Aakhri mulaqaat (Jan Nisar Akhtar) - Ahsan Tirmizi episode artwork

EPISODE · Oct 12, 2024 · 4 MIN

Aakhri mulaqaat (Jan Nisar Akhtar) - Ahsan Tirmizi

from The Urdu Poetry Podcast · host Ahsan Tirmizi

مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں دو پاؤں بنے ہریالی پر ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر کچھ جگمگ جگنو جنگل سے کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے یہ ایک کہانی نیند بھری اک تخت پہ بیٹھی ایک پری کچھ گن گن کرتے پروانے دو ننھے ننھے دستانے کچھ اڑتے رنگیں غبارے ببو کے دوپٹے کے تارے یہ چہرہ بنو بوڑھی کا یہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کا یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں السائی ہوئی رت ساون کی کچھ سوندھی خوشبو آنگن کی کچھ ٹوٹی رسی جھولے کی اک چوٹ کسکتی کولھے کی سلگی سی انگیٹھی جاڑوں میں اک چہرہ کتنی آڑوں میں کچھ چاندنی راتیں گرمی کی اک لب پر باتیں نرمی کی کچھ روپ حسیں کاشانوں کا کچھ رنگ ہرے میدانوں کا کچھ ہار مہکتی کلیوں کے کچھ نام وطن کی گلیوں کے مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ چاند چمکتے گالوں کے کچھ بھونرے کالے بالوں کے کچھ نازک شکنیں آنچل کی کچھ نرم لکیریں کاجل کی اک کھوئی کڑی افسانوں کی دو آنکھیں روشن دانوں کی اک سرخ دلائی گوٹ لگی کیا جانے کب کی چوٹ لگی اک چھلا پھیکی رنگت کا اک لاکٹ دل کی صورت کا رومال کئی ریشم سے کڑھے وہ خط جو کبھی میں نے نہ پڑھے مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ اجڑی مانگیں شاموں کی آواز شکستہ جاموں کی کچھ ٹکڑے خالی بوتل کے کچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کے کچھ بکھرے تنکے چلمن کے کچھ پرزے اپنے دامن کے یہ تارے کچھ تھرائے ہوئے یہ گیت کبھی کے گائے ہوئے کچھ شعر پرانی غزلوں کے عنوان ادھوری نظموں کے ٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑی اک خشک قلم اک بند گھڑی مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ رشتے ٹوٹے ٹوٹے سے کچھ ساتھی چھوٹے چھوٹے سے کچھ بگڑی بگڑی تصویریں کچھ دھندلی دھندلی تحریریں کچھ آنسو چھلکے چھلکے سے کچھ موتی ڈھلکے ڈھلکے سے کچھ نقش یہ حیراں حیراں سے کچھ عکس یہ لرزاں لرزاں سے کچھ اجڑی اجڑی دنیا میں کچھ بھٹکی بھٹکی آشائیں کچھ بکھرے بکھرے سپنے ہیں یہ غیر نہیں سب اپنے ہیں مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں دو پاؤں بنے ہریالی پر ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر کچھ جگمگ جگنو جنگل سے کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے یہ ایک کہانی نیند بھری اک تخت پہ بیٹھی ایک پری کچھ گن گن کرتے پروانے دو ننھے ننھے دستانے کچھ اڑتے رنگیں غبارے ببو کے دوپٹے کے تارے یہ چہرہ بنو بوڑھی کا یہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کا یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں السائی ہوئی رت ساون کی کچھ سوندھی خوشبو آنگن کی کچھ ٹوٹی رسی جھولے کی اک چوٹ کسکتی کولھے کی سلگی سی انگیٹھی جاڑوں میں اک چہرہ کتنی آڑوں میں کچھ چاندنی راتیں گرمی کی اک لب پر باتیں نرمی کی کچھ روپ حسیں کاشانوں کا کچھ رنگ ہرے میدانوں کا کچھ ہار مہکتی کلیوں کے کچھ نام وطن کی گلیوں کے مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ چاند چمکتے گالوں کے کچھ بھونرے کالے بالوں کے کچھ نازک شکنیں آنچل کی کچھ نرم لکیریں کاجل کی اک کھوئی کڑی افسانوں کی دو آنکھیں روشن دانوں کی اک سرخ دلائی گوٹ لگی کیا جانے کب کی چوٹ لگی اک چھلا پھیکی رنگت کا اک لاکٹ دل کی صورت کا رومال کئی ریشم سے کڑھے وہ خط جو کبھی میں نے نہ پڑھے مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ اجڑی مانگیں شاموں کی آواز شکستہ جاموں کی کچھ ٹکڑے خالی بوتل کے کچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کے کچھ بکھرے تنکے چلمن کے کچھ پرزے اپنے دامن کے یہ تارے کچھ تھرائے ہوئے یہ گیت کبھی کے گائے ہوئے کچھ شعر پرانی غزلوں کے عنوان ادھوری نظموں کے ٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑی اک خشک قلم اک بند گھڑی مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں کچھ رشتے ٹوٹے ٹوٹے سے کچھ ساتھی چھوٹے چھوٹے سے کچھ بگڑی بگڑی تصویریں کچھ دھندلی دھندلی تحریریں کچھ آنسو چھلکے چھلکے سے کچھ موتی ڈھلکے ڈھلکے سے کچھ نقش یہ حیراں حیراں سے کچھ عکس یہ لرزاں لرزاں سے کچھ اجڑی اجڑی دنیا میں کچھ بھٹکی بھٹکی آشائیں کچھ بکھرے بکھرے سپنے ہیں یہ غیر نہیں سب اپنے ہیں مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

NOW PLAYING

Aakhri mulaqaat (Jan Nisar Akhtar) - Ahsan Tirmizi

0:00 4:10

No transcript for this episode yet

We transcribe on demand. Request one and we'll notify you when it's ready — usually under 10 minutes.

Frequently Asked Questions

How long is this episode of The Urdu Poetry Podcast?

This episode is 4 minutes long.

When was this The Urdu Poetry Podcast episode published?

This episode was published on October 12, 2024.

What is this episode about?

مت روکو انہیں پاس آنے دو یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں دو پاؤں بنے ہریالی پر ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر کچھ جگمگ جگنو جنگل سے کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے یہ ایک کہانی نیند بھری اک تخت پہ بیٹھی ایک پری...

Can I download this The Urdu Poetry Podcast episode?

Yes, you can download this episode by clicking the download button on the episode player, or subscribe to the podcast in your preferred podcast app for automatic downloads.
URL copied to clipboard!