہَا ٱلۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنَـٰهَا تَدۡمِيرًا (١٦) جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اس آیت میں حکم سے مراد حکم طبعی اور قانون فطری ہے۔ یعنی قدرتی طور پر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کی شامت آنے والی ہوتی ہے تو اس کے مترفین فاسق ہوجاتے ہیں۔ ہلاک کرنے کے ارداے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ یونہی بے قصور کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے ،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسانی آبادی برائی کے راستے پر چل پڑتی ہے اور اللہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے تباہ کرنا ہے تو اس فیصلے کاظہور اس طریقے سے ہوتا ہے۔ دراصل حقیقت پر اس آیت میں متنبہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک معاشرے کو آخر کار جو چیز تباہ کرتی ہے وہ اس کے کھاتے پیتے ،خوشحال لوگوں اور اونچے طبقوں کا بگاڑ ہے۔ جب کسی قوم کی شامت آنے کو ہوتی ہے تو اس کے دولت مند اور صاحبِ اقتدار لوگ فسق وفجور پر اُتر آتے ہیں، ظلم و ستم اور بد کاریاں اور شرارتیں کرنے لگتے ہیں، اورآخر یہی فتنہ پوری قوم کو لے ڈوبتا ہے۔ لہٰذا جو معاشرہ آپ اپنا دشمن نہ ہو اسے فکر رکھنی چاہیے کہ اس کے ہاں اقتدار کی باگیں اور معاشی دولت کی کنجیاں کم ظرف اور بد اخلاقی لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جانے پائیں۔ وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِنۢ بَعۡدِ نُوحٍ‌ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرَۢا بَصِيرًا (١٧) دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نُوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں۔ تیرا ربّ اپنے بندوں کے گناہوں سے پُوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡعَاجِلَةَ عَجَّلۡنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصۡلَٮٰهَا مَذۡمُومًا مَّدۡحُورًا (١٨) جو کوئی عاجلہ کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسُوم میں جہنّم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محرُوم ہو کر۔ عاجلہ کےلغوی معنی ہیں جلدی ملنے والی چیز۔ اور اصطلاحاً قرآن مجید اس لفظ کو دنیا کے لیے استعمال کرتا ہے جس کے فائدے اور نتائج اسی زندگی میں حاصل ہوجا تے ہیں۔ اس کے مقابلے کی اصطلاح”آخرت“ہے جس کے فوائد اور نتائج کو موت کے بعد دوسری زندگی تک موخر کر دیا گیاہے۔ طالب دنیا کی چاہت:کچھ ضروری نہیں کہ دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو ، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے ۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے ۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا ، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لئے وہاں رحمت الہٰی سے دور ہیں ۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو ۔ ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو ، اللہ و رسول کو مانتا ہو ، ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا ۔ وَمَنۡ أَرَادَ ٱلۡأَخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ ڪَانَ سَعۡيُهُم مَّشۡكُورًا (١٩) اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔ یعنی اس کےکام کی قدر کی جائے گی اور جتنی اور جیسی کوشش بھی اس نے آخرت کی کامیابی کے لیے کی ہوگی اس کا پھل وہ ضرور پائے گا۔

جو شخص آخرت کو نہیں مانتا ، یا آخرت تک صبر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اپنی کوششوں کا مقصود صرف دنیا اور اس کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو بناتا ہے، اسے جو کچھ بھی ملےگا بس دنیا میں مل جائے گا۔ آخرت میں وہ کچھ نہیں پا سکتا ۔ اور بات صرف یہیں تک نہ رہے گی کہ اسے کوئی خوشحالی آخرت میں نصیب نہ ہوگی، بلکہ مزید برآں دنیا پرستی ، اور آخرت کی جوابدہی وذمہ داری سے بے پر واہی اس کے طرز عمل کو بنیادی طور پر ایسا غلط کر کے رکھ دے گی کہ آخرت میں وہ اُلٹا جہنم کا مستحق ہو گا۔ وَإِذَآ أَرَدۡنَآ أَن نُّہۡلِكَ قَرۡيَةً أَمَرۡنَا مُتۡرَفِيہَا فَفَسَقُواْ فِيہَا فَحَقَّ عَلَيۡہَا ٱلۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنَـٰهَا تَدۡمِيرًا (١٦) جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اس آیت میں حکم سے مراد حکم طبعی اور قانون فطری ہے۔ یعنی قدرتی طور پر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کسی قوم کی شامت آنے والی ہوتی ہے تو اس کے مترفین فاسق ہوجاتے ہیں۔ ہلاک کرنے کے ارداے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ یونہی بے قصور کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کر لیتا ہے ،بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسانی آبادی برائی کے راستے پر چل پڑتی ہے اور اللہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ اسے تباہ کرنا ہے تو اس فیصلے کاظہور اس طریقے سے ہوتا ہے۔ دراصل حقیقت پر اس آیت میں متنبہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایک معاشرے کو آخر کار جو چیز تباہ کرتی ہے وہ اس کے کھاتے پیتے ،خوشحال لوگوں اور اونچے طبقوں کا بگاڑ ہے۔ جب کسی قوم کی شامت آنے کو ہوتی ہے تو اس کے دولت مند اور صاحبِ اقتدار لوگ فسق وفجور پر اُتر آتے ہیں، ظلم و ستم اور بد کاریاں اور شرارتیں کرنے لگتے ہیں، اورآخر یہی فتنہ پوری قوم کو لے ڈوبتا ہے۔ لہٰذا جو معاشرہ آپ اپنا دشمن نہ ہو اسے فکر رکھنی چاہیے کہ اس کے ہاں اقتدار کی باگیں اور معاشی دولت کی کنجیاں کم ظرف اور بد اخلاقی لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جانے پائیں۔ وَكَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِنَ ٱلۡقُرُونِ مِنۢ بَعۡدِ نُوحٍ‌ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِۦ خَبِيرَۢا بَصِيرًا (١٧) دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نُوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں۔ تیرا ربّ اپنے بندوں کے گناہوں سے پُوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ مَّن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡعَاجِلَةَ عَجَّلۡنَا لَهُۥ فِيهَا مَا نَشَآءُ لِمَن نُّرِيدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَهُۥ جَهَنَّمَ يَصۡلَٮٰهَا مَذۡمُومًا مَّدۡحُورًا (١٨) جو کوئی عاجلہ کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسُوم میں جہنّم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محرُوم ہو کر۔ عاجلہ کےلغوی معنی ہیں جلدی ملنے والی چیز۔ اور اصطلاحاً قرآن مجید اس لفظ کو دنیا کے لیے استعمال کرتا ہے جس کے فائدے اور نتائج اسی زندگی میں حاصل ہوجا تے ہیں۔ اس کے مقابلے کی اصطلاح”آخرت“ہے جس کے فوائد اور نتائج کو موت کے بعد دوسری زندگی تک موخر کر دیا گیاہے۔ طالب دنیا کی چاہت:کچھ ضروری نہیں کہ دنیا کی ہر ایک چاہت پوری ہو ، جس کا جو ارادہ اللہ پورا کرنا چاہے کر دے لیکن ہاں ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائیں گے ۔ یہ تو وہاں جہنم کے گڑھے میں گھرے ہوئے ہوں گے نہایت برے حال میں ذلت و خواری میں ہوں گے ۔ کیونکہ یہاں انہوں نے یہی کیا تھا ، فانی کو باقی پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دی تھی اس لئے وہاں رحمت الہٰی سے دور ہیں ۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دنیا اس کا گھر ہے جس کے پاس اپنی گرہ کی عقل بالکل نہ ہو ۔ ہاں جو صحیح طریقے سے طالب دار آخرت میں کام آنے والی نیکیاں سنت کے مطابق کرتا رہے اور اس کے دل میں بھی ایمان تصدیق اور یقین ہو عذاب ثواب کے وعدے صحیح جانتا ہو ، اللہ و رسول کو مانتا ہو ، ان کی کوشش قدر دانی سے دیکھی جائے گی نیک بدلہ ملے گا ۔ وَمَنۡ أَرَادَ ٱلۡأَخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعۡيَهَا وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَأُوْلَـٰٓٮِٕكَ ڪَانَ سَعۡيُهُم مَّشۡكُورًا (١٩) اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔ یعنی اس کےکام کی قدر کی جائے گی اور جتنی اور جیسی کوشش بھی اس نے آخرت کی کامیابی کے لیے کی ہوگی اس کا پھل وہ ضرور پائے گا۔

NOW PLAYING

Duniya ya Aakhirat? | Surah Bani Isra'eel (17) | Hindi/Urdu | Episode 10

0:00 6:07

No transcript for this episode yet

We transcribe on demand. Request one and we'll notify you when it's ready — usually under 10 minutes.

No similar episodes found.

No similar podcasts found.

Frequently Asked Questions

How long is this episode of Surah Bani Israel Series?

This episode is 6 minutes long.

When was this Surah Bani Israel Series episode published?

This episode was published on November 18, 2023.

What is this episode about?

جو شخص آخرت کو نہیں مانتا ، یا آخرت تک صبر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اپنی کوششوں کا مقصود صرف دنیا اور اس کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو بناتا ہے، اسے جو کچھ بھی ملےگا بس دنیا میں مل جائے گا۔ آخرت میں وہ کچھ نہیں پا سکتا ۔ اور بات صرف یہیں تک...

Can I download this Surah Bani Israel Series episode?

Yes, you can download this episode by clicking the download button on the episode player, or subscribe to the podcast in your preferred podcast app for automatic downloads.
URL copied to clipboard!