EPISODE · Jan 5, 2024 · 1H 32M
حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 108 /اَبوابِ طہارت (آخری حصہ)../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
from دروس حُجّةُ اللہ البالِغة · host Rahimia Institute of Quranic Sciences
احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 108 قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ طہارت (آخری حصہ) باب 13 تا 14 پانی کے احکام کے چھ اصول، شاہ صاحب کی حدیث "قلتین" کی پرحکمت تشریح ، نجاستوں کی چھ اقسام اور پاک کرنے کا طریقےمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 12 ؍ اگست 2020 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس0:13 باب: أَحْكَام الْمِيَاه (پانی کے احکام سے متعلق بنیادی اصول )0:33 پہلا اصول، حدیث 01: لَا يبولن أحدكُم فِي المَاء الدَّائِم الخ، کھڑے پانی میں پیشاب کرنا منع اور پھر اسی پانی میں غسل کرنے کی سخت ممانعت اور اس کی حکمت4:38 دوسرا اصول: وضوء وغیرہ میں استعمال شدہ پانی بذات خود پاک (طاہر) ہے، لیکن کسی چیز کو پاک کرنے والا (مُطھِّر) نہیں6:00 تیسرا اصول، حدیث 02: إِذا بلغ المَاء قلتين لم يحمل خبثا، پانی کی خاص مقدار (قُلتین) شرعی طور پر پاک، حدیث کا پسِ منظر8:49 پانی کے قلیل و کثیر میں آئمہ فقہا کا اختلاف ، امام ابو حنیفہؒ کا بنیادی موقف، امام محمد کے قول پر تخريجات کی قرار واقعی حیثیت15:21 شاہ صاحب کی حدیث "قُلتین" کی پرحکمت تشریح:16:04 حضور ﷺ نےطے شدہ نظام کے تحت، لازمی و ضروری طور پر"قُلتین" کو کثیر و قلیل پانی کے لیے حدِ فاصل کے طور پر مقرر کیا ۔ 17:48 مقادیرِ شرعیہ محض اندازے سے مقرر نہیں ہوئی۔19:26کثیر مقدار میں "قُلتین" کی حد کیوں ضروری ہے؟ اس کا بنیادی راز شاہ صاحبؒ نے واضح کیاہے۔23:27 پانی کے حصول کے دو مقام: ۱۔ معدن (چشمہ) ۲۔ اوانی (برتن) اور ان کی اقسام25:18 برتنوں میں سب سے بڑا برتن "قلہ" (مٹکہ) اور" قلتین" کا کثیر پانی ہونا عملی اور عرفی طور پرواضح ہے29:24 معدن اور برتن میں تین بنیادی فرق ہونے کی وجہ سے ان کا شرعی حکم بھی الگ الگ ہے۔34:53 معدن اور بر تنوں میں فرق اور پانی کے کثیر و قلیل کی حد مقررکرنے والے کے حوالے سے شاہ صاحبؒ کی لاجواب تشریح37:02 جن اہل علم نے پانی کے کثیر و قلیل کی حد کسی اندازے سے مقرر کی، انہیں شاہ صاحبؒ کی طرف سے حضور ﷺ کی مقرر کردہ حدودِ شرعیہ پر غور و فکر کرنے پر زور دعوت38:35 چوتھا اصول، حدیث 03: ۱۔ المَاء طهُور لَا يُنجسهُ شَيْء ۲۔ المَاء لَا يجنب ۳۔ الْمُؤمن لَا ينجس ۴۔ أَن الْبدن لَا ينجس وَالْأَرْض لَا تنجس،احادیث کا پسِ منظر، وفدِ ثقیف کا مسجدِ نبوی میں قیام، احادیث کے اسرار و رموز44:39 بئر بضاعة کا خاص پس منظر میں حضورؐ نے شرعی حکم بیان کیا، شاه صاحبؒ کی توضیح اور حدیث کی تاویل پر کلام عرب کے نظائر سے استدلال 52:50 پانی کے احکام سے متعلق پانچواں اصول: پانی مُقیَّد (عرقِ گلاب وغیرہ) سے وضو کرنے کا حکم54:03 چھٹا اصول: تین فروعی مسائل میں حنفیہ اور مالکیہ کی تخریجات پر شاه صاحبؒ کا نقد59:35 باب کا خلاصہ1:01:27 باب: تَطْهِير النَّجَاسَات ( نجاستیں دور کرنے اور گندگیوں کو پاک کرنے کا طریقہ)1:01:44 نجاست کی تعریف ، چھ قسم کی گندگیاں: ۱۔ بول ۲۔ براز ۳۔ خون سے طبائع انسانی کی نفرت اور انہیں دور کرنے کا عام دستور رہا ہے۔1:03:33 ۴۔ گوبر (حضرت ابن عباسؓ کی روایت کے مطابق ناپاک ہے)1:04:20 ۵۔ حلال جانوروں کا پیشاب بھی ناپاک ہے۔1:05:01 بطور دوا کے، شفایابی کی غرض سےان جانوروں کا پیشاب پینے میں شرعی رخصت 1:05:53 ۶۔ شراب کو بھی شارع ﷺ نے نجاستوں میں شمار کیا ہے۔1:06:42 نجاستیں دور کرنے سے متعلق احادیثِ نبویہ سے رہنمائی1:06:57 حدیث 01: ۱۔ إِذا شرب الْكَلْب فِي إِنَاء أحدكُم الخ، ۲۔ أولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ، کتے کے کسی برتن میں منہ ڈالنے پر سات مرتبہ دھونے کا راز1:08:11 کتا ملعون جانور، گھر میں رحمت کے فرشتوں کا نہ آنا، کتا اپنی جبلت میں شیطان سے مشابہ، اس کا گندگیوں میں گھسنا، انسانوں کو ایذا رسانی کا باعث اور شیطانی الہامات کو قبول کرتا ہے۔ 1:13:15 زراعت، باغبانی اور چوکیداری کے لیے کتے کے فائدے بھی ہیں۔1:14:33 کتے کے جوٹھے کو سات مرتبہ دھونے کے حکم کی وجہ: کامل طہارت اور شیطانی اثرات زائل کرنا1:15:45 کتے کے جوٹھے سے متعلق فقہ کے ائمہ کی مختلف آراء1:17:10 حدیث 02: هريقوا على بَوْله سجلا من مَاء، ایک دیہاتی کا مسجدِ نبوی میں پیشاب کرنے کا واقعہ، زیادہ پانی بہانے (جیسے بارش) سے زمین پاک ہونے کا راز1:18:52 حدیث 03: إِذا أصَاب ثوب إحداكن الدَّم من الْحَيْضَة الخ، عورت کے کپڑے پر لگے حیض کے خون کو پاک کرنے کا طریقہ1:19:23 اصل بات نجاست دور کرنا ہے، اس کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کر لیا جائے، ناخن سے کھرچنا لازمی و ضروری نہیں۔1:20:31 حدیث 04: آپ ﷺ کی روایت کے تناظر میں منی کی نجاست دور کرنے کا طریقہ1:22:31 حدیث 05: يغسل من بَوْل الْجَارِيَة ويرش من بَوْل الْغُلَام، دودھ پیتی بچی اور بچے کے پیشاب کو پاک کرنے کا حکم1:24:21 جاہلیت کے زمانے میں لڑکے اور لڑکی کے پیشاب کو پاک کرنے کے فرق کی چند وجوہات اور فقہاء کا معمول1:27:25 حدیث 06: إِذا أدبغ الأهاب، فقد طهر، جانوروں کے چمڑے رنگنے سے پاک ہونے کا عام دستور 1:28:05 حدیث 07: إِذا وطئ أحدكُم بنعله الْأَذَى فَإِن التُّرَاب لَهُ طهُور، جوتے زمین پر رگڑنے سے پاک ہو جاتے ہیں، جیسے وسطی ایشیائی ریاستوں میں لوگوں کا معمول1:29:52 حدیث 08: إِنَّهَا من الطوافين والطوافات، بلی کے جوٹھے کے مکروہ ہونے کا مسئلہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
Embed this episode
NOW PLAYING
حُجّةُ اللّٰه البالِغة (قسمِ ثانی): 108 /اَبوابِ طہارت (آخری حصہ)../ مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
No transcript for this episode yet
Similar Episodes
No similar episodes found.