EPISODE · Jan 25, 2026 · 1H 41M
البدور البازغہ | 06 | طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت | مفتی عبد الخالق آزاد
from دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ · host Rahimia Institute of Quranic Sciences
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت درس: 06طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، الٰہی تجلیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت اور انسان کے مختلف مواطن میں وجود کا تصور(فاتحہ: فصل 3) مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة بتاریخ: 15؍ مارچ 2023ء / 22 شعبان المُعَظَّم 1444ھ بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:30 مقدمے کی پہلی دو فصلوں کی مباحث کا خلاصہ3:47 تیسری فصل میں چار بنیادی امور کا بیان5:22 کتاب کے اگلے تین مقالات کی تفہیم‘ مقدمے کی تین فصول کی فہم پر منحصر6:02 طبیعتِ انسانی اور اس کی سات خصوصیات9:20 (۱) وجودِ طبیعتِ انسانیہ اور انسانوں میں اس کی وحدت کی نوعیت10:28 ’’لمحات‘‘ کی روشنی میں وحدت کی حقیقت11:17 وحدت اور وجود کی مثال اشخاص کی طرح نہیں!12:10 (۲) انسانوں میں طبیعتِ انسانیہ کی بقاء کا پیمانہ13:07 اس گہری بات کو سمجھنے کے لیے شاہ صاحبؒ کی تاکید16:21 (۳) طبیعتِ انسانیہ کی وجہ سے انسانوں کی معلوم مقدار اور حد بندی17:55 (۴) نظرِ مُمعِن (گہری نظر) سے انسانی طبیعت کے امتیازی خواص کی فہم19:14 (۵) طبیعتِ انسانیہ کی انسانی صورت کا دوسری مخلوق سے اشتراک نہیں ہوگا20:30 (۶) مرتبۂ صفات اور ظرفِ زمان میں انسانی صورتیں الگ الگ تھیں22:59 (۷) ہر انسانی رُوح منفرد خصوصیات کے ساتھ ابتداءً ہی الگ شناخت کی حامل تھی25:32 دہر اور زمان کی حقیقت و دائرہ کار اور فلاسفہ کی کج فہمی کی نشان دہی28:00 تحقیقِ بلیغ کے بعد شاہ صاحبؒ کا طبیعتِ انسانیہ کی حقیقت سے متعلق سوال29:19 طبیعتِ انسانی کی اصل فطرت کی گہری حقیقت کا مطالعہ30:34 (الف) ہر حقیقت پر رحمٰن ذات کا فیضان اور کامل دسترس31:51 طبیعتِ انسانیہ پر رحمٰن کا فیضان اور صورتِ انسانیہ کا وجود33:59 (ب) ہر انسان پر فیضانِ رحمٰن کی صورت میں چار چیزیں ضرور آتی ہیں35:24 حجۃ اللہ البالغہ سے اس اصول کی توضیح37:01 (ج) طبیعتِ انسانیہ کے افاضہ کی حد اور نوعیت بھی طے شدہ37:33 اِفاضے کا معلوم وزن اور حد ‘رحمٰن کی شُئُون میں سے ایک شان کا اظہار38:51 انسان دنیا میں اسمائے الہیہ میں سے ایک خاص اسم جزئی40:05 فلاسفہ کی اصطلاح میں اسے عقلِ طِباعی کہا جاتا ہے42:05 حقائقِ کائنات پر فیضانِ رحمٰن کا قرآن و حدیث سے ثبوت کا سوال کرنے والوں کو تنبیہ45:04 بدورِ بازغہ پڑھنے والوں پر خبط سوار نہیں ہونا چاہیے!46:40 وحدتِ انسانیت کا بنیادی مرکز و مِحور؛ امامِ نوعِ انسانی47:24 فلاسفہ کے غلط تصوُّر کا ردّ48:43 ہر فلک اپنی حرکتِ دَوری کے لیے امام؛ فلکِ اَطلس کا محتاج؛ فلاسفہ کا مُسلَّمہ اُصول51:05 فلاسفہ ہر فلک کا امام مانتے ہیں لیکن انواعِ طبائعِ ارضیہ کے امام کے منکر کیوں؟53:01 بغیر امام اور ماڈل کے امت اور نوع کا وجود کیسے؟ فلاسفہ کی کمی فہمی پر سوال55:23 کتاب پڑھنے والے شک اور لالچ مت کر!57:20 اسمِ الہی کا طبیعت الکل، نفس الکل اور شخصِ اکبر میں سریان کا عمل59:29 طبیعت کا اشخاص میں سریان‘ نظرِ جلّی میں1:00:20 شخص کی اپنے اسم کے ساتھ نسبت کی وضاحت1:03:37 اسم کے تمام اثرات کامل طور پر ہر شخص میں پائے جاتے ہیں1:04:36 باریک بینی سے طبیعت کے اشخاص میں سرایت کے معاملے کی وضاحت1:05:07 (ا) تمام انسانوں میں جاری‘ تدبیر الکل؛ طبیعتِ انسانیہ سے وضاحت1:08:00 (ب) اسمِ جزئی کے ظُہور کے مختلف مراحِل سے وضاحت1:10:32 حدبُ الاسم کی بنیاد پر معرفتِ خداوندی یا نفس کی ساخت لیکن استعدادیں مختلف1:13:07 ہر انسان کی ترقیات اسمِ مربّی سے وابستہ ہیں1:14:09 کثرت سے ذکر کرنے والے ’’مفرِّدین‘‘ کو اُوپر کے دائرے کا علم تک رسائی1:15:40 کثرت سے ذکر کرنے والوں کے سامنے کائنات کی وحدتِ کبریٰ روشن1:16:46 (ج) تدبیرِ الٰہی کے تصادم سے اسمائے جزئیہ کا ٹکراؤ؛ اس مثال سے وضاحت1:18:25 ملّتوں کے تحت اسمائے جزئیہ سے مزید وضاحت1:19:11 ان تینوں علوم کا اِدارک صرف علمائے ربّانیین کو حاصل1:20:00 علماء باللہ کے ہاں اس کا نام ”هیأة سریانیة“1:21:07 کائنات‘ اسماءُ الحسنیٰ کا مَظہر1:22:51 امامِ نوعِ انسانی دراصل وہ اسماء ہیں جن کے تحت انسانی نظام کام کر رہا ہے1:24:27 اَشخاص میں مِسطرِ انسانی اور امامِ نوعِ انسانی کے مُعِدَّات کا فرق1:27:09 روزمرہ کے واقعات کا دو مرتبوں میں رحمٰن ذات کے زیرِ اثر وقوع1:28:41 ہر مُمکن الوجود ضرور وجود میں آئے گا1:30:28 حضرتِ انسان پر تمام اِماموں کا فیضان لیکن امامِ نوعِ انسانی حکمران1:31:38 عالمِ اَمر و عقل کی حقیقت1:33:22 ”دَرَّاکةُ الموجودةِ الکلِّ“ کی اصطلاح لانے کی وجہ1:34:11 عالمِ مُجرَّد و ناسوت میں کارفرماں قوتِ متوسِّطہ؛ عالمِ مثال اور اس کی شان1:35:36 مَشائیہ بھی عالمِ مثال کو قوتِ متوسِّطہ مانتے کے قائل1:36:38 عالمِ مثال کا مکمل مظَہر‘ خیالُ الْعرش1:37:42 انسان کے مختلف عوالِم میں چار وجود؛ 1-انسان کا وجودِ جبروتی 2- وجودِ روحانی1:38:33 3- وجودِ مثالی 4- وجودِ ناسوتی1:39:56 اگلے تین مقالوں میں عالمِ اجسام میں موجود انسان سے متعلق گفتگوبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔) آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا
NOW PLAYING
البدور البازغہ | 06 | طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت | مفتی عبد الخالق آزاد
No transcript for this episode yet
Similar Episodes
No similar episodes found.
Similar Podcasts
No similar podcasts found.