Nazrana (Kaifi Azmi) - Ahsan Tirmizi episode artwork

EPISODE · Jul 6, 2024 · 2 MIN

Nazrana (Kaifi Azmi) - Ahsan Tirmizi

from The Urdu Poetry Podcast · host Ahsan Tirmizi

Feel free to share your opinions with me at [email protected] nazm: تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیں یوں تو جو کچھ تھا مرے پاس میں سب بیچ آیا کہیں انعام ملا، اور کہیں قیمت بھی نہیں کچھ تمہارے لیے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے دیکھ لو اور نہ دیکھو تو شکایت بھی نہیں ایک تو اتنی حسیں دوسرے یہ آرائش جو نظر پڑتی ہے چہرے پہ ٹھہر جاتی ہے مسکرا دیتی ہو رسماً بھی اگر محفل میں اک دھنک ٹوٹ کے سینوں میں بکھر جاتی ہے گرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکر جس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہے میں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شاید پیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہے کیا کمی ہے جو کرو گی مرا نذرانہ قبول چاہنے والے بہت، چاہ کے افسانے بہت ایک ہی رات سہی گرمیٔ ہنگامۂ عشق ایک ہی رات میں جل مرتے ہیں پروانے بہت پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیں کاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہو کاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کو اور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو آج کی رات جو میری ہی طرح تنہا ہے میں کسی طرح گزاروں گا چلا جاؤں گا تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا

Feel free to share your opinions with me at [email protected] nazm: تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیں یوں تو جو کچھ تھا مرے پاس میں سب بیچ آیا کہیں انعام ملا، اور کہیں قیمت بھی نہیں کچھ تمہارے لیے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے دیکھ لو اور نہ دیکھو تو شکایت بھی نہیں ایک تو اتنی حسیں دوسرے یہ آرائش جو نظر پڑتی ہے چہرے پہ ٹھہر جاتی ہے مسکرا دیتی ہو رسماً بھی اگر محفل میں اک دھنک ٹوٹ کے سینوں میں بکھر جاتی ہے گرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکر جس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہے میں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شاید پیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہے کیا کمی ہے جو کرو گی مرا نذرانہ قبول چاہنے والے بہت، چاہ کے افسانے بہت ایک ہی رات سہی گرمیٔ ہنگامۂ عشق ایک ہی رات میں جل مرتے ہیں پروانے بہت پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیں کاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہو کاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کو اور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو آج کی رات جو میری ہی طرح تنہا ہے میں کسی طرح گزاروں گا چلا جاؤں گا تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا

NOW PLAYING

Nazrana (Kaifi Azmi) - Ahsan Tirmizi

0:00 2:26

No transcript for this episode yet

We transcribe on demand. Request one and we'll notify you when it's ready — usually under 10 minutes.

Frequently Asked Questions

How long is this episode of The Urdu Poetry Podcast?

This episode is 2 minutes long.

When was this The Urdu Poetry Podcast episode published?

This episode was published on July 6, 2024.

What is this episode about?

Feel free to share your opinions with me at [email protected] nazm: تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا راستہ بھول گیا، یا یہی...

Can I download this The Urdu Poetry Podcast episode?

Yes, you can download this episode by clicking the download button on the episode player, or subscribe to the podcast in your preferred podcast app for automatic downloads.
URL copied to clipboard!