EPISODE · Aug 31, 2023 · 15 MIN
Mi'raj ka waqiya adadith ki rawshni me | Surah Bani Israel | Episode 2
from Surah Bani Israel Series · host Quran and Seerat
معراج کا سفر نامہ معراج، پیغمبرِ اسلام کی زندگی کے اُن واقعات میں سے ہے جنھیں دنیا میں سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے۔ عام روایت کے مطابق یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے ۲۷ رجب کی رات کو پیش آیا۔ اس کا ذکر قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ معراج کس غرض کے لیے ہوئی تھی اور خدا نے اپنے رسول کو بلا کر کیا ہدایات دی تھیں۔ حدیث یہ بتاتی ہے کہ معراج کس طرح ہوئی اور اس سفر میں کیا واقعات پیش آئے۔ اس واقعہ کی تفصیلات ۲۸ ہم عصر راویوں کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں۔ سات راوی وہ ہیں جو خود معراج کے زمانہ میں موجود تھے۔ اور ۲۱ وہ جنھوں نے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی زبان مبارک سے اس کا قصہ سنا۔ مختلف روایتیں قصہ کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہیں اور سب کو ملانے سے ایک ایسا سفرنامہ بن جاتا ہے جس سے زیادہ دل چسپ، معنی خیز اور نظر افروز سفرنامہ انسانی لٹریچر کی پوری تاریخ میں نہیں ملتا۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبری کے منصب پر سرفراز ہوئے ۱۲ سال گزر چکے تھے۔ ۵۲ برس کی عمر تھی۔ حرمِ کعبہ میں سو رہے تھے۔ یکایک جبریلؑ فرشتے نے آکر آپ کو جگایا۔ نیم خفتہ ونیم بیدار حالت میں اُٹھا کر آپ کو زَم زَم کے پاس لے گئے۔ سینہ چاک کیا۔ زَم زَم کے پانی سے اسے دھویا پھر اسے علم اور بُردباری اور دانائی اور ایمان ویقین سے بھر دیا۔ اس کے بعد آپ کی سواری کے لیے ایک جانور پیش کیا جس کا رنگ سفید اور قد خچر سے کچھ چھوٹا تھا۔ برق کی رفتار سے چلتا تھا اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’’براق‘‘ تھا۔ پہلے انبیا بھی اس نوعیت کے سفر میں اسی سواری پر جایا کرتے تھے۔ جب آپ سوار ہونے لگے تو وہ چمکا۔ جبریل ؑنے تھپکی دے کر کہا، دیکھ کیا کرتا ہے، آج تک محمدؐ سے بڑی شخصیت کا کوئی انسان تجھ پر سوار نہیں ہوا ہے۔ پھرآپ اُس پر سوار ہوئے اور جبریل ؑآپ کے ساتھ چلے۔ پہلی منزل مدینہ کی تھی جہاں اُتر کر آپ نے نماز پڑھی۔ جبریل ؑ نے کہا اس جگہ آپ ہجرت کرکے آئیں گے۔ دوسری منزل طور سینا کی تھی جہاں خدا حضرت موسیٰ سے ہم کلام ہوا۔ تیسری منزل بیتِ لحم کی تھی جہاں حضرت عیسیٰ پیدا ہوئے۔ چوتھی منزل پر بیت المقدس تھا جہاں بُراق کا سفر ختم ہوا۔ اس سفر کے دَوران میں ایک جگہ کسی پکارنے والے نے پکارا ادھر آئو۔ آپ نے توجہ نہ کی۔ جبریل ؑنے بتایا یہ یہودیت کی طرف بلا رہا تھا۔ دوسری طرف سے آواز آئی اِدھر آئو۔ آپ اس کی طرف بھی ملتفت نہ ہوئے۔ جبریل ؑنے کہا یہ عیسائیت کا داعی تھا۔ پھر ایک عورت نہایت بنی سنوری نظر آئی اور اس نے اپنی طرف بلایا۔ آپ نے اُس سے بھی نظر پھیر لی۔ جبریلؑ نے بتایا یہ دُنیا تھی۔ پھر ایک بوڑھی عورت سامنے آئی۔ جبریلؑ نے کہا دنیا کی عمر کا اندازہ اس کی عمر سے کر لیجیے۔ پھر ایک اور شخص ملا جس نے آپ کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا، مگر آپ اُسے بھی چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ جبریلؑ نے کہا یہ شیطان تھا جو آپ کو راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ بیت المقدس پہنچ کر آپ بُراق سے اُتر گئے اور اُسی مقام پر اُسے باندھ دیا جہاں پہلے انبیا اس کو باندھا کرتے تھے۔ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوئے تو ان سب پیغمبروں کو موجود پایا جو ابتدائے آفرینش سے اُس وقت تک دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے پہنچتے ہی نماز کے لیے صفیں بندھ گئیں۔ سب منتظر تھے کہ امامت کے لیے کون آگے بڑھتا ہے۔ جبریلؑ نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھا دیا اور آپ نے سب کو نماز پڑھائی۔ پھر آپ کے سامنے تین پیالے پیش کیے گئے۔ ایک میں پانی، دوسرے میں دودھ، تیسرے میں شراب۔ آپ نے دُودھ کا پیالہ اُٹھا لیا۔ جبریلؑ نے مبارک باد دی کہ آپ فطرت کی راہ پا گئے۔ اس کے بعد ایک سیڑھی آپ کے سامنے پیش کی گئی اورجبریلؑ اس کے ذریعہ سے آپ کو آسمان کی طرف لے چلے۔ عربی زبان میں سیڑھی کو معراج کہتے ہیں اور اسی مناسبت سے یہ سارا واقعہ معراج کے نام سے مشہور ہوا ہے۔ To read more, go to the following link: https://t.me/ilmandhikmat/75 صحیح بخاری: 349 صحیح مسلم: 411 سنن نساءی: 451
Embed this episode
NOW PLAYING
Mi'raj ka waqiya adadith ki rawshni me | Surah Bani Israel | Episode 2
No transcript for this episode yet
Similar Episodes
No similar episodes found.
Similar Podcasts
No similar podcasts found.