EPISODE · Aug 21, 2021 · 49 MIN
27 Al-Baqrah 113-121
from دروس القرآن الحکیم · host Rahimia Institute of Quranic Sciences
درس قرآن 27 سورة البقرة آیت: 113 تا 121 مُدرِّس: شیخ التفسیر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریمسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پورناظم اعلی ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ *0:00 آغاز درس 2:33 بنی اسرائیل کی خرابیوں کا تذکرہ، زوال یافتہ دور میں فرقہ وارانہ گروہیتیں3:24 "وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ ۪-وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ" میں یہود و نصاری کی مسخ شدہ مذہبیت کا ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانا اور ایک دوسرے کا انکار کرنا5:26 عجیب بات ہے کہ دونوں گروہ ایک ہی کتاب تورات پڑھ کر ایک دوسرے کا انکار کرتے "وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ" آج کا مسلمان بھی یہود و نصاری کی اسی خصلت کا شکار 6:36 اہلِ کتاب یہود و نصاریٰ کی طرح جاہل بت پرست(مشرکین مکہ) اور آتش پرست (صائبین) معمولی اختلاف کی بنا پر دوسروں کو کافر قرار دیتے ہیں "كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ"8:07 اب ان کے فرقہ وارانہ اختلافات اور ایک دوسرے کا انکار کرنے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت کرئے گا"فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ"8:47 "وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا" میں قرآن حکیم نے اللہ کے نام کی سربلندی کے لیے بننےوالی عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور خرابی و ویرانی کی ممانعت بیان کی ہے14:07 حضرت مولانا محمد قاسم ناناتویؒ کا مساجد و مراکز کے فرقہ وارانہ جھگڑے ختم کا واقعہ17:06 آج کا مذہبی طبقہ مساجد میں اللہ کا نام لینے میں سب سے بڑی رکاوٹ اور انہیں بےآباد کرنے کا ذریعہ19:43 "لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ" میں مساجد و مراکز میں خرابی پیداکرنے والوں کے لیے دنیا کی ذلت و رسوائی (سیاسی غلامی و معاشی بدحالی) اور آخرت کا بڑا عذاب تیار21:22 یہود کا قبلہ کی بنیاد پر اختلافات اور جھگڑے پیدا کرنا اور "وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ-فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ-اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ" میں ان جھگڑوں کو ختم کرنے کا بنیادی قانون واضح24:50 اللہ کے تعلق میں کسی کو شریک ٹھہرانا درست نہیں کیونکہ تمام چیزیں اسی کی فرماں بردار ہیں "وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا-سُبْحٰنَهٗ-بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ-كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ" میں توحید کے نظریے پر اللہ کی حکمرانی تسلیم کرنے کا حکم27:00"بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ-وَ اِذَا قَضٰى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ" میں اللہ کے کمالِ اِبداع و خلق و تدبیر اور کائنات پر اسی ذات کے مکمل کنٹرول کا بیان29:09 "وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَا" میں اہل کتاب کی طرح جاہل مشرکین اور صائبین کا غلط مطالبہ جبکہ اللہ کے کلام کرنے اور وحی کے نزول کا طریقہ کار طے شدہ ہے32:25 اسی طرح کے سوالات پہلے بھی مسخ شدہ لوگ کرتے رہے ہیں " كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ"33:04 پہلے اور ان لوگوں کے دلوں میں کفر کی مشابہت ہے "تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ"33:43 "قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ" میں یقین رکھنے والی قوم کے لیے نشانیاں ہیں34:19 "اِنَّا اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا" میں حضرت محمدﷺکو دینِ حق عطا کرنے اور اس کے دو مقاصد کا بیان34:53 آپﷺ سے دینِ حق قبول نہ کرنے والے جہنمیوں سے متعلق سوال نہیں ہوگا"وَّ لَا تُسْــٴَـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ" 36:05 تمام یہود و نصاری کا اسلام قبول کر لینا ہرگزممکن نہیں "وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِـعَ مِلَّتَهُمْ" میں یہود و نصاری کی رجعت پسند ملتوں کی اتباع کرنا ان کی رضا کا باعث37:31 اللہ کا راستہ ہی دراصل سیدھا راستہ ہے"قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى" علم آ جانے کے بعد رجعت پسندوں کی اتباع کرنے کا انجام "وَ لَىٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ-مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ"39:25 صدقِ دل سے کتاب اللہ کی تلاوت کرنے والوں کی خصوصیت اور انکار کرنے والوں کا انجام "اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ"40:36 حضرت عبداللہ بن سلامؓ کا کتاب اللہ کی تلاوت کی بدولت حضورﷺ پر ایمان لانااور رجعت پسندیہود کا ہٹ دھرمی کی بنیاد پر انکار کرنا42:47 قرآن کی تلاوت کا حق ادا کرنے کا مطلب اور اس کا نتیجہ43:50 بنی اسرائیل کی خرابیوں کو تفصیلاً بیان کرنے کے مقاصد47:30 اگلی آیات سے دینِ ابراہیمیؑ کے اصل پیغام کی طرف یہود و نصاری کو رجوع کرنے کا حکم 48:06 حضرت مولانا عبیداللہ سندھیؒ کا انقلاب فکر و عمل کا پیغام ان آیات سے اخذ کرنا مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہؒ کے ترجمہ "فتح الرحمن" ، شاہ عبدالعزیز دہلویؒ کے ترجمہ "فتح العزیز" ، "موضح القرآن" از شاہ عبدالقادر دہلویؒ اور ان حضرات کے تراجم کا جامع ترین ترجمہ "موضحِ فرقان" از شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ پر مشتمل شیخ التفسیر حضرت اقدس مولانا مفتی شاہ عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ العالی کے سلسلہ وار دروس قرآنِ حکیمبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل () آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
Embed this episode
What this episode covers
سلسلہ دروسِ قرآن حضرت مولانا مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ مسند نشین خانقاہ عالیہ رحیمیہ رائے پور ناظم اعلی ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ لاہور پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرانیہ ، لاہور ۔ پاکستان
NOW PLAYING
27 Al-Baqrah 113-121
No transcript for this episode yet
Similar Episodes
No similar episodes found.