PodParley PodParley
دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ

PODCAST · religion

دُرُوس اَلبُدُورُ البَازِغَۃ

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’اَلبُدُورُ البَازِغَۃ‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمتمُدرِّس: ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغةبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

  1. 12

    البدور البازغہ | 09 | نفسِ ناطقہ، نسمہ اور قوائے اِنسانی: فلسفۂ اخلاق اور مملکتِ شخصیہ کے نظام کا ولی اللّٰہی مطالعہ

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت درس: 09(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 2)(نفسِ ناطقہ اور قلب  کی حقیقت و دائرۂ کار)نفسِ ناطقہ، نسمہ اور قوائے اِنسانی: فلسفۂ اخلاق اور مملکتِ شخصیہ کے نظام کا ولی اللّٰہی مطالعہ مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغةبتاریخ: 17؍ مئی 2023ء / 26 شوال المکرم 1444ھبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 پچھلے درس کا خلاصہ؛ پہلی فصل میں فلسفۂ اخلاق کا بیان✔️ دوسری فصل کے عنوان (نفسِ ناطقہ اور قلب) کی وضاحت✔️ نفسِ ناطقہ حقیقت؛ روح ملکوتی اور روح حیوانی کے باہمی ملاپ کا مرکز✔️ نفسِ ناطقہ فرد کی ”صورتِ شخصیہ“ کا نام✔️ صورۃِ شخصیہ کا پہلا انحصار جسم لطیف (نسمہ) پر ہے✔️  ”نسمہ“ کی اصطلاحی وضاحت✔️ نسمہ کی تعریف؛   کثیف بدن میں سرایت کر جانے والا لطیف و مربوط  بدن✔️  قوتوں اور اخلاق کے تناظر میں جسم میں نسمہ بننے کا عمل✔️ دل سے خون کے ایک حصے کی دماغ  کی طرف سپلائی اور حواسِ خمسہ ظاہرہ و باطنہ سے مخصوص افعال و احکامات کا اظہار✔️ حواسِ خمسہ باطنہ کے احکامات پورے جسم سے تعلق رکھتے ہیں ✔️ دل سے خون کے ایک حصے کا جگر کی طرف بہاؤ نیز تین اعضائے رئیسہ اور بدنی قوتوں کے افعال و اعمال✔️  قوائے قلب و دماغ کے باہمی تشابک کی وضاحت✔️ نسمہ ایک ”شہری نظام“، دل صورتِ شخصیہ کا ’’حاکم و بادشاہ‘‘ اور جگر ”محافظ“✔️ اور دماغ دل کا ’’وزیر‘‘ اور حواسِ ظاہرہ و باطنہ دماغ کے جاسوس✔️ قلب کی حقیقت؛ خود مختار حاکم، حکم نافذ العمل اور ماتحتوں کے لیے نافرمانی ناممکن✔️ مملکتِ شخصیہ کے نظام کی تباہی و بربادی؛ ماتحت (جگر و دماغ) کا دل (سردار) پر حاوی ہونا✔️ طاقت ور مُعاونین کے ہاتھوں مجبور اور کمزور دل کے فیصلوں کا تحلیل و تجزیہ✔️ وزیر کے کارندوں کی بغاوت اور کمزور دل کا بے اعتدالی و گناہ کا فیصلہ✔️ مضبوط دل‘ جگر و دماغ اور اس کے کارندوں کے غلط تقاضوں کو ردّ کر دیتا ہے✔️ تبدیلی نظام کے لیے انقلابِ ذات کی ناگزیریت✔️ انقلابِ ذات کے لیے قلب کی مضبوطی لازمی نیز مضبوطی قلب کے اذکار و اشغال✔️ مضبوط و مستحکم  دل والوں کی جماعت ہی  صحیح نظام بنا سکتی ہےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

  2. 11

    البدور البازغہ | 08 | انسانی امتیاز کے عناصر اور آفاقی معیار کا اخلاقی تشکیل میں کردار

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت درس : 08انسانی امتیاز کے عناصر اور آفاقی معیار کا اخلاقی تشکیل میں کردار، امام نوع اور عنایت ازلی کے تناظر میں(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 1) مُدرِّس : ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغةبتاریخ : 10؍ مئی 2023ء / 19 شوال المکرم 1444ھبمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور  ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ پچھلے درس کا خلاصہ؛ انسانی اخلاق کا فلسفہ✔️ حیوان  کی خصوصیات اور انسان کے امتیازات✔️  فلسفۂ اخلاق کے اصول کی وضاحت✔️ تین اصول‘ رائے کلی، حبِ جمال اور ایجاد و تقلید کی بنیاد پر حیوان سے امتیاز✔️ رائے کلّی، غضب اور شجاعت کا فلسفۂ اخلاق نیز ”شجاعت“ کی تعریف✔️ اچھے اور برے ہونے کے اعتبار سے غضب اور شجاعت میں حدِّ فاصل نیز شجاعت کی اہمیّت✔️ حکمت: رائے کلّی اور علم ذریعے ’’تکمّل بالاخلاق“✔️ ظرافت و حبِّ جمال سے علوم میں تفنّن و تنوّع اور عمدگی و رسوخ✔️ مضبوط آواز میں ”ظرافت“ سے بلاغت اور واضح کلام کا حصول✔️ رائے کلّی، تکمّل بالأخلاق اور مضبوط آواز سے فصاحت پر مبنی نئے اَسرار و حِکَم✔️ رائے کلّی سے تکبّر و انا پرستی کی تہذیب سے ”سماحت“ و ”وسعتِ قلبی“ کا خلق حاصل✔️ ”تکبّر و انا پرستی“ میں ”ظرافت“ شامل ہو جائے تو اسے ”سخاوت“، ”درگذر“ وغیرہ اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں✔️ ”نسوانیت کی طرف میلان“ کے جذبے کو رائے کلّی ”عفّت“ میں بدل دیتی ہے۔✔️ حاکم اور فقیر کی حیثیت سے اچھے اور برے اخلاق میں فرق و تمیز کا قانون✔️ فلسفۂ اخلاق کے چار آفاقی معیار✔️ انسان کی دو عقلیں: عقلِ معاشی اور عقلِ معادی اور ان کا الگ الگ دائرہ کار✔️ انسانی وجود کے چار خاص مراتب: وجودِ مثالی، وجودِ روحانی، اور وجودِ عینی✔️ فلسفۂ اخلاق کے حوالہ سے شعور اور مہارت ضروری ہے✔️ انبیاء، اولیاء اور سبھی انسانوں کے تمام علوم عنایتِ ازلی سے ہیں✔️عنایتِ اجمالی ایک ہے، مگر افراد میں آسمانی و زمینی اسباب کی وجہ سے فرق آتا ہے✔️ عنایت تو ازلی و وحدانی ہے الگ الگ زمانوں میں نت نیا ظہور ظاہری چیز ہے✔️ علومِ کسبیہ بھی عنایتِ ازلی سے آتے ہیں✔️ حاصلِ مطلببروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

  3. 10

    البدور البازغہ | 07 | تجلی رحمن کے تحت مرحلہ وار نظام وحدت، امام نوع کا تصور | مفتی عبد الخالق آزاد

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت درس: 07تجلی رحمن کے تحت مرحلہ وار نظام وحدت، امام نوع کا تصور اور انسانی وجود کے مراحل ونوعی خصوصیات اور نمونہ معیار(پہلا مقالہ: مبحثِ اول، فصل 1) مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغةبتاریخ: 03؍ مئی 2023ء / 12 شوال المکرم 1444ھبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور  ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:28 پچھلے دروس کا حاصل یعنی مقدمۂ کتاب کے مضامین کا خلاصہ1:47 1۔ ”الرحمن“ ہی وہ شانِ خداوندی ہے جسے فلاسفہ ”وجود اقصیٰ“ کہتے ہیں3:14 2۔ تمام موجودات و مخلوقات رحمان تعالیٰ کی حقیقتِ واحدہ کے احاطہ کے تحت ایک وحدت ہے4:00 3۔ وحدتِ کائنات میں سب مخلوقات میں افضل انسان اور تمام افرادِ انسانی خصوصیات میں متحد و متفق ہو کر ایک وحدت ہیں5:15 4۔ تمام مخلوقات براہِ راست ”الرحمٰن“ کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں6:47 5۔ انسانوں کی خصوصیات امام نوعِ انسانی کے تحت ہیں نیز امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت9:17 6۔ ہر نوع کے افراد میں پائی جانے والی خصوصیات اس نوع کے امام کے تحت ہیں اور یہ وحدۃ الوجود ہے۔12:02 7۔ انسانی وجود کے چار مراحل اور ہر مرحلے کی خصوصیات13:19 تفہیماتِ الٰہیہ کی عبارت سے انسانی وجود کے پانچ مراحل کی وضاحت، پہلا مرحلہ؛ امام الَاعیان16:50 دوسرا مرحلہ؛ عینِ انسانی کا وجود20:12 تیسرا مرحلہ؛ وجودِ روحانی (مرتبۂ عقلیہ)21:36 چوتھا مرحلہ؛ وجودِ مثالی22:53 پانچواں مرحلہ؛ وجودِ ناسوتی اور صورتِ شخصیہ کا فیضان25:00 اس حقیقی پسِ منظر کے پیشِ نظر انسان کی کامیابی کا آئین و قانون کیا ہونا چاہئے؟25:47 انسان کی مجموعی کامیابی پر مشتمل کتاب کے تین مقالات27:09 پہلا مقالہ؛ امامِ نوعِ انسانی کی طرف سے انسانی طبیعتوں میں اترنے والے احکام اور ان کی اساس پر وجود میں آنے والے انسانی اخلاق،ارتفاقات اور نظامات27:49 بدورِ بازغہ کے پہلے مقالے کی مباحث کا اجمالی جائزہ30:02 پہلے مقالے کی آخر بحث؛ مزاجِ انسانی31:43 فصلِ اولّ: نوعِ حیوانی کی خصوصیات اور پھر اس میں نوعِ انسانی کے امتیازات33:04 1۔ نوعِ حیوانی میں دو طرح کے خاص آثار33:45 نوعِ حیوانی کے آثارِ ظاہرہ؛ مخصوص رنگ، شکل، مقدار اور شکل و صورت35:24 نوعِ حیوانی کے آثارِ باطنہ؛ مخصوص درجے کا  ادراک اور ضروریات پوری کرنے کا فہم41:05 2۔ شہد کی مکھی اور چڑیا کی زندگی‘ مخصوص ادراک اور فہم  کی واضح مثال42:58 3۔ فلسفیوں کے غلط  تصور پر عقلی سوال اور ان کی کمزور اور غلط رائے کی تردید44:13 اس سے بڑھ کر کمزور اور غلط رائے اور کیا ہو گی کہ ان نوعی خصوصیات کو مان کر بھی صورۃِ نوعیہ اور امامِ نوع کے تقاضے اور نظام کو نہ مانا جائے۔47:33 یہ دراصل شاہ صاحبؒ نے میبذی کے غلط تصور کا رد کیا ہے48:52 نوعِ انسانی کی حیوانی اَنواع  سے اصولی امتیازات49:53 انسانی خواص؛ اجتماعی مفاد کا جذبہ، گویائی، لکھنے کی صلاحیت اور ظرافت (انسانوں کی امتیازی خصوصیات کے تین اصول)50:34 1 ۔ اجتماعی مفاد کا جذبہ51:10 جانور اور انسان کے انبعاث و ابھار میں بنیادی فرق55:47 2۔ ظرافت(حُبِّ جمال اور مہارت و عمدگی)56:07 جانور اور انسان کی ظرافتِ طبعی میں بڑا فرق57:38 3۔ ایجاد و تقلید، یعنی اخلاق و علوم کی ترقی کے ذریعے اپنی تکمیل کے لئے کام کرنا58:23 حیوانی علوم اور انسانی علوم میں فرق و امتیاز59:52 حجۃ اللہ البالغہ کی عبارت سے ایجاد و تقلید کی تفصیل1:00:56 انسان کے مخصوص آثار کی بنیاد یہی تین اصولوں1:01:56 نوعِ حیوانی و نوعِ انسانی کے افراد کے کمال کا معیار  کیا ہے؟1:03:25 جس فردِ انسانی میں کامل درجہ کی صلابت، اتّصال اور صفائیت ہو گی وہی کامل و اکمل انسان ہو گا1:04:46 انسانوں میں کامل ترین شخص کا معیار1:06:12 انسانی زندگی کے لئے  معیار اور قانون کون بنے گا؟1:06:57 اصل سوال: انسانوں میں اخلاق کہاں سے پیدا ہوتے ہیں؟1:08:46 انسانی زندگی کے مرحلے میں اکمل انسان ہی معیار اور قانون ہے1:09:29 ارتفاقات و اقترابات کے اصولی مراحل میں حضرت ابراہیم ؑمعیار اور قانون ہیں1:12:26 معرفتِ الٰہی اور جزائے اعمال کے مراتب کو سمجھنے کے لئے ایک واضح مثال1:13:38 اچھے ماحول میں پرورش پانے والے نَر چوپائے کی جسمانی خصوصیات1:15:54 ایسے نر جانور کی روحِ حیوانی کے امتیازی خصائص1:18:11 ”يحِبُّ الرّياسة“ کی تشریح1:19:50 بعض افراد اس مثالی  فرد سے کم تر ہوتے ہیں؛ دو بنیادی وجوہات1:22:08 حیوانی صفات پر انسان کو قیاس کر لو! یہی فلسفۂ اخلاق ہےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

  4. 9

    البدور البازغہ | 05 | ہُیولی و صورت کا فلسفی نظریہ، شاہ ولی اللہ کی نظر میں | مفتی عبد الخالق آزاد

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت درس: 05(فاتحہ: فصل 2)ہُیولی و صورت کا فلسفی نظریہ، شاہ ولی اللہ کی نظر میں اور کائناتی ارتقاء میں تشابک کی نئی تعبیر مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة بتاریخ: 08؍ مارچ 2023ء / 15 شعبان المُعَظَّم  1444ھ بمقام؛ ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:24 سابقہ درس کا مَاحَصَل1:53  فلاسفہ کا مشہور وہم؛ ہُیُولیٰ و صورتِ جسمیہ کے تشابُک کی حقیقت کا تحلیل و تجزیہ3:29 حکماء کے نزدیک صورتِ عامَّہ کا مفہوم5:23 ہیولیٰ کی لغوی و اصطلاحی توضیح7:19 ارسطو کا ہیولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے تشابُک کا فرسودہ نظریہ7:56 ارسطو کے مقابلے میں دیمقراطیس کا معتدل نقطۂ نظر8:35 ہیولیٰ اور صورتِ جسمیہ کا تصور‘ دینِ اسلام کی تعلیمات سے متصادم9:21 کائنات ایٹموں کا مجموعہ‘ حکماء کا اسے ماننے سے انکار12:02 صورت اور ہیولیٰ کے مزعومہ نظریے پر شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا عقلی سوال13:06 شاہ صاحبؒ کا ہیولیٰ و صورتِ جسمیہ کے تشابک کے نظریے کا سرے سے رد18:52 بعض مسلمان حکماء کی ہیولیٰ کو ثابت کرنے کے لیے قرآنی آیت سے بے جا استدلال کی کوشش20:55 مثالی قوتیں بھی شکل و صورت رکھتی ہیں23:59 تجلی کے چار درجات اور اونچے درجے کی تجلی؛ تجلیِ جبروتی24:55 شرف و دِناءَت کے اعتبار سے صورتوں کی فطری بناوٹ27:07 شخصِ انسانی پانچ صورتوں کا مجموعہ28:39 جسمِ انسانی میں ہر صورت اپنے آثار کی وجہ سے ممتاز30:40 پہلا مسئلہ؛ صورتوں کے درمیان تشابک کی حقیقت35:31 نظریۂ ارتقاء کے تناظر میں صورتِ معدنیہ کے تشابک کی حقیقت36:43 تفہیماتِ الٰہیہ میں ارتقاءِ کائنات کے چار ادوار پر بحث، پہلا دور؛ معدنیات40:12 دوسرا دور؛ معدنیات کی ترقی یافتہ شکل پر صورتِ نباتیہ کا فیضان43:20 صورتِ نباتی پر رحمٰن کی نظرِ رحمت45:34 تیسرا دور؛ صورتِ نباتیہ کی تَکَفُّفِ حالی سے صورتِ حیوانیہ کا وجود47:01 چوتھا دور؛ صورتِ حیوانیہ پر صورتِ انسانیہ کا فیضانِ رحمٰن50:31 صورتِ انسانیہ کی تین خصوصیات اور آدمیت پر اللہ کی نظرِ رحمت51:10 انسانیت کی خصوصیات؛ حضرت آدمؑ؛ خلاصۂ کائنات، عالَمِ صغیر اور خلافتِ ارضی کے حامل52:0953:29 تفہیماتِ الٰہیہ اور البدور البازغہ میں ارتقاء کائنات کی بحث کے فرق کی بنیادی وجہ54:48 دوسرا تشابک؛ صورتِ نامیہ کے اشتباک کی حقیقت56:25 تیسرا تشابک؛ صورتِ حیوانیہ کی حیاتِ سابغہ56:48 چوتھا تشابک؛ رحمٰن ذات کی طرف سے صورتِ انسانیہ کا فیضان انسان میں تمام صورتوں کے تشابک کی لازمی شرط58:11 دوسرا مسئلہ: ہر اگلی صورت کو زیادہ شرف اور کمال حاصل ہونے کا راز59:02 کمالِ ناجز کی حقیقت و معنویت1:02:01 معنی ناجز کی مثال سے وضاحت1:03:31 معنی ناجز کو سمجھنے کے لیے گردوپیش کے حقائق کا جائزہ1:04:55 دورِ جدید کی عام فہم مثال سے حضرت اقدس مدظلہ العالی کی وضاحت1:07:32 ہرصورتِ میں تکاثف و اتصال، استواء و صقالہ کے درجات کے تناظر میں معنی ناجز کی توضیح1:11:43 عالمِ اِبداع و خلق کے دائرے میں معنی ناجز    کا راز1:12:49 پہلا درجہ: صورتِ معدنیہ میں معنی ناجز کے اثرات و نتائج1:14:48 دوسرا درجہ: صورت نامیہ میں معنی ناجز  کی مزید خصوصیات1:16:49 تیسرا درجہ: حیوانیت کے ظاہر و باطن میں معنی ناجز کے خواص وتاثیرات1:17:28 چوتھا درجہ: انسان میں معنی ناجز کی دو بڑی خصوصیات1:18:13 پانچواں درجہ: ہر فردِ انسانی میں منفرد معنیٰ ناجز  پنہاں1:19:09 ہر وجود میں آنے والی صورت کے مَناط اورمِحوَر کی تشریح1:20:39 انسان میں صورتِ نامیہ کے عُقدَہ کا مناط' صورتِ معدنیہ ہے1:25:36 صورتِ حیوانیہ کے عقدہ کا مناط1:27:04 صورتِ انسانیہ کی گِرہ کامناط1:28:07 صورتِ شخصیہ کا یونیک مناط1:29:11 سَیر الی اللہ اور ہر انسان کا مُرَبِّی اسم 1:30:40 صورتِ انسانیہ کا شرف و کمال1:31:36 حکماء و فلاسفہ کا نواں وہمِ ظلمانی؛ انواع و اجناس کا خود ساختہ نظریہ1:33:51 فلاسفہ کا ارتقاء کا نقطۂ نظر قطعاً غلط1:38:42 اہم بات؛ سیر  الی اللہ یا سلوک کا اعلیٰ معیار✔️ حاشیے میں تفہیماتِ الٰہیہ کی عبارت سے سلوک  کی وضاحتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

  5. 8

    البدور البازغہ | 06 | طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت | مفتی عبد الخالق آزاد

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت درس: 06طبیعتِ انسانیہ کی مبادیات، الٰہی تجلیات، امامِ نوعِ انسانی کی حقیقت اور انسان کے مختلف مواطن میں وجود کا تصور(فاتحہ: فصل 3) مُدرِّس: ولی اللہی محققِ عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغة بتاریخ: 15؍ مارچ 2023ء / 22 شعبان المُعَظَّم  1444ھ بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:30 مقدمے کی پہلی دو فصلوں کی مباحث کا خلاصہ3:47 تیسری فصل میں چار بنیادی امور کا بیان5:22 کتاب کے اگلے تین مقالات کی تفہیم‘ مقدمے کی تین فصول کی فہم پر منحصر6:02 طبیعتِ انسانی اور اس کی سات خصوصیات9:20 (۱) وجودِ طبیعتِ انسانیہ اور انسانوں میں اس کی وحدت کی نوعیت10:28 ’’لمحات‘‘ کی روشنی میں وحدت کی حقیقت11:17 وحدت اور وجود کی مثال اشخاص کی طرح نہیں!12:10 (۲) انسانوں میں طبیعتِ انسانیہ کی بقاء کا پیمانہ13:07 اس گہری بات کو سمجھنے کے لیے شاہ صاحبؒ کی تاکید16:21 (۳) طبیعتِ انسانیہ  کی وجہ سے انسانوں کی معلوم مقدار اور حد بندی17:55 (۴) نظرِ مُمعِن (گہری نظر) سے انسانی طبیعت کے امتیازی خواص کی فہم19:14 (۵) طبیعتِ انسانیہ کی انسانی صورت کا دوسری مخلوق سے اشتراک نہیں ہوگا20:30 (۶) مرتبۂ صفات اور ظرفِ زمان میں انسانی صورتیں الگ الگ تھیں22:59 (۷) ہر انسانی رُوح منفرد خصوصیات کے ساتھ ابتداءً ہی الگ شناخت کی حامل تھی25:32 دہر اور زمان کی حقیقت و دائرہ کار اور فلاسفہ کی کج فہمی کی نشان دہی28:00 تحقیقِ بلیغ کے بعد شاہ صاحبؒ کا طبیعتِ انسانیہ کی حقیقت سے متعلق سوال29:19 طبیعتِ انسانی کی اصل فطرت کی گہری حقیقت کا مطالعہ30:34 (الف) ہر حقیقت پر رحمٰن ذات کا فیضان اور کامل دسترس31:51 طبیعتِ انسانیہ پر رحمٰن کا فیضان اور صورتِ انسانیہ کا وجود33:59 (ب) ہر انسان پر فیضانِ رحمٰن کی صورت میں چار چیزیں ضرور آتی ہیں35:24 حجۃ اللہ البالغہ سے اس اصول کی توضیح37:01 (ج) طبیعتِ انسانیہ کے افاضہ کی حد اور نوعیت بھی طے شدہ37:33 اِفاضے کا معلوم وزن اور حد ‘رحمٰن کی شُئُون میں سے ایک شان کا اظہار38:51 انسان دنیا میں اسمائے الہیہ میں سے ایک خاص اسم جزئی40:05 فلاسفہ کی اصطلاح میں اسے عقلِ طِباعی کہا جاتا ہے42:05 حقائقِ کائنات پر فیضانِ رحمٰن کا قرآن و حدیث سے ثبوت کا سوال کرنے والوں کو تنبیہ45:04 بدورِ بازغہ پڑھنے والوں پر خبط سوار نہیں ہونا چاہیے!46:40 وحدتِ انسانیت کا بنیادی مرکز و مِحور؛ امامِ نوعِ انسانی47:24 فلاسفہ کے غلط تصوُّر کا ردّ48:43 ہر فلک اپنی حرکتِ دَوری کے لیے امام؛ فلکِ اَطلس کا محتاج؛ فلاسفہ کا مُسلَّمہ اُصول51:05 فلاسفہ ہر فلک کا امام مانتے ہیں لیکن انواعِ طبائعِ ارضیہ کے امام کے منکر کیوں؟53:01 بغیر امام اور ماڈل کے امت اور نوع کا وجود کیسے؟ فلاسفہ کی کمی فہمی پر سوال55:23 کتاب پڑھنے والے شک اور لالچ مت کر!57:20 اسمِ الہی کا طبیعت الکل، نفس الکل اور شخصِ اکبر میں سریان کا عمل59:29 طبیعت کا اشخاص میں سریان‘  نظرِ جلّی میں1:00:20 شخص کی اپنے اسم کے ساتھ نسبت کی وضاحت1:03:37 اسم کے تمام اثرات کامل طور پر ہر شخص میں پائے جاتے ہیں1:04:36 باریک بینی سے طبیعت کے اشخاص میں سرایت کے معاملے کی وضاحت1:05:07 (ا) تمام انسانوں میں جاری‘ تدبیر الکل؛ طبیعتِ انسانیہ سے وضاحت1:08:00 (ب) اسمِ جزئی کے ظُہور کے مختلف مراحِل سے وضاحت1:10:32 حدبُ الاسم کی بنیاد پر معرفتِ خداوندی یا نفس کی ساخت لیکن استعدادیں مختلف1:13:07 ہر انسان کی ترقیات اسمِ مربّی سے وابستہ ہیں1:14:09 کثرت سے ذکر کرنے والے ’’مفرِّدین‘‘ کو اُوپر کے دائرے کا علم تک رسائی1:15:40 کثرت سے ذکر کرنے والوں کے سامنے کائنات کی وحدتِ کبریٰ روشن1:16:46 (ج) تدبیرِ الٰہی کے تصادم سے اسمائے جزئیہ کا ٹکراؤ؛ اس مثال سے وضاحت1:18:25 ملّتوں کے تحت  اسمائے جزئیہ سے مزید وضاحت1:19:11 ان تینوں علوم کا اِدارک صرف علمائے ربّانیین کو حاصل1:20:00 علماء باللہ کے ہاں اس کا نام ”هیأة سریانیة“1:21:07 کائنات‘ اسماءُ الحسنیٰ کا مَظہر1:22:51 امامِ نوعِ انسانی دراصل وہ اسماء ہیں جن کے تحت انسانی نظام کام کر رہا ہے1:24:27 اَشخاص  میں مِسطرِ انسانی اور امامِ نوعِ  انسانی کے مُعِدَّات کا فرق1:27:09 روزمرہ کے واقعات کا دو مرتبوں میں رحمٰن ذات  کے زیرِ اثر وقوع1:28:41 ہر مُمکن الوجود ضرور وجود میں آئے گا1:30:28 حضرتِ انسان پر تمام اِماموں کا فیضان لیکن امامِ نوعِ انسانی حکمران1:31:38 عالمِ اَمر و عقل کی حقیقت1:33:22 ”دَرَّاکةُ الموجودةِ الکلِّ“ کی اصطلاح لانے کی وجہ1:34:11 عالمِ مُجرَّد و ناسوت میں کارفرماں قوتِ متوسِّطہ؛ عالمِ مثال اور اس کی شان1:35:36 مَشائیہ بھی عالمِ مثال کو قوتِ متوسِّطہ مانتے کے قائل1:36:38 عالمِ مثال کا مکمل مظَہر‘ خیالُ الْعرش1:37:42 انسان کے مختلف عوالِم میں چار وجود؛ 1-انسان کا وجودِ جبروتی 2- وجودِ روحانی1:38:33 3- وجودِ مثالی 4- وجودِ ناسوتی1:39:56 اگلے تین مقالوں میں عالمِ اجسام میں موجود انسان سے متعلق گفتگوبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

  6. 7

    البدور البازغہ | 04 | تخلیق کائنات، نفس (روح) اور صورت کا باہم ربط و تعلق | مفتی عبد الخالق آزاد

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و بُرھَانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُروسِ حکمت درس: 04(فاتحہ؛ فصل 2) تخلیق کائنات، نفس (روح) اور صورت کا باہم ربط و تعلق؛ فلاسفہ کے مغالطے اور ولی اللہی نقد مُدرِّس: ولی اللہی علوم کے محققِ عصر حضرت مولانا مفتی شاہ عبد الخالق آزاد رائے پوری مُؤَلِّف "اَلنُّجُومُ السَّاطِعَة" شرح اَلبُدُورُ البَازِغَة بتاریخ: 01؍ مارچ 2023ء / 08 شعبان المُعَظَّم  1444ھ بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇✔️ مقدمہ کی پہلی فصل کا خلاصہ✔️ ”العرش“ و ”الماء“ (عرش اور پانی) کی تخلیق اور ان کے ملاپ سے کائنات کا وجود✔️ دوسری فصل میں پانچ اُمور زیرِ بحث✔️ پہلی بحث؛ نفس (روح) اور صورت کے باہمی ربط و تعلق میں فلاسفہ کی غلط فہمیاں✔️مسلمہ قاعدہ؛ موجودات میں طبائع جوہریہ و ارضیہ کا ملاپ✔️ ہر تخلیق کے مخصوص خواص، اس سے جدا نہیں ہو سکتے!✔️ طبائعِ عرضیہ کا وجود‘طبائع جوہریہ کے بغیر ممکن نہیں!✔️ موجودات کے مشترکہ آثار و خواص✔️ اس اصول کی اساس پر صورتِ جسمیہ کی تخریج✔️ صورتِ جسمیہ کے چار ضروری اُمور؛ ✔️ ۱۔جسم کی کوئی شکل ہوگی۔✔️ شکل کی تعریف اور مثال سے وضاحت✔️ ۲۔ ہر جسم کسی نہ کسی حَیِّز (مکان) میں ہوگا✔️ ۳۔ زمان کے بغیر کوئی جسم اپنا وجود نہیں رکھتا!✔️ ۴۔ جسم  کی کمیت (مقدار)✔️ موجودات صورتِ جسمیہ رکھتی ہیں✔️ صورتِ جسمیہ کی اگلی شکل”صورتِ عُنصُریہ“✔️ عُنصُر کی تعریف  ✔️ ہرعنصر جداگانہ خصوصیت کا حامل، مثالوں سے وضاحت✔️ فلکیاتی عناصر کی خصوصیات✔️ عناصر ارضیہ و فَلَکیہ کے مَوَالِید پر اثرات اور صورتِ مُتَوَلِّدَہ کا وجود ✔️ صورتِ نامِیہ کا ارتقاء✔️ صورتِ حیوانیہ اور اس کی خصوصیات✔️ صورتِ انسانیہ کے تحت صورتِ شخصیہ✔️ نُفُوس و صُوَر کا  باہمی تَشَابُک✔️ فلاسفہ کا مغالطہ؛ نفوس‘ صور کا حصہ نہیں۔ شاہ صاحبؒ کا اس پر رد✔️ مولانا سندھیؒ کی شرح و توضیح✔️ شاہ صاحبؒ کی حکماء کے مغالطے پر کڑی تنقید✔️ فلاسفہ کی کم فہمی پر دلیل✔️ فلاسفہ کے مغالطے کی وضاحت✔️ صورتوں سے متعلق "الخیر الکثیر" میں بنیادی اُصول اور ضابطہ✔️ نفوس اور صورتوں کے درمیان افتراق کا غلط نظریہ✔️ اگلے درس میں ہُیُولیٰ اور صورتِ جسمیہ کے تَشَابُک کے بارے میں گفتگوبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

  7. 6

    البدور البازغہ | 03 | فلاسفہ مَشائیہ کے چوتھے وہمِ ظلمانی کا محققانہ جائزہ | مفتی عبد الخالق آزاد

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت درس: 03(فاتحہ؛فصل 1)فلاسفہ مَشائیہ کے چوتھے وہمِ ظلمانی کا محققانہ جائزہ مُدرِّس: ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغةبتاریخ : 01؍ فروری 2023ء / 09 رجب المرجب 1444ھبمقام : ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:18 سابقہ درس کا خلاصہ1:29 حقائقِ کائنات پر غور و فکر کرنے والوں کے مختلف طبقات اور نتائجِ فکر3:32 خالق و مخلوق کے تعلق پر غور وفکر کرنے والے حضراتِ انبیاءعلیھم السلام4:30 انبیاءؑ کے بعد، مُحَدَّثین کا اس غور و فکر  میں درجۂ کمال5:08 مُحَدَّث؛ نبی کی بات کو عقل و برہان اور شعور و فہم کے ساتھ سمجھنے والا6:30 مُحَدَّثین کے بعد، اس غور وفکر صوفیائے کِرام کا درجہ7:31 فلسفۂ مَشائیہ و اِشراقیہ کے بانیان؛ ارسطو و افلاطون8:46 حقائقِ کائنات کے مادی فلسفے سے اختلاف اور اِشراق  کی بنیاد10:15 فلسفۂ مشائیہ کے عرب فقہاء ؛مالکیہ و شوافع پر گہرے اثرات11:49 ارسطو کی تعلیمات کے زیرِ اثر مسلمان فلاسفہ ؛ بو علی سیناؒ و ابن رشد ؒ12:38 فلسفۂ اشراق کے زیرِ اثر مسلمان صوفیائے کِرامؒ13:40 شیخ شہاب الدین مقتولؒ کا افلاطون کے نظریۂ اِشراق کا احیاء14:50 مشائیہ کے زیرِ اثر صوفیاء کے ایک سلسلے کا المیہ16:22 مشائیہ کے ناقص اور ادھورے تصورات آج بھی درس نظامی کے نصاب کا حصہ17:33 مشائیین کا واجب الوجود یا وجود اقصی کی حقیقت کو مجبوراً تسلیم کرنے کا فلسفہ20:15 وجودِ اقصیٰ کے بارے میں مشائیین کی دو بڑی غلط فہمیاں اور شاہ صاحبؒ کا ردّ24:53 حقیقتِ واجبہ یا حقیقتِ قُدسیہ سے متعلق فلاسفہ کے تیسرے وہم کا عقلی رد30:31 صادرِ اول اور حقیقتِ قصویٰ میں عنوان اور مفہوم کی نسبت‘ مثال سے وضاحت32:35 حکمتِ ربّانیہ کی اصطلاح میں صادرِ اول  کے مختلف نام 34:19 صادرِ اول‘ دراصل وجودِ اقصیٰ کی تجلی ہے36:24  ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلیاتِ مطلقہ میں آخری تجلئ بحت‘ کل موجودات کی مبدأِ اول36:52 ’’موجود الکل‘‘ شاہ صاحبؒ کی ایک اصطلاح 37:30 الرحمٰن؛ عرش سے لے کر فرش تمام مخلوقات کا مبدأِاول نیز اسمِ ذات کا عنوان40:15 مشائیہ کا چوتھا وہمِ ظُلمانی؛ حقائقِ کائنات ایک وحدت کے تحت مجتمع نہیں ہیں45:21 کائنات ایک کلمے سے پیدا ہوئی ہے تو موجود الکل میں وحدت کیوں نہیں؟چوتھے وہم ظلمانی کا عقلی رد 46:29 وحدتِ کی حقیقت اور درجات کے تناظر میں شخصِ اکبر کی وحدت کی توضیح  47:38 شخصِ اکبر کے عالم گیر تدبیرِ وُحدانی کے تحت کام کرنے پر دلائل51:06 فلاسفہ و صوفیاء کے علومِ باطنہ میں عالمگیر تدبیر ِ وحدانی کا اعتراف موجود ہے 52:30 فلاسفہ  مشائیہ کے ہاں تدبیر وحدانی کے اعتراف کا ذکر56:16 فلک الافلاک کے اوپر شخصِ اکبر میں تدبیرِ وحدانی کیوں کام نہیں کر رہی؟ فلاسفہ کا رد57:32 تدبیرِ وُحدانی اصحابِ شرائع کے ہاں تسلیم شدہ58:34 تدبیرِ وحدانی کا کنٹرول رحمان ذات کے قبضے میں ہے59:53 دنیا میں صفتِ رحمٰن اور آخرت میں صفتِ رحیم کا اظہار 1:01:58 صفتِ رحمان کے اوصاف کی عمومیت1:04:49 اسمِ رحمان کی حقیقت؛ کائنات کی ہر شے سے براہ راست تعلق1:07:07 ’’الرحمٰن‘‘ ہر انسان کے تقرّر اور زندگی کے تمام مراحل کا واحد ذریعہ1:11:35 الرحمٰن اسمِ بحت میں کوئی تکثر نہیں! فلسفیوں کے وہمی سوال کا جواب1:13:26 کسی نوع یا شخص کے مُخَصَّصَات کے تقاضوں کی تکمیل کے بعد اِعطاءِ وجود1:16:32 مُخَصَّصَات کہاں سے آتے ہیں؟ اس عقلی سوال کے جواب میں شخصِ اکبر میں تین طرح کی قوّتیں اور ان کے حاملات کی تفصیلات1:17:37 شخصِ اکبر میں پہلی قوت طبیعت الکل ہے1:19:58 دوسری قوت؛ قُوَائے اِدراکیہ1:21:11 تیسری قوت؛ اِلٰہی قوتیں1:22:23 ان قوتوں کے جِبِلی و فطری ملاپ کے شخصِ اکبر پر اثرات ونتائج1:26:13 صوفیاء و فلاسفہ کے ہاں حقیقتِ مجرّدہ کی مختلف تعبیرات1:27:01 شاہ صاحب ؒ کی اصطلاح میں حقیقتِ مجردہ کو’’اعیانِ ثابتہ‘‘ کہا جاتا ہے۔1:27:55 ہر نوع کا امام  ’’عین‘‘ کہلاتا ہے نیز ہر نوع کے مُخصّصات کا تعیّن1:29:43 صوفیاء ’’باطن الوجود“   کو حقیقتِ مجردہ سمجھ کر، رک گئے1:30:37 صوفیاء نے وجودِ اقصیٰ تک جانے کا آسان راستہ اختیار نہیں کیا1:31:32 شاہ صاحبؒ کو وجودِ اقصیٰ تک جانے والی شاہراہ پر چلنے کی توفیق ہوئی1:32:06 سلوک الی اللہ کے راستے ؛ نیز کاملین کا درجہ' سب سے اعلیٰ 1:33:21 صوفیاء کی حالت ؛ اسمائے الٰہیہ کے باطن میں فنا اور ظاہر سے بے خبر1:34:16 مشائیہ کے فتنے کے دور میں اشراقی فلاسفہ کے حقیقی علوم کا خاتمہ 1:35:48 فاتحہ کی مباحث‘ مشائیین اور اشراقیین کے تفصیلی نقطۂ نظر کی متحمل نہیں!1:37:17 موجودات میں علت و معلول کا نظام1:38:34 علت و معلول کے نظام کی علتِ اولیٰ ؛ ذاتِ باری تعالیٰ تک رسائی1:40:57 ہر وقوع پذیر ہونے والے حادثے کو صورت' عطاء کرنے والی ’’اَلرَّحمٰن‘‘ ذات1:42:23 ذاتِ باری تعالیٰ کا ہر صورت پر احاطہ اور مظہر کمال1:42:56 ہر صورتِ خاصہ کے معرضِ وجود سے پہلے مطلوبہ استعداد کی ضرورت1:44:39 روز مرہ کے حوادث میں  رحمٰن ذات کی قضاء کا لزوم1:45:26  اہلِ برہان اور اصحاب الشرائع کے حالات کا جائزہ اور شاہ صاحبؒ کی علمی نصیحتبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

  8. 5

    البدور البازغہ | 02 | وجودِ اقصیٰ صادرِ اول کی حقیقت سے متعلق فلاسفہ کے اوہام ظلمانی کا تحقیقی جائزہ

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت درس: 02(فاتحہ؛ فصل 1)وجودِ اقصیٰ اور صادرِ اول کی حقیقت سے متعلق فلاسفہ کے اوہام ظلمانی کا تحقیقی جائزہمُدرِّس: ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغةبتاریخ: 25؍ جنوری 2023ء / 02 رجب المرجب 1444ھبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:20 محققین کی مسائلِ حکمت و حقائق کی تفتیش و تحقیق اور امام شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا نکتۂ نظر2:23 پہلی فصل میں وجودِ اقصیٰ، صادرِ اول اور تدبیرِ وحدانی کی تحقیق3:29 فاتحہ میں حکماء کی دس بڑی غلطیوں کی نشان دہی4:35 حکماء و محققین کی زیادہ تر حکمتِ الٰہیہ میں غلطیاں و کوتاہیاں5:56 حکمت و فلسفہ کا پہلا سکول آف تھاٹ  ہندستان تھا8:14 منطق و فلسفہ کا آخری سکول آف تھاٹ9:36 یونانیوں کے دو بنیادی گروہ؛ مشائین اور اشراقیین نیز علومِ طب کی دریافت11:20 فلکیاتی علوم کی ایجاد12:12 خالق و مخلوق کے درمیان رابطے کا نظام14:38 مرورِ زمانہ سے انبیاء کی تعلیمات میں تحریفات کا سلسلہ شروع ہوا15:48 مخلوقات کی اشتراکی وامتیازی خصوصیات19:11 ما بہ الاشتراک کی اساس پر کائنات پر غوروفکر اور وجود کی تحقیق و تفتیش23:55 وجود کی تین قسمیں24:59 وجودِ اقصیٰ کا اطلاق26:11 وجودِ اقصی کی حقیقت کے حوالے سے غلط فہمیوں کا ازالہ27:10 وجودِ اقصیٰ کا تعلق عقل سے نہیں‘ فلاسفہ کا وہم ظلمانی27:48 ظلمانی وہم کا تعلق حجابات سے ہے28:23 حکماء اور عقلاء پر حجابِ سوءِ معرفہ کا غلبہ30:14 وجودِ اقصیٰ وجود  کا ایک فرد‘ فلاسفہ کے پہلے وہم ظلمانی کا رد33:22 منطق و فلسفہ کے عالم ملا صدر الدین شیرازی کی کج فہمی34:23 وجودِ اقصیٰ‘ وجود کا فرد نہیں؛ فلاسفہ کے عقلی دلائل35:52 کائنات کی تمام موجودات پر وجودِ اقصیٰ احاطہ کیے ہوئے ہے36:58 لفظِ ’’الوجود‘‘ کا مفہوم انتزاعی ہے، تو وجودِ اقصیٰ اس کافرد کیسے ہوا؟38:59 تمام حقائق کے مراکز‘حقیقتِ قصویٰ کے تحت درج اور اسکی شرح و تفصیل41:52 لمحات میں وجودِ الاقصیٰ کے لیے ”أول الأوائل“  کی اصطلاح42:18 شریعت کی رو سے وجودِ اقصیٰ دراصل اسم”الرحمٰن“ ہے45:09 حقائق کائنات سر متعلق انبیاء کے علوم میں تحریفات46:03 مناطقہ و فلاسفہ کی وجودِ اقصیٰ کو وجود کا فرد ماننے کی پہلی دلیل49:58 فلاسفہ کے وہمِ ظلمانی کی دوسری دلیل اور عقلی رد51:27 موجودات کے متعلق فلاسفہ یونان کے دو سکول آف تھاٹ53:14 کائنات کی ہر چیز اپنے وجود اور ساخت میں تجلئ رحمان کی محتاج56:06 وجودِ اقصیٰ (الرحمن) کا ہر پیدا ہونے والی چیز کے ساتھ براہِ راست تعلق1:01:02 ہر مخلوق اللہ کی شان کا مظہر اور منفرد آثار و خواص رکھتی ہے1:02:54 وجودِ اقصیٰ کو علت العلل کی بنیاد پر ماننے کا عقلی بطلان نیز وحدتِ حقّہ یا تجلئ رحمان کی حقیقت1:05:22 فلاسفہ کا مقولہ”لا یصدر من الواحد إلاالواحد“درست لیکن اس کی تفصیلات غلط1:06:38 صادرِ اول کے بارے میں فلاسفہ کے وہم کا اجمالی جائزہ1:07:45 ان کے ہاں صادرِ اول حقائق میں سے ایک حقیقت ہے1:09:05 فلاسفہ کے نکتۂ نظر میں ہر عقل اور ہر فلک مستقل طور پر الگ الگ حقیقتیں ہیں1:10:45 صادرِ اول بہت ساری انیّات پر مشتمل انیّةِ کبریٰ (شخصِ اکبر) ہے1:12:54 کائنات کی ہر حقیقت شخصِ اکبر میں سموئے ہوئے ہے1:14:32 فلاسفہ کے نکتۂ نظر کا تحقیقی جائزہ1:17:12 شخص اکبر وجودِ اقصیٰ کا پرتو‘ مثالوں سے وضاحت1:19:21 حرف ’’من‘‘  کی مثال سے اس حقیقت کی مزید توضیح1:21:55 شخصِ اکبر حقیقتِ قصویٰ تک پہنچنے کا ذریعہ اور معنون کا عنوان1:21:55تجلی اور اسم کے عنوان کی وضاحت1:23:18 شخصِ اکبر (صادرِ اول)،شخصِ اصغر(انسان)، انسانِ کبیر(امامِ نوعِ انسانی) سب تجلئ رحمان کے تنزلات 1:25:40 شخصِ اکبر کے چاروں طرف ’’الرحمان‘‘ کا نور ہےبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

  9. 4

    البدور البازغہ | 01 | البدور البازغة کا تعارف اور مباحث کا خلاصہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’البدور البازغة‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمت درس: 01 (دیباچہ و فاتحہ) البدور البازغة کا تعارف اور بنیادی مباحث کا خلاصہمُدرِّس: ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغةبتاریخ: 18؍ جنوری 2023ء / 25 جمادی الاخری 1444ھبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 0:00 آغاز0:33 بدورِ بازغه کا آغاز1:01 فیوض الحرمین؛  حقائق کائنات کے مشاہدات اور علمی تحقیقات کا مجموعہ 2:22 مَشہد اور علمی تحقیق  میں فرق2:48 حجة الله البالغة کا تصنیفی پسِ منظر اور بنیادی مضامین4:29 علمِ حدیث کی چوتھی قسم جس کا حجة الله کے مقدمے میں تذکرہ؛ درس 01 کا لنک https://youtu.be/Qqg1pEewEt85:16 حجة اللہ کے آخری درس کا لنکhttps://youtu.be/vxzUKwWMhFs6:04  حکمائے ربانیّن، مجدّدینِ امت پر تفہیماتِ الہیہ کا نزول6:45 مُفھّمین و مُحدَّثین کی تعریف اور دونوں قرآن وحدیث سے ماخوذ  8:05تفہیم کی تعریف؛ اللہ کی مرضیات  کی حالت و کیفیت و عزم کا طاری ہونا10:09 مُحدَّث و مجدّد اور نبی میں جوہری فرق 11:19 علومِ نبوت اور تفہیماتِ ربانیہ میں فرق و امتیاز11:42 حجة الله میں مفہمین کی اقسام سے متعلقہ درس 59 کا لنک:https://youtu.be/hK18ezy3U_412:35 البدورالبازغه  میں علومِ نبوت کی حکمت کے اصول پروضاحت 13:52 تفہیمات اور حکمت کےمطابق علومِ نبوت کی تشریح 14:23 حجة اللہ البالغہ کے مقدمے کی بحث کا لنک:https://youtu.be/rsN3_NW8n2U16:07 شاہ صاحبؒ کا اُسلوبِ حکمت اور طرزِ تفہیم17:19حکماء و فلاسفہ کے تصورات کی قرار واقعی حیثیت کا تعین 19:04 شاہ صاحبؒ کا انداز و اسلوب؛ شخصیات کا نام لیے بغیر ان کے نظریات کو زیرِ بحث لانا20:04 بدورِبازغه  کے آغاز سے پہلے مبادیاتِ حکمت سمجھنا ضروری 21:23 علم وحکمت کی تعریف، حکمتِ نظریہ اور اس کا دائرہ کار23:44 حکمتِ نظریہ میں تحقیق و تفتیش کی دو صورتیں24:51 حکمتِ عملیہ  کی تعریف اور حکمتِ نظریہ و عملیہ میں فرق 26:35حکمتِ عملیہ کی پہلی قسم؛ تہذیب الاخلاق27:38 دوسری قسم؛ تدبیرالمنزل✔️ تیسری قسم:  سیاست المدینه28:16 ارتفاقِ ثانی کی پانچ حکمتوں سے متعلق دروس کے لنکس:۱۔ ارتفاق دوم میں فنّ آدابِ معاش (زندگی بسر کرنے کی حکمت عملی) کی اہمیتhttps://youtu.be/1lOawuGywDM۲۔ ارتفاقِ دوم میں حکمتِ منزلیہ (منزلی نظام) کی اہمیت اور اس کے امورhttps://youtu.be/JEux7P-fQs4۳۔ ارتفاقِ دوم میں تبادلۂ اشیا، تعاون باہمی، دولتِ پیدائش اور مہارتوں و پیشوں کے علوم کی اہمیت https://youtu.be/W8jXil8fWos28:29 تیسری قسم: سیاست المدینهارتفاقِ سوم (سیاستِ مدینہ) کے ضروری امور اور ممالک کی تباہی و بربادی کے بنیادی اسبابhttps://youtu.be/VlnsDi7fpqs28:47 نبی اکرمؐ نے  حکمت کی چوتھی قسم؛ خلافتِ کبریٰ متعارف کرائی29:21 حکمتِ نظریہ کی تین قسمیں؛ پہلی قسم: حکمتِ ریاضیہ31:20 حکمتِ نظریہ کی دوسری قسم: حکمتِ طبیعی32:44 تیسری قسم: حکمتِ الہیہ33:33 امام شاہ ولی اللہؒ کی حکمت کی ان اقسام سے  تحقیقی بحث 34:52 البدورالبازغه میں حکمت کے اصولوں کی توضیح پر مشتمل تین مقالے 37:04 البدورالبازغه میں حکمت کے اُسلوب پر دینِ اسلام کے مکمل نظام کا احاطہ38:36 انسانیت کو ’’وجود‘‘ بخشنے والی ذات کی حمد و ثنا  کے ساتھ کتاب کا آغاز40:03 معایش (ضروریات وحاجات) کو پورا کرنے کے لیے انسان کو وحئ طبیعی 41:12 انسانی حوائج کو پورا کرنے کے لیے ارتفاقات و تقدیر کا نظام42:20 ”فأوحٰى إليه معايشه“ سے کتاب کے پہلے مقالے کی طرف اشارہ42:33 انسان کو تقربِ بارگاہ الٰہی  کے فطری و طبعی طریقوں کا الہام43:13 ہر شے پر قبضہ قدرت میں ہے43:51 علوم الاقترابات  والارتفاقات  کی بنیاد پر انسان کی امتیازی خصوصیت44:47 اشرف المخلوقات پر اللہ کا بڑا فضل  45:31 انبیاءؑ کی زبانی انسان کی فطری و جبلی ساخت کے مطابق تذکیر و یاددہانی46:40 حمد و ثناء کا حکیمانہ انداز و اُسلوب48:01 شاہ صاحبؒ پر عنایتِ رحمن سے  تفہیماتِ الٰہیہ  کافیضان49:43 تفہیماتِ الٰہیہ کا قلب، زبان اور پھر بنان(انگلیوں) تک فیضان ہوا51:08 شاہ صاحبؒ کی اکثر تصنیفات کا سبب ‘مولانا محمد عاشق پھلتیؒ51:25 مولانا محمد عاشق پهلتی کی طرف سے اپنے استاذ امام دہلوی کو حُجّةُ اللّٰه البالِغة کی تصنیف کے لیے کمربستہ ہونے کا بھرپور تقاضاhttps://youtu.be/ER8hCgIbjhA?t=165452:19 تفہیماتِ الٰہیہ کو عقلی دلائل وبرہانیات کی اساس پر پیش کرنا‘ عصری تقاضا53:34 ’’البدور البازغہ‘‘  اور ’’حجة اللہ البالغہ‘‘نام رکھنے میں گہراراز54:09 گفتگو میں اس کی طرف اشارہ: عالمِ مثال میں کار فرماں قوتیں؛ فرشتوں کا بالائی نظام، حظیرۃ القدس،فرشتوں کا زیریں نظامhttps://youtu.be/CVhaXROrL_o55:06گفتگو میں اس کی طرف اشارہ: باب:3 (حصہ اول)۔ عالمِ مثال میں کار فرما قوتیں؛ فرشتوں کا بالائی نظامhttps://youtu.be/sGURNrJ9VuY56:46 چاند؛ نظامِ شمسی کے احکامات منتقل کرنے کا ذریعہ59:16 کتاب کا عنوان ’’البدور البازغہ‘‘ رکھنے کی ایک اور حکمت1:01:38 فاتحۂ کتاب میں  حکماء کی باتوں کا تحلیل و تجزیہ1:02:24 کتاب کا پہلا مقالہ؛علم الاخلاق والارتفاق1:03:19 کتاب کا دوسرا مقالہ؛علم الاقترابات1:04:06 کتاب کا تیسرا مقالہ؛ بیان الملل والشرائع (شرائع و ملتوں کا بیان)1:06:16 حکمت کے جن بنیادی مسائل کو جمہور حکماء  نے چھوڑ دیا  ، فاتحہ میں ان کا بیان1:08:00 برہان کی تعریف اور دو قسمیں1:09:28 حکمت کا بنیادی مقصد؛ تفتیشِ حقائقبروقت مطلع ہونے کے لئے رحیمیہ یوٹیوب چینل کو سبسکرائب اور فیس بک پیج کو فالو کریں، اور نوٹیفیکیشنز کے لئے بل (🔔)  آئیکون کو دبادیں۔https://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-instituteمنجانب: رحیمیہ میڈیا

Type above to search every episode's transcript for a word or phrase. Matches are scoped to this podcast.

Searching…

No matches for "" in this podcast's transcripts.

Showing of matches

No topics indexed yet for this podcast.

Loading reviews...

ABOUT THIS SHOW

امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی منفرد عقلی و برھانی تصنیفِ لطیف ’’اَلبُدُورُ البَازِغَۃ‘‘ کے توضیحی دُورسِ حکمتمُدرِّس: ولی اللہی محقق عصر حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری مؤلف النجوم الساطعة شرح البدور البازغةبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

HOSTED BY

Rahimia Institute of Quranic Sciences

Produced by Irfan Sadiq

URL copied to clipboard!