The Urdu Poetry Podcast podcast artwork

PODCAST · arts

The Urdu Poetry Podcast

The Urdu Poetry Podcast is the perfect way to connect with the rich tradition of Urdu poetry. From modern ghazals to timeless classics, this podcast brings you the best of Urdu poetry from the masters of the craft. Whether you’re an Urdu scholar or a beginner looking to explore the beauty of the language, this podcast is sure to bring you joy and knowledge. Tune in to experience the timeless art of Urdu poetry and immerse yourself in its wisdom.Feel free to share your opinions with me at [email protected] the podcast page at https://instagram.com/theurdupoetrypodcast/

  1. 14
  2. 13
  3. 12

    Dorahe (Kafeel Aazar Amrohvi) - Ahsan Tirmizi

    کب تلک خوابوں سے دھوکہ کھاؤ گیکب تلک اسکول کے بچوں سے دل بہلاؤ گیکب تلک منا سے شادی کے کرو گی تذکرےخواہشوں کی آگ میں جلتی رہو گی کب تلکچھٹیوں میں کب تلک ہر سال دلی جاؤ گیکب تلک شادی کے ہر پیغام کو ٹھکراؤ گیچائے میں پڑتا رہے گا اور کتنے دن نمکبند کمرے میں پڑھو گی اور کتنے دن خطوطیہ اداسی کب تلککب تلک نظمیں لکھو گیرؤو گی یوں رات کی خاموشیوں میں کب تلکبائبل میں کب تلک ڈھونڈو گی زخموں کا علاجمسکراہٹ میں چھپاؤ گی کہاں تک اپنے غمکب تلک پوچھو گی ٹیلیفون پر میرا مزاجفیصلہ کر لو کہ کس رستے پہ چلنا ہے تمہیںمیری بانہوں میں سمٹنا ہے ہمیشہ کے لیےیا ہمیشہ درد کے شعلوں میں جلنا ہے تمہیںکب تلک خوابوں سے دھوکے کھاؤ گی

  4. 11

    Chand ke tamannai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi

    شہر دل کی گلیوں میں شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنائی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی جاں گداز تنہائی روح و جاں کو ڈستی ہے روح و جاں میں بستی ہے شہر دل کی گلیوں میں تاک شب کی بیلوں پر شبنمیں سرشکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار چھوڑی ہے اتنی بات تھوڑی ہے صد ہزار باتیں تھیں حیلۂ شکیبائی صورتوں کی زیبائی قامتوں کی رعنائی ان سیاہ راتوں میں ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کس کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنائی یہ نگر کبھی پہلے اس قدر نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریۂ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک ساماں تھا آج دل میں ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہئے با وفا نہ ہرجائی پھر بھی لوگ دیوانے آ گئے ہیں سمجھانے اپنی وحشت دل کے بن لئے ہیں افسانے خوش خیال دنیا نے گرمیاں تو جاتی ہیں وہ رتیں بھی آتی ہیں جب ملول راتوں میں دوستوں کی باتوں میں جی نہ چین پائے گا اور اوب جائے گا آہٹوں سے گونجے گی شہر دل کی پنہائی اور چاند راتوں میں چاندنی کے شیدائی ہر بہانے نکلیں گے آرزو کی گیرائی ڈھونڈنے کو رسوائی سرد سرد راتوں کو زرد چاند بخشے گا بے حساب تنہائی بے حجاب تنہائی شہر دل کی گلیوں میں

  5. 10

    Aakhri mulaqaat (Jan Nisar Akhtar) - Ahsan Tirmizi

    مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں دو پاؤں بنے ہریالی پر ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر کچھ جگمگ جگنو جنگل سے کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے یہ ایک کہانی نیند بھری اک تخت پہ بیٹھی ایک پری کچھ گن گن کرتے پروانے دو ننھے ننھے دستانے کچھ اڑتے رنگیں غبارے ببو کے دوپٹے کے تارے یہ چہرہ بنو بوڑھی کا یہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کا یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں السائی ہوئی رت ساون کی کچھ سوندھی خوشبو آنگن کی کچھ ٹوٹی رسی جھولے کی اک چوٹ کسکتی کولھے کی سلگی سی انگیٹھی جاڑوں میں اک چہرہ کتنی آڑوں میں کچھ چاندنی راتیں گرمی کی اک لب پر باتیں نرمی کی کچھ روپ حسیں کاشانوں کا کچھ رنگ ہرے میدانوں کا کچھ ہار مہکتی کلیوں کے کچھ نام وطن کی گلیوں کے مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ چاند چمکتے گالوں کے کچھ بھونرے کالے بالوں کے کچھ نازک شکنیں آنچل کی کچھ نرم لکیریں کاجل کی اک کھوئی کڑی افسانوں کی دو آنکھیں روشن دانوں کی اک سرخ دلائی گوٹ لگی کیا جانے کب کی چوٹ لگی اک چھلا پھیکی رنگت کا اک لاکٹ دل کی صورت کا رومال کئی ریشم سے کڑھے وہ خط جو کبھی میں نے نہ پڑھے مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ اجڑی مانگیں شاموں کی آواز شکستہ جاموں کی کچھ ٹکڑے خالی بوتل کے کچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کے کچھ بکھرے تنکے چلمن کے کچھ پرزے اپنے دامن کے یہ تارے کچھ تھرائے ہوئے یہ گیت کبھی کے گائے ہوئے کچھ شعر پرانی غزلوں کے عنوان ادھوری نظموں کے ٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑی اک خشک قلم اک بند گھڑی مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ رشتے ٹوٹے ٹوٹے سے کچھ ساتھی چھوٹے چھوٹے سے کچھ بگڑی بگڑی تصویریں کچھ دھندلی دھندلی تحریریں کچھ آنسو چھلکے چھلکے سے کچھ موتی ڈھلکے ڈھلکے سے کچھ نقش یہ حیراں حیراں سے کچھ عکس یہ لرزاں لرزاں سے کچھ اجڑی اجڑی دنیا میں کچھ بھٹکی بھٹکی آشائیں کچھ بکھرے بکھرے سپنے ہیں یہ غیر نہیں سب اپنے ہیں مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

  6. 9

    Nazrana (Kaifi Azmi) - Ahsan Tirmizi

    Feel free to share your opinions with me at [email protected] nazm: تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیں یوں تو جو کچھ تھا مرے پاس میں سب بیچ آیا کہیں انعام ملا، اور کہیں قیمت بھی نہیں کچھ تمہارے لیے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے دیکھ لو اور نہ دیکھو تو شکایت بھی نہیں ایک تو اتنی حسیں دوسرے یہ آرائش جو نظر پڑتی ہے چہرے پہ ٹھہر جاتی ہے مسکرا دیتی ہو رسماً بھی اگر محفل میں اک دھنک ٹوٹ کے سینوں میں بکھر جاتی ہے گرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکر جس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہے میں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شاید پیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہے کیا کمی ہے جو کرو گی مرا نذرانہ قبول چاہنے والے بہت، چاہ کے افسانے بہت ایک ہی رات سہی گرمیٔ ہنگامۂ عشق ایک ہی رات میں جل مرتے ہیں پروانے بہت پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیں کاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہو کاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کو اور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو آج کی رات جو میری ہی طرح تنہا ہے میں کسی طرح گزاروں گا چلا جاؤں گا تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا

  7. 8

    Sab Maaya Hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi

    Sab Maaya Hai by Ibn e Insha: سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے سب مایا ہے ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے سب مایا ہے اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے سب مایا ہے معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشاؔ بھی فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے سب مایا ہے کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے؟ سبب مایا ہے جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں تم جانتے ہو ہم کیوں کر اس کا نام لکھیں دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے سب مایا ہے وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے سب مایا ہے جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے سب مایا ہے جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے اس شہر سے دور اک کٹیا ہم نے بنائی ہے اور اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے سب مایا ہے

  8. 7

    Taaruf (Nun meem Rashid) - Ahsan Tirmizi

    اجل، ان سے مل، کہ یہ سادہ دل نہ اہل صلوٰۃ اور نہ اہل شراب، نہ اہل ادب اور نہ اہل حساب، نا اہل کتاب نہ اہل کتاب اور نہ اہل مشین نہ اہل خلا اور نہ اہل زمین فقط بے یقین اجل، ان سے مت کر حجاب اجل، ان سے مل! بڑھو، تم بھی آگے بڑھو اجل سے ملو، بڑھو، نو تونگر گداؤ نہ کشکول دریوزہ گردی چھپاؤ تمہیں زندگی سے کوئی ربط باقی نہیں اجل سے ہنسو اور اجل کو ہنساؤ! بڑھو بندگان زمانہ بڑھو بندگان درم اجل یہ سب انسان منفی ہیں منفی زیادہ ہیں انسان کم ہو ان پر نگاہ کرم

  9. 6

    Ek ladka (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi

    ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں ایک میلے میں پہنچا ہمکتا ہوا جی مچلتا تھا ایک ایک شے پر جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا لوٹ آیا لیے حسرتیں سینکڑوں ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں خیر محرومیوں کے وہ دن تو گئے آج میلہ لگا ہے اسی شان سے آج چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں آج چاہوں تو سارا جہاں مول لوں نارسائی کا اب جی میں دھڑکا کہاں پر وہ چھوٹا سا الھڑ سا لڑکا کہاں

  10. 5

    Ek dost ki khushmazaqi par (Majaz) - Ahsan Tirmizi

    نظم: ہو نہیں سکتا تری اس ''خوش مذاقی'' کا جواب شام کا دل کش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب رکھ بھی دے اب اس کتاب خشک کو بالائے طاق اڑ رہا ہے رنگ و بو کی بزم میں تیرا مذاق چھپ رہا ہے پردۂ مغرب میں مہر زر فشاں دید کے قابل ہیں بادل میں شفق کی سرخیاں موجزن جوئے شفق ہے اس طرح زیر سحاب جس طرح رنگین شیشوں میں جھلکتی ہے شراب اک نگارش آتشیں ہر شے پہ ہے چھایا ہوا جیسے عارض پر عروس نو کے ہو رنگ حیا شانۂ گیتی پہ لہرانے کو ہیں گیسوئے شب آسماں میں منعقد ہونے کو ہے بزم طرب اڑ رہے ہیں جستجو میں آشیانوں کے طیور آ چلا ہے آئنے میں چاند کے ہلکا سا نور دیکھ کر یہ شام کے نظارہ ہائے دل نشیں کیا ترے دل میں ذرا بھی گدگدی ہوتی نہیں کیا تری نظروں میں یہ رنگینیاں بھاتی نہیں کیا ہوائے سرد تیرے دل کو تڑپاتی نہیں کیا نہیں ہوتی تجھے محسوس مجھ کو سچ بتا تیز جھونکوں میں ہوا کے گنگنانے کی صدا سبزہ و گل دیکھ کر تجھ کو خوشی ہوتی نہیں اف ترے احساس میں اتنی بھی رنگینی نہیں حسن فطرت کی لطافت کا جو تو قائل نہیں میں یہ کہتا ہوں تجھے جینے کا حق حاصل نہیں

  11. 4

    Manzar (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi

    Aadab! Intezaar ka bohat shukriya. Hazir hu ik nayi nazm ke saath.

  12. 3

    Raqeeb se (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi

    آ کہ وابستہ ہیں اس حسن کی یادیں تجھ سے جس نے اس دل کو پری خانہ بنا رکھا تھا جس کی الفت میں بھلا رکھی تھی دنیا ہم نے دہر کو دہر کا افسانہ بنا رکھا تھا آشنا ہیں ترے قدموں سے وہ راہیں جن پر اس کی مدہوش جوانی نے عنایت کی ہے کارواں گزرے ہیں جن سے اسی رعنائی کے جس کی ان آنکھوں نے بے سود عبادت کی ہے تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میں اس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے تجھ پہ برسا ہے اسی بام سے مہتاب کا نور جس میں بیتی ہوئی راتوں کی کسک باقی ہے تو نے دیکھی ہے وہ پیشانی وہ رخسار وہ ہونٹ زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں عاجزی سیکھی غریبوں کی حمایت سیکھی یاس و حرمان کے دکھ درد کے معنی سیکھے زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا سرد آہوں کے رخ زرد کے معنی سیکھے جب کہیں بیٹھ کے روتے ہیں وہ بیکس جن کے اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں نا توانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

  13. 2

    Itna maloom hai (Parveen Shakir) - Ahsan Tirmizi

    اپنے بستر پہ بہت دیر سے میں نیم دراز سوچتی تھی کہ وہ اس وقت کہاں پر ہوگا میں یہاں ہوں مگر اس کوچۂ رنگ و بو میں روز کی طرح سے وہ آج بھی آیا ہوگا اور جب اس نے وہاں مجھ کو نہ پایا ہوگا!؟ آپ کو علم ہے وہ آج نہیں آئی ہیں؟ میری ہر دوست سے اس نے یہی پوچھا ہوگا کیوں نہیں آئی وہ کیا بات ہوئی ہے آخر خود سے اس بات پہ سو بار وہ الجھا ہوگا کل وہ آئے گی تو میں اس سے نہیں بولوں گا آپ ہی آپ کئی بار وہ روٹھا ہوگا وہ نہیں ہے تو بلندی کا سفر کتنا - کٹھن سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس نے یہ سوچا ہوگا راہداری میں ہرے لان میں پھولوں کے قریب اس نے ہر سمت مجھے آن کے ڈھونڈا ہوگا نام بھولے سے جو میرا کہیں آیا ہوگا غیر محسوس طریقے سے وہ چونکا ہوگا ایک جملے کو کئی بار سنایا ہوگا بات کرتے ہوئے سو بار وہ بھولا ہوگا یہ جو لڑکی نئی آئی ہے کہیں وہ تو نہیں اس نے ہر چہرہ یہی سوچ کے دیکھا ہوگا جان محفل ہے مگر آج فقط میرے بغیر ہائے کس درجہ وہی بزم میں تنہا ہوگا کبھی سناٹوں سے وحشت جو ہوئی ہوگی اسے اس نے بے ساختہ پھر مجھ کو پکارا ہوگا چلتے چلتے کوئی مانوس سی آہٹ پا کر دوستوں کو بھی کس عذر سے روکا ہوگا یاد کر کے مجھے نم ہو گئی ہوں گی پلکیں ''آنکھ میں پڑ گیا کچھ'' کہہ کے یہ ٹالا ہوگا اور گھبرا کے کتابوں میں جو لی ہوگی پناہ ہر سطر میں مرا چہرہ ابھر آیا ہوگا جب ملی ہوگی اسے میری علالت کی خبر اس نے آہستہ سے دیوار کو تھاما ہوگا سوچ کر یہ کہ بہل جائے پریشانی دل یوں ہی بے وجہ کسی شخص کو روکا ہوگا! اتفاقاً مجھے اس شام مری دوست ملی میں نے پوچھا کہ سنو آئے تھے وہ؟ کیسے تھے؟ مجھ کو پوچھا تھا - مجھے ڈھونڈا تھا چاروں جانب؟ اس نے اک لمحے کو دیکھا مجھے - اور پھر ہنس دی اس ہنسی میں تو وہ تلخی تھی کہ اس سے آگے کیا کہا اس نے مجھے یاد نہیں ہے لیکن اتنا معلوم ہے خوابوں کا بھرم ٹوٹ گیا

  14. 1

    ye mahlon ye takhton ye tajon ki duniya (Sahir Ludhianvi) - Ahsan Tirmizi

    یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی یہ دنیا ہے یا عالم بد حواسی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہاں اک کھلونا ہے انساں کی ہستی یہ بستی ہے مردہ پرستوں کی بستی یہاں پر تو جیون سے ہے موت سستی یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جوانی بھٹکتی ہے بد کار بن کر جواں جسم سجتے ہیں بازار بن کر یہاں پیار ہوتا ہے بیوپار بن کر یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے یہ دنیا جہاں آدمی کچھ نہیں ہے وفا کچھ نہیں دوستی کچھ نہیں ہے جہاں پیار کی قدر ہی کچھ نہیں ہے یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا تمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

  15. 0

    Mujh se pahle (Ahmad Faraz) - Ahsan Tirmizi

    مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو

  16. -1

    Numuu (Obaidullah Aleem) - Ahsan Tirmizi

    میں وہ شجر تھا کہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھی زمیں کی آنکھیں درازیٔ عمر کی دعاؤں میں رو رہی تھیں اور سورج کے ہاتھ تھکتے نہیں تھے مجھ کو سنوارنے میں کہ میں اک آواز کا سفر تھا عجب شجر تھا کہ اس مسافر کا منتظر تھا جو میرے سائے میں آ کے بیٹھے تو پھر نہ اٹھے جو میری شاخوں پہ آئے جھولے تو سارے موسم یہیں گزارے مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا عجب مسافر تھا رہ گزر کا جو چھوڑ آیا تھا کتنی شاخیں مگر لگا یوں کہ جیسے اب وہ شکستہ تر ہے وہ میرے خوابوں کا ہم سفر ہے سو میں نے سائے بچھا دئیے تھے تمام جھولے ہلا دئیے تھے مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا عجب مسافر تھا رہ گزر تھا کہ لمحے بھر میں گزر چکا تھا میں بے نمو اور بے ثمر تھا مگر میں آواز کا سفر تھا سو میری آواز کا اجر تھا عجب شجر تھا عجب شجر ہوں کہ آنے والے سہ کہہ رہا ہوں اے میرے دل میں اترنے والے اے مجھ کو شاداب کرنے والے تجھے مری روشنی مبارک تجھے مری زندگی مبارک

  17. -2

    Jis roz qazaa aayegi (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi

    کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی شاید اس طرح کہ جس طور کبھی اول شب بے طلب پہلے پہل مرحمت بوسۂ لب جس سے کھلنے لگیں ہر سمت طلسمات کے در اور کہیں دور سے انجان گلابوں کی بہار یک بیک سینۂ مہتاب کو تڑپانے لگے شاید اس طرح کہ جس طور کبھی آخر شب نیم وا کلیوں سے سر سبز سحر یک بیک حجرۂ محبوب میں لہرانے لگے اور خاموش دریچوں سے بہ ہنگام رحیل جھنجھناتے ہوئے تاروں کی صدا آنے لگے کس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی شاید اس طرح کہ جس طور تہہ نوک سناں کوئی رگ واہمۂ درد سے چلانے لگے اور قزاق سناں دست کا دھندلا سایہ از کراں تا بہ کراں دہر پہ منڈلانے لگے جس طرح آئے گی جس روز قضا آئے گی خواہ قاتل کی طرح آئے کہ محبوب صفت دل سے بس ہوگی یہی حرف وداع کی صورت للہ الحمد بہ انجام دل دل زدگاں کلمۂ شکر بہ نام لب شیریں دہناں

  18. -3

    Woh kitaab (Zehra Nigah) - Ahsan Tirmizi

    مری زندگی کی لکھی ہوئی مرے طاق دل پہ سجی ہوئی وہ کتاب اب بھی ہے منتظر جسے میں کبھی نہیں پڑھ سکی وہ تمام باب سبھی ورق ہیں ابھی تلک بھی جڑے ہوئے مرا عہد دید بھی آج تک انہیں وہ جدائی نہ دے سکا جو ہر اک کتاب کی روح ہے مجھے خوف ہے کہ کتاب میں مرے روز و شب کی اذیتیں وہ ندامتیں وہ ملامتیں کسی حاشیے پہ رقم نہ ہوں میں فریب خوردۂ برتری میں اسیر حلقۂ بزدلی وہ کتاب کیسے پڑھوں گی میں؟

  19. -4

    Har shay musafir har cheez rahi (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi

    ہر شے مسافر ہر چیز راہی کیا چاند تارے کیا مرغ و ماہی تو مرد میداں تو میر لشکر نوری حضوری تیرے سپاہی کچھ قدر اپنی تو نے نہ جانی یہ بے سوادی یہ کم نگاہی دنیائے دوں کی کب تک غلامی یا راہبی کر یا پادشاہی پیر حرم کو دیکھا ہے میں نے کردار بے سوز گفتار واہی

  20. -5

    Aadarsh (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi

    کیسی ہے یہ رسم تاؤ کیا ہے یہ آدرش مان کی خاطر جان گنوائی دل کی خاطر پریت رات کی خاطر صبح بنائی ہار کی خاطر جیت چاند کی خاطر شہر بناۓ دشت کی خاطر قہر آنکھ کی خاطر اشک بناۓ جام کی خاطر ز ہر جسم کی خاطر فرش بنایا روح کی خاطر عرش گرد کی خاطر راہ بنائی راہ کی خاطر خار بوجھو تو پاگل کا سپنا سمجھو تو سنسار 

  21. -6

    Naya Amrit (Shaharyar) - Ahsan Tirmizi

    دواؤں کی المایوں سے سجی اک دکاں میں مریضوں کے انبوہ میں مضمحل سا اک انساں کھڑا ہے جو اک نیلی کبڑی سی شیشی کے سینے پہ لکھے ہوئے ایک اک حرف کو غور سے پڑھ رہا ہے مگر اس پہ تو ''زہر'' لکھا ہوا ہے اس انسان کو کیا مرض ہے یہ کیسی دوا ہے؟

  22. -7

    Kal humne sapna dekha hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi

    کل ہم نے سپنا دیکھا ہے جو اپنا ہو نہیں سکتا ہے اس شخص کو اپنا دیکھا ہے وہ شخص کہ جس کی خاطر ہم اس دیس پھریں اس دیس پھریں جوگی کا بنا کر بھیس پھریں چاہت کے نرالے گیت لکھیں جی موہنے والے گیت لکھیں دھرتی کے مہکتے باغوں سے کلیوں کی جھولی بھر لائیں امبر کے سجیلے منڈل سے تاروں کی ڈولی بھر لائیں ہاں کس کے لیے سب اس کے لیے وہ جس کے لب پر ٹیسو ہیں وہ جس کے نیناں آہو ہیں جو خار بھی ہے اور خوشبو بھی جو درد بھی ہے اور دارو بھی وہ الہڑ سی وہ چنچل سی وہ شاعر سی وہ پاگل سی لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں ہم نام نہ اس کا بتلائیں اے دیکھنے والو تم نے بھی اس نار کی پیت کی آنچوں میں اس دل کا تینا دیکھا ہے؟ کل ہم نے سپنا دیکھا ہے

  23. -8

    Ek baar kaho tum meri ho (Ibn e insha) - Ahsan Tirmizi

    ہم گھوم چکے بستی بن میں اک آس کی پھانس لیے من میں کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو جب جیون رات اندھیری ہو اک بار کہو تم میری ہو جب ساون بادل چھائے ہوں جب پھاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہو جب سورج دھوپ نہاتا ہو یا شام نے بستی گھیری ہو اک بار کہو تم میری ہو ہاں دل کا دامن پھیلا ہے کیوں گوری کا دل میلا ہے ہم کب تک پیت کے دھوکے میں تم کب تک دور جھروکے میں کب دید سے دل کو سیری ہو اک بار کہو تم میری ہو کیا جھگڑا سود خسارے کا یہ کاج نہیں بنجارے کا سب سونا روپا لے جائے سب دنیا، دنیا لے جائے تم ایک مجھے بہتیری ہو اک بار کہو تم میری ہو

  24. -9

    Rang hai dil ka mere (Faiz Ahmed Faiz)- Ahsan Tirmizi

    Please subscribe to this podcast, thanks.

  25. -10

    Bahaar aai (Faiz Ahmed 'Faiz') - Ahsan Tirmizi

    بہار آئی تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے وہ خواب سارے شباب سارے جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے جو مٹ کے ہر بار پھر جئے تھے نکھر گئے ہیں گلاب سارے جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں جو تیرے عشاق کا لہو ہیں ابل پڑے ہیں عذاب سارے ملال احوال دوستاں بھی خمار آغوش مہ وشاں بھی غبار خاطر کے باب سارے ترے ہمارے سوال سارے جواب سارے بہار آئی تو کھل گئے ہیں نئے سرے سے حساب سارے

Type above to search every episode's transcript for a word or phrase. Matches are scoped to this podcast.

Searching…

We're indexing this podcast's transcripts for the first time — this can take a minute or two. We'll show results as soon as they're ready.

No matches for "" in this podcast's transcripts.

Showing of matches

No topics indexed yet for this podcast.

Loading reviews...

ABOUT THIS SHOW

The Urdu Poetry Podcast is the perfect way to connect with the rich tradition of Urdu poetry. From modern ghazals to timeless classics, this podcast brings you the best of Urdu poetry from the masters of the craft. Whether you’re an Urdu scholar or a beginner looking to explore the beauty of the language, this podcast is sure to bring you joy and knowledge. Tune in to experience the timeless art of Urdu poetry and immerse yourself in its wisdom.Feel free to share your opinions with me at [email protected] the podcast page at https://instagram.com/theurdupoetrypodcast/

HOSTED BY

Ahsan

CATEGORIES

Frequently Asked Questions

How many episodes does The Urdu Poetry Podcast have?

The Urdu Poetry Podcast currently has 25 episodes available on PodParley. New episodes are automatically indexed when they're published to the podcast feed.

What is The Urdu Poetry Podcast about?

The Urdu Poetry Podcast is the perfect way to connect with the rich tradition of Urdu poetry. From modern ghazals to timeless classics, this podcast brings you the best of Urdu poetry from the masters of the craft. Whether you’re an Urdu scholar or a beginner looking to explore the beauty of the...

How often does The Urdu Poetry Podcast release new episodes?

The Urdu Poetry Podcast has 25 episodes. Check the episode list to see recent publication dates and frequency.

Where can I listen to The Urdu Poetry Podcast?

You can listen to The Urdu Poetry Podcast on PodParley by clicking any episode. We provide an embedded audio player for direct listening, and you can also subscribe via your preferred podcast app using the RSS feed.

Who hosts The Urdu Poetry Podcast?

The Urdu Poetry Podcast is created and hosted by Ahsan.
URL copied to clipboard!