دروس حُجّةُ اللہ البالِغة podcast artwork

PODCAST · religion

دروس حُجّةُ اللہ البالِغة

حُجّةُ اللہ البالِغة کے ہفتہ وار دروسمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری

Publisher-supplied feed metadata · PodParley refreshed Feb 4, 2026 · Source feed

  1. 203

    حجۃ اللہ البالغہ | 204 | کتاب کے مضامین ایک نظر میں اور فضلیتِ شیخین | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 204 (اختتامی درس)قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتتمۂ کتاب: باب 03  (حصہ دوم)کتاب کے مضامین ایک نظر میں اور ملت کی حقیقت،  ملتِ ابراہیمیہؑ حنیفیہ کی جامعیت نیز فضلیتِ شیخینؓ کا بیانمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوریبتاریخ: 25؍ دسمبر 2022ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند مرکزی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز درس00:33 حُجّةُ اللّٰہِ البالِغة کی تصنیف کا پسِ منظر اور موضوع؛ احادیثِ نبویہؐ کی روشنی میں ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ بطور فلسفہ دینِ اسلام11:02 حضور ﷺ کی بعثت تک مذاہبِ عالم کے ہاں مسلمہ اُصول و ضوابط کا تعارف13:07 دنیا بھر کے نظام ہائے حیات کے مطالعے سے واقعی و حقیقی البِرّ (نیکی) اور الإثم (برائی) کا تعین17:38 نیکی و بدی پر قائم ہونے والے عملی نظام ’’السّیاسۃ المِلّیۃ‘‘ کا تحلیل و تجزیہ اور ملتِ ابراہیمیہؑ کے اُصول و ضوابط20:48 حقائقِ کائنات، انسان کی حقیقت اور اسے قانون کا پابند بنانے کے اَسباب و وجوہ اور نیکی و بدی کے تین معیارات کا تعین21:34  1۔ اعمال کی سزا و جزا اور اس کے دنیا و آخرت میں نتائج22:40  2۔ انسانی ضروریات و احتیاجات کی تسکین پر مبنی ارتفاقات کا نظام 23:18  3۔ تمام مذاہب کے ہاں نوعِ انسان کی کامیابی کے معیارات30:02 نیکی و بدی کی حقیقت36:52 ’’سیاستِ ملت‘‘؛ یعنی نظامِ سیاست کی حقیقت اور سیاسی رہنما و مفہّمین کا تعارف39:03 نبی اکرم ﷺ کی اَحادیث سے نیکی و بدی و سیاستِ ملیہ کے اُصول و ضوابط کے اَخذ و استنباط کے طریقے40:18 الایمان سے الحج تک دین کے سات نظاموں کی مربوط تفصیل51:35 دین کا آٹھواں نظام؛ اَحادیث کی روشنی میں علم السلوک والاحسان کی جامع لاجواب ترتیب اور اس کے احکامات و ضوابط55:56 نظامِ معاملات و تدبیرِ منزل و سیاستِ مدن اور آدابِ زندگی58:55 حضور ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ1:02:06 دینِ اسلام کو ممکنہ درپیش اور لاحق ہونے والے فتنوں کے خلاف مزاحمتی شعور پر جامع گفتگو1:08:00 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقب کے تین بنیادی اُصول1:15:17 آخری سبق: ملت کی حقیقت، مللِ سابقہ اور ملتِ ابراہیمیہ حنیفیہ کی جامعیت1:21:39 ملتِ ابراہیمیہ کے تسلسل و توارث میں جماعتِ صحابہؓ کی اہمیت و عظمت و خصوصیات01:26:46 جماعتِ صحابہ میں دو افضل ترین شخصیات؛ حضرات شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی افضلیت پر امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی پُرمغز اور سیر حاصل گفتگو01:39:43 کتاب کا اختتامی خطبہ اور حُجّةُ اللّٰہِ البالِغة کے منہجِ فکر پر امام دہلویؒ کی مرتب کردہ دیگر کتب کا تعارفپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  2. 202

    حجۃ اللہ البالغہ | 203 | خلافت کو لاحق چار بڑے فتنے اورمناقبِ صحابہؓ| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروسدرس : 203قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتتمۂ کتاب: باب 03 (حصہ اول)سیاست و خلافت کو لاحق چار بڑے فتنے اور مناقبِ صحابہؓ کا بیانمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 21 ؍ دسمبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔ حدیث میں مذکور سیاست و خلافت کو لاحق چار بڑے فتنے اور شاہ صاحبؒ کی دوسری تشریح۔ ملوک اور خلفاء کی حقیقت اور خلافت و ملوکیت کے نام افتراق و انتشار پیدا کرنے والوں کا ردّ۔  "فتنۂ اَحلاس" ، فتنۂ سرّاء اور انسانوں کو تھپڑا دینے والا فتنہ۔ فتنوں سے متعلق ایک اور حدیث: اسلام کی چکّی زیادہ سے زیادہ ستر سال چلے گی، حدیث کی صحیح تشریح سمجھنا بہت ضروری۱۔ اسلام کی چکّی کا درست مفہومب۔ روایت میں سالوں کے تعیُّن میں شک کی بنیادی وجہج۔ ہلاکت کا مفہومد۔ ستر سال کا آغاز بعثتِ نبویؐ اور تکمیل حضرت امیرِ معاویہؓ کی وفات تک۔ ستر سال کے عدد سے معاملے کی سنگینی کی طرف اشارہ نیز حدیث کے بطن الباطن کی طرف شاہ صاحبؒ کی توجہ دلا رہے ہیں۔۔ فتنۂ ملیّہ سے متعلق حدیث میں ترکوں کے عربوں پر تین حملوں کا ذکر ، جزیرة العرب پر قبضہ کرنے کا اشارہ اور شاہ صاحب کی تشریح: عباسیوں کی حکومت کا خاتمہ اور عثمانیوں کی حکومت کا قیام ۔ باب: 03 مناقبِ صحابہؓ سے متعلق تین امور کی نشان دہی۱) ہیئتِ نفسانیہ کی اساس پر آپؐ کا صحابی کی منقبت بیان کرنا۲) آپؐ کو خواب یا روحِ مبارک میں صحابی کے رسوخ کا مشاہدہ۳) کسی صحابی سے آپؐ کو محبت پیدا ہونا اور اس کی تعریف کرنا۔ علمی قاعدہ: "خیر القرون قرنی" والی حدیث کی تشریح: قرن کی حقیقت ، روایتِ حدیث اور خلافت و سیاست کے اعتبار سے قرن کے ادوار کا علیحدہ علیحدہ تعیّن میں ان قرون میں سے کونسا قرن افضل؟ بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  3. 201

    حجۃ اللہ البالغہ | 202 | چھ فتنوں سے متعلق نبی اکرمؐ کی احادیث | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 202قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتتمۂ کتاب: باب 02 (حصہ دوم)چھ فتنوں سے متعلق نبی اکرمؐ کی احادیث کا مطالعہمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 14 ؍ دسمبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس0:17 سابقہ درس: چھ فنتوں کا خلاصہ13:11  نبی اکرم ﷺ نے ان چھ فتنوں میں سے اکثر بیان کیے ہیں: احادیث کا مطالعہ16:31 پہلی حدیث میں نفسانی و شیطانی محرکات و دواعی کے فتنے کا ذکر19:24 دوسری حدیث میں مسلمانوں کی حکومت و خلافت کے چار ارتقائی مراحل: شاہ صاحب کا نکتۂ نظر32:46  تیسری حدیث میں دلوں پر فتنوں کے آنے کا ذکر ، شیطانی و نفسانی خیالات پیدا ہونا اور  فتنے میں مبتلا ہونے یا فتنے کے خلاف مزاحمت کرنے والے دو طرح کے قلوب: شاہ صاحبؒ کی وضاحت 44:36  چوتھی حدیث میں امانت کے نزول اور اس کے اٹھ جانے کا ذکر: شاہ صاحبؒ کی تشریح: اللہ کے دین کی نسبت اور لوگوں سے معاملات کے اعتبار سے امانت و دیانت کا ختم ہو جانا 53:00  پانچویں حدیث میں حضرت حذیفہؓ  کے نبی اکرم ﷺ سے خیر کے بعد شر پیدا ہونے سے متعلق سوالات اور آپؐ کے جوابات: شاہ صاحبؒ کی توضیح1:08:03 چھٹی حدیث میں فتنوں: "فتنۂ اَحلاس" ، "فتنۂ سرّاء" اور "فتنۂ دھیماء" کا ذکر اور شاہ صاحبؒ کی تشریح1:22:18 ان فتنوں میں آخری فتنہ قیامت کی علامات کا ظہور1:25:00 دو طرح کے حشر ہوں گے ؛ ایک حشر قیامت سے پہلے اور دوسرا بعث بعد الموت

  4. 200

    حجۃ اللہ البالغہ | 201 | فتنوں کی چھ اقسام اور اُن کی تفصیلات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 201قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتتمۂ کتاب: باب 02  فتن (حصہ اول)فتنوں کی چھ اقسام اور اُن کی تفصیلات مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 07 ؍ دسمبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔ سابقہ باب کا خلاصہ اور اس باب سے ربط۔ملکیت و بہیمیت میں توازن و اعتدال رکھنا بڑی آزمائش۔ علم الفتن و الإِنذار و المعاد، ایک مستقل علم۔ یہ علم نبی اکرم ﷺ کو خصوصی طور پر ودیعت کیا گیا۔  انسانیت کو لاحق ہونے والے ممکنہ چھ فتنے اور آپ ﷺ کا ان فتنوں سے باخبر کرنا۔ ۱۔ فتنۂ شخصیت اور اس پر جامع گفتگو۔انسانی نفس کے تین شعبے: قلب ، عقل اور طبع (طبیعتِ انسانی) اور فتنے کے تناظر میں ان اَقسام کا تحلیل و تجزیہ (انسانی لطائف کی معرفت) ۱۔ قلب کی اقسام: قلبِ بہیمی، قلبِ شیطانی ،قلبِ انسانی اور قلبِ روحانیب۔ عقل کی اقسام: عقلِ بہیمی ، عقلِ شیطانی ، عقلِ سلیم، عقلِ سرّی و عقلِ خفیج۔ نفس کی اقسام: نفسِ امارہ ، نفس لوامہ اور نفسِ مطمئنه۔ ۲۔ فتنۂ عائلی (خاندانی نظام میں فساد کا فتنہ )۔ ۳۔ فتنۂ مملکت (دریا کی لہروں کی صورت میں ملکی نظام میں فساد پیدا کرنے والا فتنہ)۔ ۴۔ فتنۂ ملت (نبی اکرم ﷺ کے تربیت یافتہ حواری و صحابہ کا دنیا سے چلے جانا اور دینی معاملات نا اہل لوگوں کے سپرد ہونا) اور مزاحمتی عمل۔ ۵۔ انسانیت میں پھیلا ہوا فتنہ (انسانیت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے معیار میں تغیر و تبدل پیدا ہونا) نیز اس فتنے کے انسانوں کی کیفیتوں کے اعتبار سے مختلف اثرات۔ ۶۔ فتنۂ حوادث و واقعات (انسانوں کی مکمل ہلاکت و تباہی کے عمومی اور پوری فضا میں پھیلے ہوئے قیامت کے وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حوادثات)پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  5. 199

    حجۃ اللہ البالغہ | 200 | خلیفة اللہ کی حیثیت سے نبیؐ کے مزید واقعات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 200قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتتمۂ کتاب: باب 01    نبی اکرم ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ (حصہ چہارم)خلیفة اللہ فی الارض کی حیثیت سے نبی اکرم ﷺ کے مزید واقعات و معجزاتمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 30 ؍ نومبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس0:26 فتحِ خیبر: پسِ منظر ، خلافتِ کبری کی ابتداء اور اس کی آیات و نشانیاں20:18 فتحِ خیبر کے بعد کے واقعات: بین الاقوامی ظالمانہ نظام کے خاتمے کا الہام ،  حکمرانوں کے نام خطوط اور غزوہ موتہ28:20 فتحِ مکہ کی تقریب: قریش کا معاہدے کی خلاف ورزی کرنا 34:00 غزوہ حنین اور نبی اکرم ﷺ کی استقامت41:57 حضور ﷺ پر جادو اور دنیوی امور میں جادو کا اثر انداز ہونا47:50 مالِ غنیمت کی تقسیم اور آپؐ کا ذو الخویصرہ کے متعلق پیشن گوئی کرنا 52:59 حضرت ابو ہریرہؓ کی والدہ کے لیے دعا تو اسی دن ایمان لے آئیں 54:37 خلیفة اللہ فی الارض کی حیثیت سے نبی اکرم ﷺ کے مزید واقعات و معجزات1:04:40 خلافتِ کبری کی تکمیل کے بعد اس کا عملی اظہار ، غزوہ تبوک اور پیش آمدہ واقعات 1:14:44 مشرکوں سے سابقہ معاہدات ختم اور چار ماہ کی مہلت: سورت براءت کا نزول1:15:46 مباہلہ کرنے کے لیے نصاری نجران کا وفد 1:16:15 حجة الوداع ، دنیا سے رخصتی کا وقت قریب اور آمدِ جبرئیلؑ پر دین کا خلاصہ بیان کرنا1:22:44  مرض الوفاة اور رفیقِ اعلی کا مسلسل تذکرہ1:24:15 نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد ملت کے معاملات کی کفالت کا انتظام اور غلبہ دین کی تکمیل1:25:50 سیرتِ نبی اکرم ﷺ کا جامع خلاصہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  6. 198

    حجۃ اللہ البالغہ | 199 | ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے قومی اقدامات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 199قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتتمۂ کتاب: باب 01    نبی اکرم ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ (حصہ سوم)ریاستِ مدینہ کی تشکیل کے قومی اقدامات  اور معجزات و برکات کا ظہورمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 23 ؍ نومبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس 0:17 ہجرتِ مدینہ کا پسِ منظر  ،  بیعتِ عقبہ اولی و ثانیہ اور قریش کا رد عمل 8:29 ہجرتِ مدینہ میں پانچ معجزات کا ظہور24:22ریاستِ مدینہ کے اساسی امور :۱) یہود سے معاہدہ: میثاقِ مدینہ اور اس کی شقیں۲)  مرکز کی بنیاد: مسجدِ نبویؐ کی تعمیر ۳) جماعت ، جمعہ اور  عبادات اور حدود کے امور ۴) دینِ اسلام کی اعلانیہ دعوت ۵)  مؤاخات کے ذریعے ریاستِ مدینہ کی مضبوطی35:52 جہاد کی فرضیت ، اس کا بنیادی راز  اور ظلم کے خلاف پہلی جنگ: غزوہ بدر53:58  یہود کی جلاوطنی اور باغیوں کے خلاف اِقدام1:00:18 غزوہ اُحد اور پہلی مرتبہ ہزیمت سے تین نتائج کا سامنے آنا1:07:51 حضرت عاصمؓ اور ستر قراء صحابہؓ کی شہادت کا واقعہ 1:12:43 غزوہ اَحزاب اور پانچ امور1:22:36 آپؐ کاحضرت زینبؓ سے نکاح اور اس کا راز1:23:59  نبی اکرمؐ کے معجزات و برکات کا ظہور1:29:24 غزوہ بنی مصطلق اور واقعہ اِفک (طوفانِ بدتمیزی)1:30:58 کسوفِ شمس (سورج گرہن)1:34:01 نبی اکرمؐ کا خواب اور صلح حدیبیہ: قومی و بین الاقوامی انقلاب کی تقریبپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  7. 197

    حجۃ اللہ البالغہ | 198 | واقعۂ معراج کے بارہ امور کی حقیقت | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 198قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتتمۂ کتاب: باب 01    نبی اکرم ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ (حصہ دوم)دینِ اسلام کی دعوت کا آغاز اور واقعۂ معراج کے بارہ امور کی حقیقتمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 16 ؍ نومبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس 0:30 دینِ اسلام کی دعوت: خفیہ دعوت کا آغاز ، اعلانیہ و خاندان کو دعوت دینے کا حکم اور مشرکین کی طرف سے ایذا و تکلیف12:40 مشرکین کا تعصب اور ہجرتِ حبشہ کا حکم14:28 عام الحزن ، بنو ہاشم کی اجتماعیت کا بکھرنا اور ہجرت کرنے کا خیال21:38 واقعہ طائف کے تناظر میں آیت نمبر 52 (سورۃ الحج) کا درست معنی و مفہوم38:30 واقعۂ اِسراء (معراج): تفصیلات39:43 سفرِ معراج جاگنے کی حالت میں جسم مبارک کے ساتھ ہوا44:40 انبیاءؑ کو نورِ عرش کا مشاہدہ: واقعہ معراج کے دلائل52:33 ۱) شقِ صدر کی حقیقت کے تین پہلو57:49  ۲) براق پر سوار ہونے کا مطلب و مفہوم: نفسِ ناطقہ کے احکامات کا مکمل غلبہ1:01:34  ۳) مسجدِ حرام سے مسجد اقصیٰ کا سفر 1:04:50 ۴) مسجدِ اقصیٰ سے آسمانوں کا سفر اور انبیاءؑ سے ملاقات کی تعبیر1:09:10 ۵) درجہ بدرجہ ہر آسمان پر چڑھنے کا بنیادی راز1:13:23  ۶) حضرت موسیٰؑ سے ملاقات اور ان کے رونے کی وجہ1:17:37  ۷) سدرة المنتہیٰ کی حقیقت: پوری کائنات درخت کی مانند 1:24:23 سدرة المنتہیٰ  (کائنات کا عالمگیر نظام) کی درخت سے مشابہت کا راز1:31:32  ۸) سدرة المنتہیٰ کی جڑ سے ظاہری و باطنی نہریں جاری اور ان کا فیضان1:40:00 ۹)  سدرة المنتہیٰ کو ڈھانپنے والے انوار ات و تجلیات اور تدبیراتِ الہیہ1:41:52 ۱۰)  بیتِ معمور کی حقیقت1:44:30 ۱۱) دودھ اور شراب کا پیالہ لایا گیا اور آپؐ کا دودھ کو پسند فرمانا 1:46:34 ۱۲) پانچ وقت کی نماز فرض اور حضرت موسیٰؑ کا نمازیں کم کراناپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  8. 196

    حجۃ اللہ البالغہ | 197 | آپ کی پانچ نسبی خصوصیات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 197قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتتمۂ کتاب: باب 01   نبی اکرمؐ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ (حصہ اول)آپ کی پانچ نسبی خصوصیات جسمانی ساخت اور اخلاق و عادات مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 02 ؍ نومبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ کتاب کی مباحث کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ باب سے ربط: نبی اکرم ﷺ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہ۔۔ سیرت کا معنی ۔۔  نبی اکرم ﷺ کا نسب مبارک اور پانچ نسبی خصوصیات ۔۔ بعثتِ انبیاءؑ کے اساسی امور ۔۔ جسم مبارک کی ساخت میں اعتدال و توازن  ۔۔ اخلاق و عادات اور کردار۔۔ جبلی ملکوتی صفات۔۔ دنیا میں آمد سے پہلے آپ سے متعلق بشارات۔۔ قبل از نبوت علاماتِ نبوت کا اظہار۔۔ نبوت کا آغاز: سچے خواب ، وحی کا نزول اور فترتِ وحی اور فرشتے کو دیکھنا: بنیادی راز۔۔ نزولِ وحی کی کیفیت: دو صورتیں اور ان کا رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  9. 195

    حجۃ اللہ البالغہ | 196 | کفتگو کے آداب اور اَیمان و نذور کے احکام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 196قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ معیشت: باب  04  (حصہ دوم)کفتگو اور مکالمے کے آداب اور اَیمان و نذور کے احکاممُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 26 ؍ اکتوبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ احادیث کی روشنی میں بات چیت اور مکالمے کے آداب۔۔ حضور اکرم کے نام اور کنیت کے مطابق اپنا نام محمد اور ابو القاسم رکھنا جائز نہیں ہے۔۔۔ مبالغہ آرائی ، بغیر سوچے سمجھنے اور بے ادبی پر مشتمل بات چیت کی ممانعت۔۔ گفتگو میں تصنّع اور بناوٹی انداز،  فحش گوئی ، ہر وقت شعر و شاعری و مزاح کی حالت اور طویل قصہ گوئی کی ممانعت ۔۔ آفاتِ لسان کے اصول: غیبت اور جھوٹ کی ممانعت۔۔ چھ قسم کی باتیں غیبت نہیں:۱) ظالم کے ظلم کی نشان دہی کرنا۲) گناہ گار کو راہِ راست پر لانے اور مُنکَرات (برائیوں) کو روکنے کی غرض سے دوسرے سے مدد لینا ۳) رہنمائی کے لیے کسی کے متعلق مسئلہ پوچھنا ۴) کسی شخص کے شرّ سے مسلمانوں کو خبردار کرنا۵) اعلانیہ فسق و فجور کے مرتکب شخص سے دور رہنے کے لیے دوسروں کو متنبہ کرنا۶) کسی شخص کا کوئی عیب معروف ہو تو اس کو اس نام سے پکارنا۔۔ دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت۔۔ باب: 05 اَیمان و نذور (قسمیں اٹھانا اور منت مانگنا)۔۔ نذر ماننا اور قسم اٹھانا کوئی نیکی نہیں۔۔ حَلف (قسم) کی چار قسمیں اور ان کا حکم ۔۔ غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت نیز  بھلائی کے لیے قسم کا کفارہ ادا کرکے قسم توڑنے کا حکم۔۔ نذر کی پانچ قسمیں (نذرِ مبهم ،  نذرِ مباح ، نذرِ طاعت ، نذرِ معصیت اور  نذرِمستحیل) احکامات ۔۔ تتمۂ کتاب: اَسرارِ شریعت میں سے جتنا مقصود و مراد تھا وہ مکمل ہوا۔۔ کتاب کے آخر میں تین باب:۱۔  نبی اکرمؐ کی جامع سیرت کا منفرد خاکہب۔ امت کو ممکنہ درپیش اور لاحق ہونے والے فتنےج۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مناقبپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  10. 194

    حجۃ اللہ البالغہ | 195 | آدابِ ہم نشینی و معاشرت(انسانی میل جول) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 195قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ معیشت: باب  04  (حصہ اول) آدابِ ہم نشینی و معاشرت(انسانی میل جول کا نظام) اور احادیث کی روشنی میں اس کے احکامات مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 12 ؍ اکتوبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ آدابِ ہم نشینی و معاشرت (انسانی میل جول کا نظام): علمی قاعدے سے توضیح۔۔ ملاقات کا ادب: التحیة (ایک دوسرے کو سلام کہنا): راز اور مختلف مذاہب کے تحیہ کے الفاظ ۔۔ انبیاءؑ کا تحیه "السلام"۔۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ اور آدمیت میں اجتہادی صلاحیت رکھ دی۔۔ "سلام"  سے متعلق آپؐ کے احکامات اور ان کے اسرار و رموز۔۔ السلام علیکم کی روح: جان و مال کی حفاظت کی ضمانت۔۔ چھوٹے بڑوں کو سلام کہیں نیز سلام میں پہل کرنے کی تاکید۔۔ یہود و نصاری کو سلام کہنے سے متعلق حدیث اور اس کا راز۔۔ سلام کے الفاظ: اجر و  ثواب اور فضیلت کا راز۔۔ جماعت میں سے ایک آدمی کا سلام کہنا اور جواب دینا  کافی: بنیادی وجہ۔۔ سلام الوداع کے فوائد۔۔ مصافحہ کرنے کا راز۔۔ آنے والے کے لیے کھڑا ہونا: بظاہر متضاد احادیث اور ان میں جمع و تطبیق۔۔ بت بن کر کسی کے آگے کھڑا ہونے اور  ملاقات کے وقت جھکنے کی ممانعت ۔۔ آدابِ معاشرت کا ایک اہم ادب: اجازت طلب کیے بغیر گھر میں داخل ہونے کی ممانعت نیز اجازت کے تین درجے ۔۔ احادیث کی روشنی میں بیٹھنے ، سونے اور سفر وغیرہ کے آدابپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  11. 193

    حجۃ اللہ البالغہ | 194 | طبِ نبویؐ ، رقیٰ و فال اور نجوم کی تاثیرات| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 194قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ معیشت: باب  03  (حصہ دوم)طبِ نبویؐ ، رقیٰ و فال کی حقیقت ، نجوم کی تاثیرات اور خواب کی پانچ قسموں کا بیانمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 05 ؍ اکتوبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت سے قبل عربوں کے اَمراض و مصائب دور کرنے کے امور اور آپؐ کی رہنمائی۔۔ طبی ادویات سے علاج معالجے میں آپؐ کی رہنمائی: تین طرح کے علاج کی ممانعت ۔۔ طبِ نبویؐ کی بنیاد عرب معاشرے کے تجربات پر ہے۔۔۔  "رقیٰ" کی حقیقت اور اس سے متعلق رہنمائی۔۔ نظر لگنا (عین) برحق اور اس کی تعریف اور نیز رقی  کی ممانعت کے تین اَسباب۔۔ "فال" اور  "طِیَرہ" کی حقیقت اور اس کی تین شکلیں نیز ان کی شرعی حیثیت۔۔ حدیث میں "عدویٰ" (متعدی مرض) کی نفی اور اس کی قرار واقعی حقیقت۔۔ "ھامہ"  و "غول" کے نام پر توہم پرستی کا رد۔۔ حدیث میں "فال" ،  "طِیَرہ" ، "عدویٰ" و "ھامہ" کی حقیقت کی نفی نہیں: دلائل سے وضاحت۔۔ شریعت میں نجوم کی تاثیر ات کی سرے سے نفی نہیں۔۔نجوم کی تاثیرات کے علم کی دو قسمیں: ۱۔ بدیہیاتِ اولیہ ، ۲۔ حدس و تجربہ اور رصد گاہ ۔۔ ستاروں کی تاثیرات کے دو پہلوؤں کی وضاحت اور ذاتِ باری تعالی کے مؤثر حقیقی ہونے کا درست مفہوم۔۔ رؤیا (خواب) کی پانچ اقسام: بشری من اللہ اور رؤیا مَلکیہ کی حقیقت نیز خوابات کی تعبیرپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  12. 192

    حجۃ اللہ البالغہ | 193 | تعیش پسندی کی دیگر ممنوع شکلیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 193قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ معیشت: باب  03  (حصہ اول)تعیش پسندی کی دیگر ممنوع اور ناجائز شکلیں نیز زیب و زینت کے جائز  امور کی نشان دہی مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 28 ؍ ستمبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ: تعیش پسندی کی ممنوع اور ناجائز شکلیں۔۔ ۲) تعیش پسندی کے لیے زیوارت پہننا عجم کی عادت ، شریعت میں عورتوں کے لیے سونا پہننا جائز اور مردوں پر حرام: بنیادی راز۔۔ چاندی کی انگوٹھی بطور مُہر کے لیے خاص طور پر حکمران کے لیے پہننا جائز ۔۔ سرمایہ پرستی کے خاتمے کے لیے شاہ صاحبؒ کے ہاں غیر مُقطَّع سونا (جس کا زیور نہ بنا ہو) پہننا عورتوں کے لیے بھی حرام۔۔ ۳) بالوں کی زیبائش و آرائش اور تزیّن اختیار کرنا: حُبِّ جمال میں دو انتہا پسندانہ طبقے اور نبی اکرم ﷺ کا معتدل طریقہ۔۔ فطرتِ انسانی کے پانچ امور۔۔ بالوں سے متعلق نبی اکرم ﷺ سے منقول روایات اور ان کی تشریح۔۔ خوبصورتی کے لیے بالوں لگوانے ، نوچنے اور دانتوں میں فاصلہ کرانے والوں پر اللہ کی لعنت: حدیث کا مفہوم۔۔آپؐ نے زیب و زینت کےجائز اور ممنوع  امور کی نشان دہی کر دی ہے۔ ۔۔ ۴) کپڑوں اور  دیواروں وغیرہ پر تصاویر بنانے کی ممانعت: دو وجوہات۔۔ ۵) دنیا و آخرت کے امور سے غافل کرنے والے کام (مُسلِّیات) کی ممانعت۔۔ شادی و بیاہ میں فرحت و سرور کی اجازت ، یہ مُسلِّیات میں سے نہیں ۔۔ ملاهی (کھیل کود) کی دوقسمیں اور ان کا حکم۔۔ حدی خوانی مُسلِّیات میں سے نہیں ۔۔ جنگی تیاری کے لیےآلاتِ حرب کے کھیل کود کا حکم ۔۔ کبوتر بازی اور جانور لڑانے کی ممانعت ۔۔ ۶)  بلا ضرورت سواریاں (گاڑیاں) اورفالتو ساز و سامان اکٹھا کرنے کی ممانعت۔۔ شوقیہ کتے پالنے پر لعنت کا موجب اور تین قسم کے کتوں کا استثناء۔۔۷)  سرمایہ پرستی کے تناظر میں سونے اور چاندی کے برتنوں کااستعمال ممنوع۔۔ ۸) بڑی بڑی شاندار عمارتین بنانا اور کمروں کو زیب و زینت سے آراستہ کرنے کی ممانعت: تعیش پسندی کی ہر شکل ناجائز پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  13. 191

    حجۃ اللہ البالغہ | 192 | شربِ خمر کی حرمت اور حلال مشروبات کے آداب| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 192قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ معیشت: باب  02  (حصہ چہارم) شربِ خمر  کی حرمت اور حلال مشروبات کے آداب نیز ممنوع لباس کی چند صورتیںمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 21 ؍ ستمبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ مشروبات کے آداب اور حلال و حرام کی تفصیل۔۔ شربِ خمر (شراب نوشی) کی خرابیاں اور حرمت پر تمام ملتوں کا اتفاق۔۔ حکمتِ عملی کے تقاضے سے شربِ خمر کے جواز کے خیال کی شاہ صاحبؒ کی طرف سے تردید۔۔ قلیل مقدار (جو نشہ آور نہ ہو) شراب کے عدمِ جواز کا بنیادی راز۔۔حرمتِ شراب پر کثرت سے منقول احادیث اور واقعات کی تفصیلات۔۔ شراب کی حرمت سے متعلق روایات کی تشریح۔۔ حلال مشروبات کے پینے کے آداب اور حکمتیں۔۔ باب: 03 (لباس ، زیب و زینت اور برتن وغیرہ) ۔۔ عجمیوں کی عادات اور تعیشات میں انتہاء پسندی کی ممانعت۔۔ ۱) لباسِ فاخرہ پہننا حرام اور ممنوع لباس کی چند صورتیں۔۔ لباس سے متعلق احادیث میں بظاہر تعارض اور ان میں جمع و تطبیقپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  14. 190

    حجۃ اللہ البالغہ | 191 | آدابِ طعام اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 191قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ معیشت: باب  02  (حصہ سوم)آدابِ طعام اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیماتمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 14 ؍ ستمبر  2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ ۔۔ طریقہ طعام اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات۔۔ برکت کا مفہوم ، دو پهلو ، ظہورِ برکت کا سبب: تفصیلات۔۔کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی حکمت۔۔ بسم اللہ پڑھے بغیر اور دائیں ہاتھ سے کھانا کھانے والے کے ساتھ شیطان کا شریک ہونا نیز انسانوں کے خیالات پر  شیاطین و ملائکه کے اثرات اور نبی اکرم ﷺ کا مشاہدہ۔۔ کھانے میں مکھی گر جائے تو اس کے دونوں پَر ڈبونے والی حدیث کے بنیادی راز کی علمی قاعدے سے توضیح۔۔ نبی اکرم ﷺ کے کھانے  کےمعمولات سے متعلق احادیث اور ان کی تشریح

  15. 189

    حجۃ اللہ البالغہ | 189 | حلال و حرام جانور اور حلت و حرمت کی حکمتیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 189قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ معیشت: باب 02 (حصہ اول) کھانے پینے کے آداب و امور: حلال و حرام جانور اور حلت و حرمت کی حکمتیںمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 31 ؍ اگست 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔معاشی سرگرمیوں میں نبی اکرم ﷺ کے متعین کردہ پانچ بنیادی اصول (سابقہ درس کا خلاصہ)۔۔ کھانے پینے  کے آداب و امور کی علمی قاعدے سے وضاحت۔۔ نفسِ انسانی کی صحت (اعلی اخلاق) یا مرض (بد اخلاقیوں) کے اسباب کی تحقیق و تفتیش کے دو پہلو۔۔ انسانِ کامل (انبیاءؑ) سے زیادہ ان اسباب کی پڑتال کرنے والا کوئی نہیں۔۔ اللہ کی مہربانی و رحمت کا لازمی تقاضا۔۔ اخلاقِ اربعہ کی ضد پیدا کرنے والی غذاؤں میں ایک خنزیر؛ حرمت کے بنیادی اسباب۔۔ فطرتِ سلیمہ کو ناپسند اور مزاجِ انسانی میں سماحت و عدالت کے لیے مُضر حیوانات کی مزید پانچ قسمیں۔۔بتوں کے نام پر مذبوحہ جانور ، مردار اور غیر فطرتی طریقے سے ذبح کیے ہوئے جانور حرام: حرمت کی ضابطہ بندی و وجوہات نیز ذبح و نحر کی مصلحتیں۔۔ شریعت میں چار قسم کے حلال و حرام جانور اور حلت و حرمت کی حکمتیںپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  16. 188

    حجۃ اللہ البالغہ | 188 | دین اسلام کا نظامِ معیشت: پانچ بنیادی اصول | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 188قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ معیشت: باب  01 دین اسلام کا نظامِ معیشت اور  نبی اکرم ﷺ کے متعین کردہ پانچ بنیادی اصولمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 17 ؍ اگست 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ابوابِ سیاستِ مدن کے بعد معیشت کے ابواب کا مطالعہ۔۔ وسائل و حاجات کے تناظر میں معیشت کے تین دائرے: جامع تعریف۔۔ معیشت کا ہدف: ارتفاقِ ثانی میں انسانی احتیاجات کی تسکین کا بہترین نظام کا قیام۔۔ معیشت پر حکومت کا کنٹرول ، مخصوص طبقے اور مافیاز کے مفادات کا تحفظ لیکن عام آدم کی احتیاجات سے روگرانی؛ سرمایہ پرست نظام کی خرابیاں۔۔ شاہ صاحبؒ کے ہاں معیشت کا دائرہ کار اور اصل حقیقت کی نشان دہی۔۔ مہذب اقوام کا معاشی احتیاجات پورا کرنے کے طور طریقوں پر اتفاق۔۔ ہر قوم اور معاشرے کے نظام معیشت کے اپنے اپنے طور طریقے اور ملت کے مطابق عملی صورتیں۔۔ دینِ اسلام کے نظامِ معیشت کی خصوصیات اور دیگر نظاموں کی خرابیاں۔۔ نبی اکرم ﷺ کا نظامِ معیشت کے مصالح و مفاسد کی نشان دہی اور معاشی نظام میں پانچ بنیادی امور کا تعین۔۔ ۱) ہر معاشی سرگرمی میں مشغولیت کے وقت یادِ باری تعالی کا استحضار ضروری۔۔ ۲) شیاطین سے مناسبت رکھنے والے مکروه و حرام اَفعال اور ہیئتوں و شکلوں سے بچاؤ ضروری۔۔ ۳) انسانی تجربات سے ثابت شدہ اذیت و نقصان پہنچانے والی اشیاء اور امور سے بچنا لازمی۔۔ ۴) قیصر و کسری کی تعیش پسندی اور لذات کے تعمقات اختیار کرنے کی ممانعت۔۔ ۵) تمام معاشی سرگرمیوں میں انسانی وقار کے منافی امور سے بچنے کی تاکیدپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  17. 187

    حجۃ اللہ البالغہ | 187 | مالِ غنیمت و مال فئی کے مصارف و تقسیم کار | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 187قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  06 (حصہ چہارم) جہاد و انقلاب: مالِ غنیمت و مال فئی کے مصارف و تقسیم کار: قوانین و مقاصد مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 27 ؍ جولائی 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔بین الاقوامی غلبے کے لیے وسائلِ جہاد اکٹھا کرنے کا نظام: مال غنیمت و مال فئی کے مصارف اور تقسیم کے قوانین۔۔ ظالموں اور کافروں سے لیے ہوئے مال کی دو قسمیں: مالِ غنیمت اور مالِ فئی ۔۔ مالِ غنیمت کے مصارف اور تقسیم کے قوانین۔۔ مالِ فئی کا مصرف ، خرچ کا اصول اور مصلحت کے مطابق تقسیم کار۔۔ مفتوحہ زمین کے تین مصرف۔۔ جزیہ (ٹیکس) کی مقدار: حالات و مصالح کے پیشِ نظر حکومت کو فیصلہ کرنے کا اختیار۔۔ مالِ غنیمت اور مالِ فئی کے حلال ہونے کی دلیل اور حکمت۔۔ مالِ غنیمت اور مالِ فئی کے مصارف کے پانچ مقاصد: انسانیت ، ریاست حکومت ، ملت اور منفعتِ مشترکہ  ۔۔ بلاد و ممالک کی دو قسمیں اور ان کے اعتبار سے مصارف کا قانون۔۔ بیت المال کا بجٹ ممالک کی نوعیت کے اعتبار سے طے ہوگا۔۔ اہم قانون کی نشان دہی۔۔ مالِ فئی میں خمس (پانچواں حصہ) متعین کرنے کا راز  اور رسول اللہ ﷺ کے لیے اس میں حصہ مقرر کرنے کے حکمت۔۔ قرابت داروں کو حصہ دینے کا راز۔۔ محتاجوں، مؤلفةِ قلوب کا حصہ اور دیگر احکام۔۔ جزیرة العرب سے دشمنان دین کو نکال باہر کرنے کی تین وجوہاتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  18. 186

    حجۃ اللہ البالغہ | 186 | فوجی نظم و نسق؛ جنگی تیاری و حکمت عملی | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 186قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  06 (حصہ سوم) احادیث  کی روشنی میں فوجی نظم و نسق؛ جنگی تیاری و حکمت عملی  ، اقدامات و  مصالحت کےامور مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 20 ؍ جولائی 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔جہاد کے ذرائع بھی لازمی: سرحدوں کا دفاع، دشمن کے خلاف جدوجهد اور امراء کا تقرر ۔۔فریضہ جہاد سر انجام دینےوالوں کو نبی اکرم ﷺ کی چار ہدایات (غلول ، غدر ، مُثلہ اور بچے کو قتل کرنے کی ممانعت) اور شاہ صاحبؒ کی وضاحت۔۔ دشمن سے جنگ لڑنے سے پہلے تین آپشنز کی دعوت اور ان کی تفصیلات۔۔ شاہ صاحبؒ کی حدیث کی منفرد تشریح: تین خصلتوں کی ترتیب وار دعوت کا درست مفہوم۔۔ سوال کا جواب: حدیثِ نبویؐ اور قولِ عمرؓ میں کوئی تعارض نہیں۔۔ جہاد کا اصل مقصد نظامِ عالم کا قیام ، رفعِ تظالم اور تہذیبِ نفوس۔۔ مملکت کے نظام اور حکمران کے لیے ہدایات و ذمہ داریاں۔۔ احادیث  کی روشنی میں فوجی نظم و نسق؛ جنگی تیاری و حکمت عملی  ، اقدامات و  مصالحت پر مشتمل ۲۲ امور ۔۔ غلول (مالِ غنیمت اور قوم کے اجتماعی (سرکاری) مال میں بد دیانتی) کی دنیا و آخرت میں سزا اور حدیث کا معنی و مفہوم اور رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute

  19. 185

    حجۃ اللہ البالغہ | 185 | ​​جہاد و انقلاب کے مقدمات کی ترغیب: امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    حضرت مفتی سعید الرحمن: احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 185قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  06 (حصہ دوم) ​​جہاد و انقلاب کے مقدمات کی ترغیب: بنیادی اساسی امورمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 22 ؍ جون 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔زیرِ مطالعه سبق: دین اسلام کی مقدماتِ جہاد کی ترغیب سے متعلق احکامات کا بیان  ۔۔ مقدماتِ جہاد کی ترغیب: ضرورت ، اَسبابِ جہاد؛ رِباط و رمی کی وضاحت اور اللہ کا واضح حکم ۔۔۱) مقدماتِ جہاد کی ترغیب: احادیث میں عملِ رِباط کا اجر اور مرابط کے لیے پانچ فوائد کی بشارت ۔۔ حدیث میں مذکور پانچ فوائد کی تشریح اور اسرار و رموز کی نشان دہی۔۔ ۲) مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے ساز و سامان مہیا کرنے اور تعاون و خیر خواہی کرنا: ثواب اور حدیث کا راز۔۔ ۳) اللہ کی راہ میں زخمی شخص کا قیامت کے دن اعزاز اور ولی اللهی فلسفے کی روشنی میں حدیث کی توضیح۔۔ ۴) آیتِ قرانی (ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا الخ) کی نبی اکرم ﷺ کی وضاحت۔۔ راہِ خدا میں جان قربان کرنے والے شخص کی دو خصلتیں(نسمہ ہر قسم کےامراض سے پاک اور روح پررحمتِ الہی کا نزول)  شاہ صاحبؒ کی تشریح۔۔ احادیث میں ان دو خصلتوں کے روح میں جمع ہونے کے عجیب و غریب امور کا ذکر: افراد کےاعتبار سے درجات۔۔ شرعی جہاد کسے کہتے ہیں؟ شریعت کے دو تقاضے؛ نظامِ صالح کا قیام اور تہذیبِ نفس کی تکمیل کے لیے جدوجہد شرعی جہاد کہلاتا ہے۔۔۔ مال اورجاہ ومقام کے لیے جنگ لڑنے والے شخص کے متعلق حدیث میں دو ٹوک حکم اور شاہ صاحبؒ کی تشریح نیزایک سوال کا جواب۔۔ جہاد کے عمل کو چھوڑنا دنیا میں ذلت و رسوائی کا سبب۔۔ نبی اکرم ﷺ کی خلافتِ عامہ (بین الاقوامی حکومت) اوراَدیانِ باطلہ پر دین حق کو غالب کرنے کے لیے بعثت اور یہ دونوں جہاد و انقلاب کے بغیر ممکن نہیں۔۔ اسی غلبے کی سوچ سے گھوڑا پالنے والے اور تیر اندازی کرنے والے کا اجر و ثواب۔۔ معذور افراد پر فریضہ جهاد عائد نہیں۔۔ جنگی میدان سے ڈر کر بھاگنا حرام: بنیادی راز اور ضابطه بندیپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  20. 184

    حجۃ اللہ البالغہ | 184 | انقلابی جدوجہد کے ۳ و فضائلِ جہاد کے ۶ اصول | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 184قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  06 (حصہ اول) جہاد و انقلاب: انقلابی جدوجہد کے تین اصول اور فضائلِ جہاد کے چھ اصول مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 15 ؍ جون 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ سابقہ دروس کا خلاصہ: داخلی نظم و نسق کے بیان کے بعد ملکی دفاع کے لیے جِہاد (جدوجہد) کی ضرورت و اہمیت۔۔ کامل ترین شریعت اور مکمل دین میں جہاد کی مشروعیت کی بنیادی وجہ اور مثال سے وضاحت۔۔ سوسائٹی کے درندہ صفت کینسر زدہ ظالم انسانوں کا خاتمہ: جِہاد کا بنیادی مقصد۔۔ظالم پر قہر مسلط کرنا ضروری: حدیث کی توضیح۔۔ انسانیت کا صفتِ احسان سے متصف ہونا ، ان سے ظلم دور کرنا ، گھریلو و ملکی و بین الاقوامی نظام کی درستگی ، اللہ کی کامل رحمت کا مقصد و منشا۔۔ درندہ صفت اور دہشت گرد ریاستیں دیمک اور کینسر کی مانند اور ان کا علاج انقلابی جدوجہد ۔۔ اس اصول کی تاریخی مثال: قریش کے حالات اور نبی اکرم ﷺ کا غلبہ دین کے لیے انقلابی کردار ۔۔ جِہاد کے فرض ہونے کی ایک اور وجہ: عرب و عجم کے فسادی تمدن پر اللہ غضب ناک ہونا اور قیصر و کسری کی ظالمانہ حکومتوں کے خاتمے کا فیصلہ: جماعتِ صحابہ کی جدوجہد کا "ازالة الخفاء" میں تذکرہ۔۔ احادیث کی روشنی میں جِہاد کے فضائل کے چھ اصول۔۔ ۱) حق تبارک و تعالی کے اِلہام اور تدبیر سے جِہاد کی مطابقت و موافقت ضروری اور غیر انقلابی سوچ بہت بڑی کوتاہی۔۔ ۲)  اِنقلابی جدوجہد پُر مشقت عمل جس کی بنیاد خلوصِ نیت۔۔ ۳) جہاد و اِنقلاب کا داعیہ و شوق فرشتوں سے مُشابہت نیز جِہاد کی شرط اِعلائے کلمة اللہ ۔۔ ۴) جِہاد کا بدلہ عمل کے مطابق دیا جائے گا۔۔ ۵) جِہاد کے لیے ممکنہ وسائل اکٹھا کرنا بھی ضروری۔۔ ۶) جِہاد کے عمل سے مقصود ملتِ حنیفیہ کے نظام کی تکمیل اور دین کی عظمت و شوکت قائم کرنا۔۔ جہاد کے فضائل سے متعلق احادیث کا مطالعہ اور ان کے اسرار و رموزپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  21. 183

    حجۃ اللہ البالغہ | 183 | فیصلہ سازی میں نبی اکرمؐ کے قوانینِ کلیہ| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 183قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  05 (حصہ دوم) قضاء (عدالتی نظام) کا بیانممکنہ طور پر حقائق پر مبنی فیصلہ جاری کرنے کے لیے نبی اکرمؐ کے متعین کردہ قوانینِ کلیہ اور فیصلہ جاتمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 08 ؍ جون 2022ءبمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ: عدالتی نظام کا بیان ۔۔ دوسرا مقام: حقائق پر مبنی عادلانہ فیصلہ کرنا اور نبی اکرمؐ کی ضابطہ بندی۔۔ ۱) مباح الاصل شے  میں نزاع و جھگڑے کی نوعیت ، فیصلہ کے تین پہلو اور احادیث سے دلائل۔۔ ۲) عرف کی اساس پر فیصلہ: حضرت براء بن عازبؓ کے قضیے سے وضاحت۔۔ فیصلہ سازی میں نبی اکرم ﷺ کے متعین کردہ اصول و قوانینِ کلیہ۔۔ (۱) الغنم بالغرم (تاوان کی ذمہ داری اٹھانے والا ہی فائدہ اٹھانے کا حقدار)۔۔ (۲) شریعت کا نافذ کردہ قانون موثر بہ ماضی نہیں ہو گا۔ ۔۔ (۳) بغیر دلیل کے قبضہ دار  سے قبضہ چھڑانا معتبر نہیں۔۔ (۴) معاملے کی تفتیش ناممکن ہو تو معاملہ نمٹانے کا طریقہ۔۔ (۵) ہر عقد اور معاملہ میں فریقین کے حقوق کی حفاظت اور لوازمات کی پاسداری کرنا ضروری۔۔ چند مقدمات اور نبی اکرم ﷺ کے فیصلہ جات۔۔ آپؐ کے دو فیصلے اور ان کا رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  22. 182

    حجۃ اللہ البالغہ | 182 | قضاء کا بیان: اصولِ کلیہ ، جج کے امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 182قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  05 (حصہ اول) قضاء (عدالتی نظام) کا بیان: اصولِ کلیہ ، جج کے مفوضہ امور نیز شاہد (گواه) کے معیارات ، اوصاف اور تعدادمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 01 ؍ جون 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ سیاسات کی ایک اہم بحث: عدالتی نظام کا بیان۔۔ عدالتی اختیارات کے دائرے اور احادیث کی روشنی میں قواعد و ضوابط۔۔ عدالت: بطور ادارہ کیوں ضروری؟ بنیادی حاجات اور اسباب و عِلَل کی اساس پر ضرورت و اہمیت ۔۔ عدالت: بطور اتھارٹی ، اختیارات کے دو دائرے ، قاضیوں کی تقرری لازمی اور عدالتی نظام کے قیام کے لیے نبی اکرم ﷺ کی بھرپور توجہ ۔۔  پہلا علمی قاعدہ: قاضی بننے سے لے کر فیصلہ سنانے تک: عدالتی نظام کے کلی اصولوں کی چھ حدیثوں میں وضاحت ۔۔ (۱) منصبِ قضاء بہت بڑا بوجھ اور کانٹوں کی سیج نیز غلط عدالتی فیصلوں کا اجراء ہلاکت و تباہی۔۔ (۲) نفسانی خواہشات سے عدالتی افسر بننے کی کوشش اور عہدے کا مطالبہ کرنے والے شخص کا معاملہ ، حدیث کی تشریح: جج بننے کی تین وجوہات۔۔ اِخلاصِ نیت نزولِ برکات کا باعث۔۔ (۳) تین طر ح کے جج: حق واضح ہونے کے باوجود ظالمانہ فیصلہ کرنے والا اور معاملے سے جاہل قاضی: جہنم کا حق دار ۔۔ شاہ صاحب کی حدیث کی تشریح اور  اس کا راز۔۔ (۴) حالتِ غیض و غضب میں ہر قسم کا فیصلہ کرنے کی ممانعت نیز درست فیصلہ کرنے کے معیارات۔۔ (۵) درست فیصلہ کرنے کے لیے ممکن حد تک حقائق تک رسائی حاصل کرنے والے حاکم و قاضی کا اجر و ثواب۔۔ (۶) صرف ایک فریق کے دلائل سن کر فیصلہ کرنا ، حدیثِ نبوی کی رو سے جائز نہیںباب کی دوسری بحث: عدالت میں مقدمہ دائر ہونے کے بعد جج کے کرنے کے کام۔۔ ۱۔ معاملے کی اصل نوعیت اور واقعے کی حقیقت تک رسائی حاصل کرنا ۔۔۲۔ معاملے کی اصل نوعیت کی اساس پر عادلانہ فیصلے کا جاری کرنا ۔۔ عدالتی قضیے میں قضاء جاری کرنے کے لیے دونوں مقامات (معرفة جلیة الحال اور حکم العدل)  کی مثالوں سے وضاحت ۔۔ نبی اکرم ﷺ کا ان دونوں دائروں کی ضابطہ بندی اور قواعدِ کلیہ متعین کرنا۔۔ پہلا مقام: معاملے کی اصل نوعیت کی معرفت کے لیے گواہیاں اور پختہ قسمیں ضروری۔۔ مدعی (دعوی دائرے کرنے والا) اور مدعا علیہ (جس کے خلاف دعوی دائر کیا گیا) کی جامع تعریف ، ان کا تعین اور ذمہ داریاں۔۔ شاہد (گواه) کے لیے قرآنی معیار اور سوسائٹی کے ارتقاء سے ثابت شدہ آٹھ اوصاف۔۔ گواہی میں اہم ترین شرط واقعے کا مکمل ضبط اور مروجہ عدالتی نظام کی خرابیاں۔۔ گواہی کی بقیہ شرائط: نطق ، اسلام ، عدالت ، عزت و مروءت اور عدمِ تہمت۔۔ وہ لوگ جن کی گواہی معتبر نہیں نیز گواہ کے لیے کڑی شرائط مقرر کرنے کی بنیادی وجوہات۔۔ مقدموں کی نوعیت کے اعتبار سے گواہوں کی تعداد کی تفصیلات۔۔ حقوقِ مالیہ میں مرد و عورت دونوں کی گواہی معتبر ، قرآنی دلیل سے وضاحت۔۔ نبی اکرم ﷺ کا ایک گواہ اور قسم کی اساس پر فیصلہ جو کہ آپؐ کی خصوصیت۔۔ گواہی سے متعلق  دیگر احکام۔۔ جھوٹے مقدمات دائر کرنا ، جھوٹی گواہیاں دینا اور ظالمانه فیصلے کرنا ممنوع اور لعنت کا سبب: ترہیب و ممانعت کی تین وجوہات اور وعیداتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  23. 181

    حجۃ اللہ البالغہ | 181 | حد ڈاکہ زنی ، حدِشربِ خمر ، مرتد کے احکام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 181قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  04 (حصہ سوم) حدود میں ایک اہم ترین حد ڈاکہ زنی ، حدِشربِ خمر ،  مرتد اور محارب کے احکامات اور تفصیلاتمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:   25 ؍ مئی 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ حدود میں ایک اہم ترین حد ڈاکہ زنی کی سزا ، قرآنی آیت کے  تناظر میں اس کی چارسزائیں۔۔ حرابہ (ڈاکہ زنی) کی  تعریف ، چوری سے ڈاکہ زنی کی سزا سخت مقرر کرنے کا راز  ۔۔ نبی اکرم ﷺ نے سرکاری چراگاه پر ڈاکہ زنی کرنے والوں پر حد جاری کی۔۔۔ ڈاکہ زنی کی سزا قرآنی ترتیب کے مطابق ہونی چاہیے ، اکثر فقہاء کی رائے اور شاہ صاحبؒ کا موقف۔۔ حدِ شُربِ خمر : قرآنی آیت سے استدلال اور اس کی تشریح۔۔ شراب میں دو طرح کے فساد۔۔ خمر (شراب) کی تھوڑی مقدار  بھی حرام ہونے کا راز۔۔ خمر کی تعریف اور ہر نشہ آور چیز حرام۔۔ حرمت میں صرف انگوری شراب کی تخصیص کیوں؟ شاہ صاحبؒ کے ہاں امام شافعیؒ کا موقف قابلِ ترجیح اور  بنیادی سبب۔۔ دنیا میں شراب کے نشے میں دھت ، آخرت (جنت کے مشروب) کی لذات سے محروم ، بهیمی لذت میں منہمک شخص مَلَکی لذت سے محروم اور غم میں مبتلا ہونے کا راز۔۔ دنیا میں نشہ آور چیز پینے والے شخص کو اللہ جہنمیوں کا پسینہ ، خون اور  پیپ پلائے گا، سخت وعید اور یہ سزا دینے کا راز ۔۔ حضرت سندھیؒ کا تصورِ جنت ، ہر جنتی کے ماحول و مزاج کے مطابق اس کو جنت دی جائے گی۔۔۔ حدیث میں ایک دفعہ شراب پینے والے کی چالیس دن تک نماز قبول نہ ہونے کا راز۔۔ حضور ﷺ نے ایک شرابی کی پٹائی کرائی اور اسے شرم دلائی ، حدیث کی حکمت؛ حدِ شرب میں فساد کا امکان کم ، اس لیے چالیس کوڑے سزا مقرر  نیز حضرت عمرؓ کا ۸۰ کوڑے سزا مقرر کرنے کا راز۔۔ حدودکے نفاذ میں مجرم پر رحم دلی اور سفارش قابلِ قبول نہیں ، حدیث میں دو ٹوک حکم اور شاہ صاحبؒ کی تشریح۔۔ جس پر حد نافذ ہوئی ہو ، اس پر لعن طعن کرنے سے نبی اکرم ﷺ کی ممانعت۔۔ ملتِ اسلامیہ کی بے حرمتی کرنے والا مرتد اور محارب (حکومت کا باغی جنگجو) کی سزا بھی حدود میں شامل ، اصولی دلائل ۔۔ مرتد ہونا کب ثابت ہو گا؟ پانچ ضروریاتِ دین کا منکر مرتد اور اس کی سزا کے دلائل اور اس کے اسباب۔۔ محارب (حکومت کا باغی جنگجو) کی سزا قرآنی آیت اور حدیث سے ثابت اور بنیادی سبب و حکمت۔۔ حکومت و خلافت کے خلاف بغاوت کی دو بنیادیں اور نبردآزما ہونے کا طریقہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  24. 180

    حجۃ اللہ البالغہ | 180 | حدِ زنا ، حدِ قذف اور حدِ سرقہ کے احکامات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 180قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  04 (حصہ دوم) حدود کا بیان؛ حدِ زنا ، حدِ قذف اور حدِ سرقہ کے احکاماتمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 18؍ مئی 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

  25. 179

    حجۃ اللہ البالغہ | 179 | حدود اللہ کا بیان؛ چار اساسی امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 179قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  04 (حصہ اول) حدود اللہ  کا بیان؛  چار اساسی امور اور ہر حدِ شرعی کی توضیح و تشریحہرجرم کی نوعیت کے مطابق اللہ کا حدود مقرر  کرنامُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:   11 ؍ مئی 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ سیاستِ مدن کے ابواب کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ باب (اللہ کی مقرر کردہ حدود ) سے ربط۔۔ چند جرائم ایسے جن کی وسعت و تنوع کی اساس پر اللہ نے سزا مقرر کر دی؛ حدود اللہ سے متعلق چار اساسی امور اور ہر حدِ شرعی کی توضیح و تشریح۔۔۱)  "زنا" ایسا جرم جو تمام خرابیوں کا مجموعہ ، جس کے لئے شریعت کی سخت ترین سزا۔۔۲) "چوری" کا پیشہ اختیار کرنا ، معاشرے میں صحیح پیشوں کے فروغ میں رکاوٹ کا باعث، اور شریعت کی کڑی سزا کا مستحق ۔۔۳) "ڈاکہ زنی" کی حد مقرر کرنے کا راز۔۔۴) "شُربِ خمر" فساد فی الارض کا باعث۔۔۵) "بہتان تراشی" انسان کو سخت اذیت پہنچانے کا عمل اور اس کے لئے شرعی حد مقرر ۔۔ ہرجرم کی نوعیت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کی ہیں۔۔۔ حدود کب مقرر ہوئیں؟ قصاص ، رجم اور قطعِ ید تمام شرائع سماویہ کی متفقہ سزائیں البتہ شریعتِ مصطفویہﷺ میں ہر جرم کی نوعیت کے مطابق سزا کا تقرر  ، امتِ محمدیہؐ پر خاص رحمت۔۔غلاموں کی سزا میں تخفیف اور سزا دینے کا حق مالکان کو حاصل (حر اور عبد کے تناظر میں توضیح و تشریح)۔۔ مجرم پر حد جاری ہونا اس کے گناہ کا کفارہ ، دو وجہیں۔۔ قرآن و حدیث کی رو سے کنوارے کی حدِ زنا سو کوڑے اور شادی شدہ کی سزا رجم ، فرق کی بنیادی وجہ ۔۔ سو کوڑے اور جلا وطنی کی سزا کے فرق و امتیاز کا راز۔۔ غلاموں کی نصف سزا ،  قرآن کی آیت کا راز اور حدیث کی تشریح۔۔ تغریبِ عام (شہر بدری) کی سزا میں فقہاء کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کی تطبیق۔۔ حدود بالخصوص حدِ زنا کے نفاذ میں حد درجہ احتیاط کی ضرورت

  26. 178

    حجۃ اللہ البالغہ | 178 | ظلم کا تیسرا پہلو مالی نقصان ، چار شکلیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 178قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاست) کا نظام: باب  03 (حصہ سوم) ظلم کا تیسرا پہلو مالی نقصان ، چار شکلیں اور غصب اور اِتلاف کی تفصیلاتمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:   30 ؍ مارچ 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ باب کی سابقہ مباحث کا ما حصل اور زیر مطالعہ ۔۔ ظلم کے تیسرے پہلو کا تعلق انسانی مال سے اور اس کی چار قسمیں نیز آخری دو قسموں کی تفصیلات اگلے باب میں ۔۔ پہلی قسم: غصب ، اس کی تعریف اور غصب اور چوری میں بنیادی فرق۔۔ دوسری قسم: اِتلاف (جان بوجھ کر کسی کے مال کو ضائع کرنا) ۔۔ ایک بالشت زمین غصب کرنے والے کی سزا (غصب اور اِتلاف کی احادیث کی روشنی میں توضیح و تشریح)۔۔ غصب شدہ مال واپس کرنا ضروری ، حدیث کی تشریح۔۔ حدیث سے اِتلاف سے متعلق بنیادی اصول ثابت ، اسی طرح حضرت عثمان کا فیصلہ بھی شاہد ۔۔ کسی دوسرے شخص کے قبضے میں سامان بعینہ موجود، اصل مالک ہی اس کا حق دار ، ممکنہ صورتیں اور حدیث کے تشریحی امور۔۔ نبی اکرمؐ کی عدالت میں مقدمہ اور آپؐ کا دو ٹوک فیصلہ ، شاہ صاحب کی تشریح۔۔ ضرورت مند کا بقدر حاجت باغ سے پھل کھانا جائز ، لیکن پھل توڑ کر محفوظ کرنا ناجائز ، حدیث کی وضاحت؛ دوسروں کو نقصان پہنچانے والے ہر ہاتھ کو روکنا ضروری۔۔ باہر چرنے والی بکری کا دودھ دھونے والے کا حکم ، حضورؐ کے دو فیصلے اور جمع و تطبیقپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  27. 177

    حجۃ اللہ البالغہ | 177 | ظلم کی دوسری قسم، احکامات کی تفصیلات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 177قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  03 (حصہ دوم) انسانی جان ضائع کرنے کا کفارہ اور اعضاء کو نقصان پہنچانا ، ظلم کی دوسری قسم، احکامات کی تفصیلات مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:   23 ؍ مارچ 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ سیاستِ مدن کے سابقہ درس کا خلاصہ ۔۔ کفارہ قتل کیوں ضروری ، قرآنی آیت سے استدلال اور تین دائرے نیز دیت اور کفارے کا فرق۔۔ کسی مسلمان کو ناحق  قتل کرنا حرام ، البتہ ایک عادل ریاست تین جرائم کے ارتکاب کرنے والوں کو سزائے موت دینے کی مجاز، حدیث کی توضیح و تشریح۔۔ مصلحتِ کلیہ اور فتنہ و فساد کی روک تھام کے لیے فسادی و فتنہ پرور کا قتل عادل حکومت کے لیے جائز (تمام ملتوں کا متفقہ اصول)۔۔ خلفائے بنو امیہ اور مغل حکمرانوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ، قرآن و حدیث کی تعلیمات سے عدم آگہی اور دین کے اصولِ کلیہ سے روگردانی۔۔ نبی اکرم ﷺ کا مصلحتِ کلیہ کی اساس پر قتل کے جواز کی ضابطہ بندی کرنا ، تین دائروں کا تعین؛ قصاص ، شادی شدہ بدکار اور مرتد (اللہ اور اس کے نظام کا باغی اور مصلحتِ کلیہ کو توڑنے والا)۔۔ امام مالکؒ کے ہاں حملہ آور اور محارب کو قتل کرنا بھی جائز ۔۔ بستی یا محلے میں نامعلوم قتل ، قسامه کے قانون کے مطابق جاہلیت کے زمانے میں فیصلہ اور نبی اکرم ﷺ کا اسی قانون کو برقرار رکھنا۔۔ قسامہ کب ہو گا؟ اس کی علت  میں فقہاء کا اختلاف۔۔ کافر کی دیت میں تخفیف کا قانون، حدیث کی تشریح۔۔ عورت پر تشدد کی صورت میں اس کا جنین (حمل) ضائع ہونا اور اس کا تاوان، بنیادی راز  ۔۔ دوسرا اہم ترین ظلم انسانی اعضاء کو نقصان پہنچانا اور تین اصولوں کی اساس پر احکامات لاگو ۔۔ پہلا اصول: جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کی صورت میں قصاص۔۔ دوسرا اصول: انسان کی کسی نفع بخش قوت کو ضائع کرنا ، مکمل دیت کا حکم۔۔ انسان کی پوری قوت مستقل طور پر ضائع کرنا بہت بڑا ظلم اور حدیث سے مکمل دیت کا ثبوت۔۔ کسی قوت کی آدھی منفعت ختم کرنا ، آدھی دیت واجب و دیگر صورتیں۔۔ اعضاء پر ظلم کرنے کا تیسرا اصول اور اس کی مختلف صورتیں۔۔۔ موضحه (ایسا زخم جس میں ہڈی نظر  آئے) کی دیت۔۔ منقلہ میں پندرہ اونٹ دیت ، جائفہ و آمّہ کی تعریف اور ان کی دیت۔۔ انگلی اور انگوٹھے اور  ثنایا و ضراس کی حیثیت برابر۔۔ بعض قتل اور زخم کا ھدر ہونا ، تین حدیثوں سے استدلال (ایک پہلو) ۔۔ دوسرا پہلو: اتفاقا نقصان ہو جانا بھی ہدر ، حدیث سے توضیح ۔۔ نبی اکرمﷺ کا ممکن حد تک نقصان پہنچانے والی اشیاء میں نہایت احتیاط برتنے کا حکمپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  28. 176

    حجۃ اللہ البالغہ | 176 | حکومت و سیاست کا پہلا کام؛ ظلم کی روک تھام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 176قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب 03حکومت و سیاست کا پہلا کام؛ ظلم کی روک تھام کا نظام، سب سے بڑا جرم قتلِ انسانیت نیز قتل کی اقسام اور احکامات مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 09 ؍ مارچ 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ باب کے عنوان کی وضاحت ، حکومت و سیاست کا پہلا کام؛ ظلم کی روک تھام  ۔۔ بعثتِ انبیاء علیھم السلام کے عظیم ترین مقاصد میں سے ایک ، ظلم و ستم کے نظام کا خاتمہ ، ظلم کی خرابیاں اور آج کا رجعت پسند مذہبی طبقہ۔۔ مظالم کی تین قسمیں اور ہر نوع کی سزا مقرر کرنا ، اللہ کی حکمت کا تقاضا نیز سزاؤں کی درجہ بندی اور ظلم پر ابھارنے والے دواعی کے مراتب ۔۔ سب سے بڑا جرم اور گناہ ، قتلِ انسانیت؛ اس کی وجوہات۔۔ قتل کی تین اَنواع اور ہر قسم کی تعریف۔۔ تین قسمیں مقرر کرنے ، الگ الگ سزا متعین کرنے کا راز نیز قتل کی قسم شبہِ عمد ، نبی اکرم ﷺ کا اجتہاد۔۔ پہلی قسم: قتلِ عمد (جان بوجھ کر کسی جان کو قتل کرنے) کی سزا۔۔ قاتل سے قصاص لینے کا قرآنی حکم ، آیت کا شانِ نزول اور معنی و مفہوم۔۔ قصاص کی سنت سے ثابت شدہ تفصیلات؛ ائمہ کا اختلاف اور حدیث کا درست مفہوم۔۔ مقتول عورت کے بدلے میں قاتل مرد کو قصاصاً قتل کرنے کا راز۔۔ حدیث میں مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کرنے کا راز۔۔ اولاد کے بدلے والد کو قتل نہ کرنے کی بنیادی حکمت۔۔ دوسری قسم: قتلِ شبہِ عمد کی سزا دیت نیز دیت کی اقسام اور فقہاء کا اختلاف۔۔ تیسری قسم: قتلِ خطا میں دیتِ مخففه نیز شبهِ عمد اور قتل خطا کی دیت کا فریضہ "عاقلہ" (برادری وغیرہ) پر عائد۔۔ دیتِ مغلظه و دیتِ مخففه میں فرق کے اسباب ۔۔ قتلِ عمد میں دیت قاتل کے ذمہ اور شبہِ عمد و خطا میں عاقله سے دیت کی وصولی کے فرق کے دو بنیادی پہلو۔۔ دیت کا بنیادی اصول ، نبی اکرم ﷺ کا عرب و عجم کے لیے ہر مال سے دیت ادا کرنے کی مقدار مقرر کرنا اور اس کا سبب و رازپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  29. 175

    حجۃ اللہ البالغہ | 175 | ملتِ مصطفویہ کی اساس پر خلافتِ نبوت | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 175قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاسی نظام): باب  02ملتِ مصطفویہ کی اساس پر خلافتِ نبوت کی تفصیلاتخلافت کی شرائط اور باب کی روایات کی تشریحمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:   28 ؍ فروری 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ اور زیرِ مطالعہ مباحث سے ربط۔۔ ملتِ مصطفویہ کی اساس پر خلافتِ نبوت کی تفصیلات ۔۔ شاہ صاحبؒ کی دوسری تصنیف "ازالة الخفاء" میں حکومت کے دو دائروں پر تفصیلی گفتگو۔۔  خلافت کی شرائط: اسلام ، علومِ نبوت  اور ملکۂ عدالت پر تمام مسلمانوں کا اتفاق  نیز ان کے شرعی دلائل اور مقرر کرنے کا راز۔۔ حکمران کا قریش سے ہونا ، خلافتِ نبوت کی ایک شرط ، اس کی وضاحت اور  عقلی وجوہات۔۔ قریش کی قومی عصبیت اور حضرت سندھیؒ کی شاہ صاحبؒ کے موقف کی لاجواب تشریح۔۔ حکمران کے ہاشمی ہونے کی عدمِ اشتراط کی دو وجہیں۔۔ خلافتِ عامہ کے لیے صرف تین ہی شرطیں قریش کی شرط اس وقت کے حالات کے تناظر میں تھی۔۔ خلافت و حکومت کے انعقاد کے مختلف طریقہ کار ۔۔ ایسا حکمران جس میں خلافتِ عامہ کی تمام شرائط نہ پائی جاتی ہوں ۔۔ خلاصہ ۔۔ باب کی روایات کی تشریح اور اسرار و رموز۔۔ حکمران کے معاونین کا نظام اور ان کے اخراجات بیت المال کے ذمے۔۔ حکومتی اہل کاروں اور رعایا کے لیے ہدایات ۔۔انتظامی عملہ کی تنخواہ مقرر کرنے کی ضرورت اور  اس کا معیارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  30. 174

    حجۃ اللہ البالغہ | 174 | حکومت کا قیام دینی فریضہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 174قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سیاستِ مُدَن (قومی و بین الاقوامی سیاست) کا نظام  : باب 01 ، 02حکومت کا قیام دینی فریضہ ، قومی ، دینی و ملی مصالح اور عقل کی اساس پر حکمران کی ضرورت اور اوصاف و شرائطمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:   23 ؍ فروری 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس ۔۔ اَبوابِ سیاستِ مُدَن کی وضاحت۔۔ باب 01: دینِ اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں سیاستِ مُدَن کا بنیادی خاکہ؛ خلافت و حکومت کا قیام دینی فریضه  ۔۔ ۱) سیاستِ مدینہ کے تناظر میں حکومت کے قیام کے بنیادی امور۔۔ ۲) ملتِ حنیفیہ کے نظم و نسق کے تناظر میں بین الاقوامی حکومت کا قیام اور اساسی امور۔۔ دین اسلام کی عظمتِ شان اور باقی اَدیان پر غلبہ حاصل کرنے کا تصور بھی نظام (اتھارٹی) کے بغیر  ممکن نہیں ، محض وعظ سے غلبہ دین نہیں ہوتا۔۔ خلیفہ و حکمران کی ذمہ داریاں (ملتِ حنیفیہ کے نظم و نسق کے تناظر میں)۔۔ خلیفہ کی دوسری ذمہ داری ، دین اسلام کے علاوہ اَدیان کے ظالمانہ سیاسی نظام کو توڑنا نیز ذلت کے متعلق فرسودہ مذہبی تصورات کا رد۔۔ حالت جنگ میں مخالفین کی معاشی طاقت توڑنے کے لیے جزیہ وصول کرنا، جزیے کی حقیقت اور آیت کے الفاظ (وھم ضاغرون) کی وضاحت۔۔ بین الاقوامی نظام قائم کرنے کی ضرورت و اہمیت اور ان اقدامات کو ترک کرنے کے نتائج ۔۔ انسانی حاجات کے تناظر میں دین کے سیاست و خلافت کے امور ، حضور ﷺ کا چار ابواب  متعین کرنا اور شاہ صاحبؒ کا ہر باب کی تفصیلات بیان کرنا۔۔ حضور ﷺ نے ہر باب کی کلیات بیان کیں اور جزئیات کا اطلاق حکمرانوں اور تعلیم و تربیت کے ذمہ داراں کے سپرد ۔۔ کلیات متعین کرنے کے چار اسباب اور ان کے بنیادی راز۔۔ کلیات متعین کرنے کا پہلا سبب: ظالم و جابر ، خواہش پرست اور ذاتی و طبقاتی مفادات کا اسیر حکمران کے فساد مچانے سے بچاؤ کے پیش نظر۔۔ سیاسی معاہدات کی پاسداری ایسے ہی لازمی ہے جیسا کہ نماز و روزہ کی پابندی۔۔ کلیات متعین کرنے کا دوسرا سبب: ظالم کے ظلم کے مطابق سزا نہ دینا ، دو ٹوک عدالتی فیصلے نہ کرنا ، انارکی اور دلوں میں حسد و کینہ کے پیدا ہونے کی وجہ۔۔تیسرا سبب: سیاستِ مدینہ کے ادراک کا صحیح فہم نہ ہونا اور راہِ اعتدال سے ہٹنے کی وجہ سے کلیات کا تعین ضروری نیز راہِ اعتدال سے انحراف کا بنیادی راز۔۔ چوتھا سبب: سیاست کے شرعی قوانین کا مقام و مرتبہ نماز و روزے کی طرح (شاہ ولی اللہؒ کا سیاسات کے انقلابی اصول متعین کرنا)۔۔ خلاصہ بحث: درندہ صفت اور نفسانی شہوات والوں کو سیاسی امور سپرد کرنا دینِ اسلام کی تعلیمات کے صریح منافی۔۔ باب 02: خلافت و حکومت ، خلیفہ کے عقلی اوصاف اور مسلمان حکمران کے دینی اوصاف۔۔ عقل مند ، بالغ ، آزاد اور مرد ہونا ، مکمل با اختیار حکمران کے اوصاف ہیں ۔۔ آج بھی دنیا کے کسی مہذب ملک میں مکمل با اختیار حکمران، عورت نہیں۔۔ عقل کی اساس پر بقیہ اوصاف و شرائط ۔۔ حکمرانوں کی ان صفات پر دنیا بھر کے  انسانوں کا اجتماع اور تاریخی شواہد سے ان پر مہر تصدیق ثبت۔۔حدیث "وہ قوم فلاح و بقاء سے محروم ،جہاں عورت حکمرانی ہو"  کا درست مفہومپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  31. 173

    حجۃ اللہ البالغہ | 172 | عدت کا قانون اور اولاد کے نسب کی حفاظت| مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 172قسمِ ثانی: احادیثِ رسولؐ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 10، 11عدت کا قانون ،  تدبیرِ منزل کے ایک اور اہم شعبے اولاد اور ماتحتوں کی تربیت کا نظام اور احادیث کی روشنی میں اولاد کے نسب کی حفاظت کے اصولمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:   09 ؍  فروری 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس 0:14 نکاح کے احترام کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے میاں بیوی کے تعلق کو ختم کرنے کےلیے عدت کا نظام (باب 10کے عنوان کی وضاحت) 1:56 اہلِ جاہلیت میں عدت کا قانون تسلیم شدہ، تین مصلحتیں12:08 مطلقہ کی عدت تین طہر یا تین حیض ،  فقهاء کا ذیلی اختلاف ، دلائل اور اس کا راز 19:49 آئسہ کی عدت تین ماہ ، حاملہ عورت کی وضع حمل اور بیوہ کی عدت چاہ ماہ دس اور ہر ایک  کی عدت مقرر کرنے کی چند وجوہات اور فرق و امتیاز کا راز38:00 استبراءِ رحم کا قانون اور اس کا راز50:09 تدبیرِ منزل کے ایک اور اہم شعبے اولاد اور ماتحتوں کی تربیت کا نظام (باب 11) 51:43 اولاد  کی تربیت میں اہم چیز نسب کی حفاظت ، اولاد کو اپنا قائم مقام بنانا فطری امر اور شرعی قانون سازی سے مقصود بھی نسب کی حفاظت58:04 نبی اکرمؐ کے فرمان کی روشنی میں نسب کی حفاظت کا قانون اور اس کا راز 1:09:13 نسب کی حفاظت کا دوسرا پہلو ،اپنے باب کے علاوہ کسی دوسرے مرد سے نسبت جوڑنے والے کے خلاف سخت وعید اور اس کا راز1:14:27 نئی برادری کے طرف اپنی اولاد کی نسبت کرنے والی عورت اور مرد کا اپنی اولاد کا انکار کرنا،  سخت سزا (نسب کی حفاظت سے متعلق تیسری حدیث) کی تشریح

  32. 172

    حجۃ اللہ البالغہ | 173 | اولاد اور ماتحتوں کی تربیت؛ بقیہ امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 173قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 11 (آخری باب) اولاد اور ماتحتوں کی تربیت کا نظام؛ بقیہ امور کی نشان دہی مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:   16 ؍ فروری 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس 0:14 تدبیرِ منزل کے ایک اور اہم شعبے اولاد اور ماتحتوں کی تربیت کا نظام؛ بقیہ امور کا بیان 1:15 اہل عرب کے ہاں عقیقہ کرنا سنتِ لازمہ ، تین دائروں کے تناظر میں اصول اور مصلحتیں نیز نبی اکرم ﷺ نے ان مصالح کی اساس پر اس عمل کو جاری رکھنے کا حکم دیا۔17:25 احادیث کی روشنی میں ساتویں دن نو مولود کا عقیقہ ، حلق اور نام رکھنا ، اسرار و رموز23:12 بچے کے بال کے برابر چاندی صدقہ کرنے کا راز (حضورؐ نے حضرت حسنؓ کا عقیقہ کیا اور حضرت فاطمہؓ کو احکامات)27:56 نو مولود کے کانوں میں آذان کہنے کا راز30:00 لڑکے کی طرف سے دو بکرے ذبح کرنا مستحب عمل اور اس کی حکمت31:19 بچے کا عبدللہ اور عبدالرحمن نام رکھنا اللہ کو بہت محبوب، بنیادی اسرار 35:20 محمد اور احمد نام رکھنا بھی باعث برکت ، بنیادی حکمت37:40 بچے کا نام مَلِک الاَملاک یا تعظیم کے اعلی درجے کا کوئی نام رکھنا بہت بڑی خرابی38:55 تدبیرِ منزل میں بچوں کی  پرورش کا نظام؛ رضاعت و حضانت عورت کی ذمہ داری اور عورت کے اخراجات مرد کے سپرد (قرآنی آیت کی توضیح و تشریح)  51:41 شیر خوار بچے کو دو سال دودھ پلانے کا راز 55:08 والدین اپنی اولاد کو نقصان نہ پہنچائیں ، تعاون باہمی ضروری 56:05 استرضاع (ماں کے علاوہ کسی دوسری عورت سے دودھ پلانا) نیز حدیث کی رو سے رضاعی ماں کا احترام  و احسان 1:01:53عورت اپنی ضرورت اور معروف کے مطابق مرد کی اجازت کے بغیر خرچ کر سکتی ہے، خرچ کا تعین عورت کے سپرد ، بنیادی راز1:04:05 بچے کی دینی تربیت کے امور ، سات سال کی عمر میں نماز کا حکم1:04:41 میاں بیوی میں علیحدگی کی صورت میں بچے کی پرورش کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو فیصلے1:09:28 گھریلو نظام میں اہم چیز ماتحتوں کی تربیت کا نظام: تعاونِ باہمی کی بنیاد اور اس کے مراتب1:10:39 (۱) ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ/ چھ حقوق (تعاون باہمی کا کم از کم درجہ) بنیادی راز ، تعلق و الفت 1:13:01 (۲) محلے ، پڑوس اور خونی رشتے داروں کے حقوق اور اجتماعیت کے چند ضروری امور1:15:21 (۳) خاندان؛ بیوی ، بچے ، والدین اور ماتحتوں کے حقوق  اور خادموں کے دو لازمی حق1:17:33 ماتحتوں سے زیادتی حرام ، البتہ تربیت کے لیے علامت سزا دی جا سکتی ہے۔1:20:57 احادیث کی روشنی میں خادم کے استحبابی حقوق1:26:47 خادمین کی ذمہ داریاں1:27:55 والدین کے چند لازمی حقوق اور آداب و احترامپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  33. 171

    حجۃ اللہ البالغہ | 171 | خُلع ، ظِہار ، لِعان اور اِیلاء کا بیان | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 171قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 09خُلع ، ظِہار ، لِعان اور اِیلاء کا بیانمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:   02؍  فروری 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  34. 170

    حجۃ اللہ البالغہ | 170 | حقوقِ زوجیت ، بقیہ اصول اور طلاق کا قانون | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 170قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 07 ، 08حقوقِ زوجیت پر مشتمل بقیہ اصول و ضوابط اور ازدواجی تعلق میں رخنہ کی صورت میں طلاق کا قانونمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  26؍ جنوری 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

  35. 169

    حجۃ اللہ البالغہ | 169 | آدابِ زوجیت اور حقوقِ زوجیت | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 169قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 06 ، 07آدابِ زوجیت اور حقوقِ زوجیت   (نئے خاندان کی تشکیل کے تناظر میں مرد و عورت کا تعلق اور اس کے بنیادی امور )مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 19 ؍ جنوری 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور

  36. 168

    حجۃ اللہ البالغہ | 168 | تحریمِ مُحرَّمات کی نو قسموں کا بیان | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 168قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 05تحریمِ مُحرَّمات (وہ رشتے دار جن سے نکاح کرنا حرام) کی نو قسموں کا بیانمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  12 ؍ جنوری 2022ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ مُحرَّمات (وہ رشتے دار جن سے نکاح کی حرمت ہے) ؛ دلائل شرعیہ۔۔ تحریمِ مُحرَّمات سے متعلق علمی قاعدہ ، اہلِ جاہلیت کے ہاں ان کی حرمت شائع اور مسلم لیکن بعض جزوی واقعات اور قضائے خداوندی۔۔ تحریمِ مُحرَّمات کی نو قسمیں ۱۔ قرابتِ قریبہ مثلاً ماں بیٹا ، باب بیٹی اور بہن بھائی وغیرہ۔۔۲۔ رضاعی رشتے اور ان کی حرمت کا راز۔۔ رضاعت کی حرمت میں مقدار اور مدت کا لحاظ ضروری؛ احادیث کی روشنی میں ان کی وضاحت۔۔ ۳۔ رشتوں میں قطع رحمی بھی تحریمِ مُحرَّمات کا ایک سبب۔۔ نبی اکرم ﷺ کا فنِ اعتبار کی اساس پر نبی اور نبی کے دشمن کی بیٹی کو جمع کرنے کو حرام قرار دینا۔۔ ۴۔ مصاہرت (سسرالی رشتہ) کی حرمت کی حکمتیں۔۔ ۵۔ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح کی حرمت اور نبی اکرم ﷺ کی امتیازی خصوصیت کا راز۔۔ ۶۔ اختلافِ دین (مشرک عورتوں سے) نکاح کی حرمت البتہ کتابیہ سے نکاح کی رخصت۔۔ ۷۔ دوسرے کی مملوکہ (باندی) سے نکاح کی ممانعت ، آپ ﷺ نے اعتبار (قیاس) کی بنیاد پر  یہ اصول بیان کیا۔۔۔ ۸۔ دوسرے کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت ، بنیادی حکمت۔۔ ۹۔ طوائف سے نکاح کی ممانعت، جب تک وہ سچی توبہ نہ کر لے ، حرمت کا راز۔۔ نبی اکرم ﷺ نے تحریمِ مُحرَّمات کی نو قسموں کا باقاعدہ نظام بنایاپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  37. 167

    حجۃ اللہ البالغہ | 167 | نکاح سے متعلق تیرہ امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 167قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 04قرآن و حدیث کی روشنی میں نکاح سے متعلق تیرہ امورمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  22 ؍ دسمبر 2021ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ نکاح سے متعلق تیرہ امور ۔۔ (۱) معاہدہ نکاح میں فیصلہ کن اختیارات کا مالک کون؟ انتہا پسندانہ تصورات اور نبی اکرم ﷺ  کی متوازن قانون سازی ، حدیث (لَا نِكَاح إِلَّا بولِي) کی تشریح۔۔ نکاح کے لیے ولی الامر ہونا لازمی اور یہ حق صرف مرد کو حاصل ، بنیادی راز۔۔ ممانعت کا دوسرا پہلو؛ چند وجوہات کی بناء پر جبلی ضرورت کہ مرد سربراہ ہو (دنیا بھر کی مسلمہ حقیقت)۔۔ نکاح میں ولی کا ہونا عزت و احترام کا باعث۔۔ نکاح کو سفاح (زنا کاری) سے الگ کرنا اور اولیا کی طرف سے تشہیر کرنا ضروری۔۔ بیوہ اور کنواری کا نکاح کرنے کے لیے ان کی اجازت ضروری نیز استیمار و استیذان کا مفہوم اور نابالغ لڑکی کو بلوغت کے بعد نکاح ختم کرنے کا اختیار۔۔ (۲) حدیث (​​إيما عبد تزوج بِغَيْر إِذن سَيّده فَهُوَ عاهر) کی تشریح۔۔ (۳) نکاح سے پہلے مسنون خطبہ پڑھنا ، اس کی حکمت، نکاح کی تشہیر ، خطبہ اہم امور کے ساتھ مختص ، جاہلیت کے امور اور  نبی اکرم ﷺ کی قانون سازی۔۔  (۴) نکاح میں ایجاب و قبول بلند آواز سے کرنا اور دُف بجانے کا حکم ، دور جاہلیت کے نکاح کے فرسودہ طریقوں کی تنسیخ اور دُف بجانے کی مصلحت۔۔  (۵) متعہ کی وقتی رخصت اور پھر ممانعت ، اجازت کی بنیادی وجہ اور حرمت کا راز؛ نسب کا اختلاط ، نکاحِ صحیح کا نظام درہم برہم اور زنا و نکاح کا فرق ختم۔۔  (۶) نکاح میں چند مصالح کی وجہ سے مہر کا مقرر کرنا ضروری لیکن نبی اکرم ﷺ نے مہر کی حد مقرر نہیں کی، بنیادی وجوہات نیز آپؐ نے اپنی ازواج اور بیٹیوں کا ۲۰۰ اوقیہ چاندی مہر مقرر کیا ، بنیادی راز۔۔ دور جاہلیت میں مہر کی ادائیگی میں ظلم و زیادتی اور مہر ادا کرنے کا حکم  نصِ قطعی سے ثابت نیز حقیقی رضامندی اور بغیر جبر کے مہر معاف کرنے کا اختیار۔۔۔  (۷) قرآنی آیت (لَا جنَاح عَلَيْكُم إِن طلّقْتُم النِّسَاء مَا لم تمَسُّوهُنَّ الخ) کے ضمن میں طلاق سے متعلق تین قوانین اور جاہلیت میں مہر میں مناقشات اور عدل کی اساس پر  قضائے خداوندی؛ ممکنہ پانچ پہلو۔۔  (۸) نبی اکرم ﷺ کا ایک مرتبہ قرآن حکیم کی سورتوں کو مہر مقرر کرنا ، وجوہات ۔۔  (۹) ولیمہ اور اس کی چار مصلحتیں نیز جاہلیت میں رخصتی سے پہلے ولیمے کا غلط رواج۔۔ مولانا سندھیؒ کی ولیمے کی چار مصالح کی عمدہ تعبیر۔۔ ان مصالح کے پیشِ نظر نبی اکرم ﷺ نے ولیمے کی ترغیب دلائی لیکن کوئی حد مقرر نہیں کی ، اپنی استطاعت کے مطابق کرنا مسنون عمل ۔۔  (۱۰) ولیمے کی دعوت قبول کرنا اور اجتماعیت میں شریک ہونا ضروری ، چند حکمتیں ۔۔  (۱۱) شادی بیاہ ، دعوت اور تقریبات میں تعیشات اور سرمایہ پرستی کی حوصلہ شکنی ، حدیث کے وضاحتی امور۔۔  (۱۲) دعوتوں میں فخر و ریاکاری اور مقابلے بازی ، ایسا کھانا کھانے کی ممانعت اور اس کا بنیادی راز۔۔  (۱۳) کھانے کی دو دعوتیں اکٹھی آنے کی صورت میں قبولِ دعوت میں ترجیح کا معیارپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  38. 166

    حجۃ اللہ البالغہ | 166 | تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 166قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام: باب 03احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ستر اور پردے کا نظام ، پانچ وجوہ و درجات اور بنیادی احکامات مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  15 ؍   دسمبر 2021ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ اور اس باب سے ربط۔۔ عورت کا لفظی معنی ، باب کی دو بنیادی بحثیں۔۔ پردہ کرنا کیوں ضروری؟ غیر محرم پر نظرِ بد کے برے اثرات و نتائج اور حکمت کی اساس پر روک تھام کا عملی نظام؛ پردہ کرنا ضروری۔۔ حاجت و ضرورت کی نوعیت کے مطابق گنجائش۔۔ دونوں پہلؤوں کے پیشِ نظر  نبی اکرمؐ نے ستر کے پانچ وجوہ و درجات بیان کیے۔ ۔۔ (۱) غیر ضروری حاجت کے علاوہ عورت گھر سے باہر نہ نکلے۔۔۔ استشرافِ شیطان کی دو پہلؤوں سے تشریح۔۔ عورتیں گھروں میں رہیں ، جاہلیت کی زیب و زینت اختیار نہ کریں ( اللہ کا واضح حکم)۔۔ حضرت عمرؓ کو علم اسرار دین کا وافر حصہ عطا ، آیتِ حجاب کا نزول اور حضرت عمرؓ اور حضرت سودہؓ کا واقعہ ، نبی اکرم ﷺ کا گھروں میں رہنے کو مستحب قرار دینا۔۔ (۲) گھر سے نکلتے وقت جلباب (بڑی چادر) سے پورے جسم کو ڈھانپنا ، قرآنی آیت سے مکمل وضاحت اور چند رخصتیں۔۔ (۳) دو نامحرم اسی صورت میں ایک جگہ موجود ہوسکتے ہیں جب رعب و دبدبے والا تیسرا شخص موجود ہو۔۔ (۴) ایک صنف کے افراد کا ایک دوسرے کی شرم گاہ دیکھنے کی حرمت ، تمام مذاہب کا متفقہ اصول۔۔ (۵) ایک صنف کے افراد کا ایک کپڑے میں لیٹنا اور چمٹنا بھی ممنوع ، بنیادی راز۔۔ ستر کے احکامات: ستر چھپانا اصول ارتفاقات اور شریعت کی رو سے انتہائی ضروری۔۔ تین احادیث کی روشنی میں مرد و عورت کے ستر کا تعین نیز ران ستر کا حصہ ،امام ابوحنیفہؒ کا قول راجح۔۔ ان مسائل کے احادیث سے مستدلات؛ ۱۔ ستر کھلا رکھنے کی عادت بنا لینا قبیح عمل، اوٹ میں قضائے حاجت کی تاکید ، حدیث (إيَّاكُمْ والتعري الخ) کی تشریح۔۔۲۔ عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم ہے تو مردوں کو نگاہیں نیچے رکھنے کی تاکید ، تہذیب کا لازمی تقاضا۔۔ ۳۔ مسلسل نگاہ ڈالنا جائز نہیں ، ۔۔ ۴۔ نابینا صحابی کا واقعہ اور ازواج مطہرات کو تاکید۔۔ ۵۔ عرب معاشرے کے ماحول میں غلام (خدمت گار) سے مکمل پردہ کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا ، حضرت فاطمہؓ کا واقعہ اور بنیادی حکمت۔۔ ۶ ۔ غیرم محرم لوگوں کی بنسبت محرم رشتے داروں سے پردے میں تخفیف ، وجوہاتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  39. 165

    حجۃ اللہ البالغہ | 165 | تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 165قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتتدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کا عملی نظام : باب 01، 02تیرہ احادیث کی روشنی میں نکاح کے اصول اور عملی نظام کی تفصیلاتمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  08؍ دسمبر 2021ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ اصولِ برّ کی اساس پرنبی اکرم ﷺ کا تدبیرِ منزل (گھریلو نظم و نسق) کے عملی نظام  کی وضاحت (پہلا باب)۔۔ گھریلو نظم و نسق قائم کرنے کے اصول عرب و عجم کے ہاں تسلیم شدہ ، البتہ عملی اشباح و صورتوں میں ہر قوم کے اختلاف کی بنیادی وجہ۔۔  نبی اکرم ﷺ کی عربوں میں بعثت ، غلبہ دین کے لیے حکمت کی اساس پر عربوں  کی اطوار و عادات ، حکومت و ریاست کا دیگر اقوامِ عالم کی عادات اور ریاست پر غلبہ ضروری۔۔ بعثتِ نبویؐ کے وقت عربوں کا غلبہ دنیا کی اقوام اور ان کے تہذیب و ثقافت پر کیوں ضروری؟ ۔۔ دنیا بھر کی اقوام کے تہذیب و ثقافت اور گھریلو امور کا مسخ ہونا اور عربوں کی عادات کے مطابق نبی اکرم ﷺ کا متعین کردہ نظام لازمی و ضروری۔۔ شارع ﷺ کے متعین کردہ ارتفاقات کے عملی نظام پر آج کل کے نہاد نام متجددین کے بے جا اعتراضات اور عملی نظام تسلیم کرنے سے انکار۔۔ دوسرا باب: احادیث کی روشنی میں شادی و نکاح کے اصول اور عملی نظام کی تفصیلات۔۔ پیغامِ نکاح (منگنی) اور شادی کے امور کی تیرہ احادیث سے وضاحت۔۔حدیث ۰۱ (يَا معشر الشَّبَاب من اسْتَطَاعَ مِنْكُم الْبَاءَة الخ) میں شادی کی استطاعت ، شرائط اور اس کے فوائد ، عدمِ استطاعت کی صورت میں روزے رکھنا لازمی اور اس کی حکمت۔۔ علمی قاعدہ: توانا مرد میں  منی کی کثرت ، شہوات کا غلبہ ،  یہ حجابِ طبع کا موجب ، چار خرابیاں اور انہیں دور کرنے طریقہ۔۔ حکمت کی اساس پر ہم پلہ عورت سے نکاح کی ترغیب (مولانا سندھیؒ کی تشریح)۔۔ حدیث کے دوسرے حصے کی توضیح۔۔حدیث ۰۲ ( أما وَالله إِنِّي لأخشاكم لله الخ) میں تبتّل (تنہائی پسندی) کی حوصلہ شکنی ، مشہور واقعہ ، حضورﷺ کا انتہاء پسندی (شادی کے عمل سے دور بھاگنے) سے روکنا۔۔ حدیث میں زرتشت مذہب (مانویہ) اور عیسائی راہبوں کا طریقہ کار کا رد اور انبیاء ؑ کے فطرتی طریقہ کار کا بیان۔۔حدیث ۰۳ (الدُّنْيَا مَتَاع، وَخير مَتَاع الدُّنْيَا الْمَرْأَة الصَّالِحَة) کی وضاحت؛ نکاح کرنے کے دو بڑے مقاصد ۔۔ غیر مہذب عورت میں تین بڑی خرابیاں (منفی ذہنیت، بد اخلاق اور فحش گوئی)  تدبیرِ منزل میں فساد کا باعث۔۔ نیک بیوی دنیا کا بہترین متاع۔۔حدیث ۰۴ (تنْكح الْمَرْأَة لأَرْبَع الخ) میں دنیا بھر میں نکاح کرنے کے معیارات کی ممکنہ چار شکلیں اور دین داری کو ترجیح۔۔ شاہ صاحبؒ کی اس حدیث کی تشریح اور دین داری کے لیے تین چیزیں لازمی۔۔ مال و جاہ کے طالب پر حجابِ رسم کا تسلط اور خوبصورتی کا دلدادہ حجابِ طبع کے زیرِاثر جبکہ دین داری سے مقصود فطرت کی تہذیب اور اعلی اخلاق میں بیوی معاون بنے۔۔حدیث ۰۵ (خير نسَاء ركبن الْإِبِل نسَاء قُرَيْش الخ) میں قریش کی عورتیں بہترین قرار اور صالحیت کے دو معیار۔۔ شاہ صاحبؒ کی تشریح: اپنے خاندان کی اچھی خاتون سے نکاح پسندیدہ ، قریش کی عورتوں کی خصوصیات ہی  نکاح کے مقاصد اور گھریلو نظم و نسق کی اساس۔۔ شاہ صاحبؒ کے دور میں بھی قریش کی خواتین میں مذکور خصوصیات برقرار۔۔حدیث ۰۶ (تزوجوا الْوَلُود الْوَدُود، فَإِنِّي مُكَاثِر بكم الْأُمَم) میں زیادہ بچے جننے والی اولاد سےمحبت کرنے والی خاتون سے شادی کرنے کی ترغیب اور اس کی بنیادی حکمت؛ مدنی و ملّی ضرورت۔۔ عورت کی خاوند سے محبت کرنے کی چند وجوہات۔۔حدیث ۰۷ (إِذا خطب إِلَيْكُم من ترْضونَ دينه الخ) میں دین اور اخلاق کے حامل مرد سے نکاح کرنے کا حکم ، ورنہ بڑا فتنہ فساد  پیدا ہونے کا خطرہ۔۔ اس حدیث سے فقہ مالکی میں کفو لازمی شرط قرار نہ دینا ، اجتہادی غلطی ، غیر کفو میں نکاح اشد من القتل ، شاہ صاحبؒ کی تصریح۔۔حدیث ۰۸ (الشؤم فِي الْمَرْأَة وَالدَّار وَالْفرس) میں ممکنہ طور پر بد بختی عورت ، گھر اور گھوڑے (سواری) ہو سکتی ہے، حدیث کا پسِ منظر اور شانِ ورودسمجھنا ضروری اور توضیح۔۔ ۰۹۔ حکمت کا تقاضا ہے کہ کنواری عقل مند اور بالغ لڑکی سے شادی کی جائے۔ حکمتیں اور حضرت جابر بن عبداللہؓ کا واقعہ۔۔حدیث ۱۰ ( إِذا خطب أحدكُم الْمَرْأَة  الخ) میں پیغامِ نکاح سے پہلے موقع ہو تو لڑکی دیکھنا مستحب ، دو مزید روایات اور ان کا بنیادی راز۔۔ حکیم اور سمجھ دار آدمی کام شروع کرنے سے پہلے اس کا نفع و نقصان پر خوب غور و فکر کرتا ہے۔۔۔حدیث ۱۱ (إِن الْمَرْأَة تقبل فِي صُورَة شَيْطَان الخ) میں شادی شدہ مردوں کو تنبیہ۔۔ علمی قاعدہ: شرمگاہ کی شہوت سب سے زیادہ فتنہ انگیز ، ہلاکت کا باعث اور شیطانی چال ۔۔حدیث ۱۲ (لَا يخْطب الرجل على خطْبَة أَخِيه حَتَّى ينْكح، أَو يتْرك) میں کسی دوسرے مرد کے پیغامِ نکاح پر اپنا نکاح کا پیغام دینے کی ممانعت ، بنیادی وجہ۔حدیث ۱۳ (لَا تسْأَل الْمَرْأَة طَلَاق أُخْتهَا لتستفرغ صحفتها الخ) میں پہلی خاتون کو طلاق کا مطالبہ ناجائز  ، اس کا راز ۔۔ نکاح سے متعلق تیرہ امور عالم گیر اصول ایک مکمل نظام اور حضرت سندھیؒ کی اہم باتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  40. 164

    حجۃ اللہ البالغہ | 164 | اسلام کا نظامِ وراثت (حصہ سوم) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 164قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتحصولِ رزق کے طریقہائے کار : باب05 (حصہ سوم) تبادلۂ مال کی ایک اور اہم قسم؛ اسلام کا نظامِ وراثت( بقیہ مسائلِ میراث کی تفہیم) مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  01؍   دسمبر2021 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ گذشتہ درس کا ما حصل۔۔ ۳۔ آیت (ولكم نصف ما ترك أزواجكم الخ) میں بیوی کے فوت ہونے کی صورت میں شوہر کا حقِ وراثت اور شوہر کے مرنے کے بعد بیوی کا ترکہ میں سے حصے کا قانون۔۔ شاہ صاحبؒ کی تشریح؛ دو وجوہات کی بناء پر بیوی وراثت میں حق دار۔۔ ۴۔ آیت (وإن كان رجل يورث كلالة) میں کلالة کی وراثت کی تقسیم کا قانون۔۔ آیت میں اخیافی (ماں شریک) بہن بھائی مراد ، حقِ وراثت کے دو بنیادی اسباب اور  تقسیم ترکہ کی مثال سے وضاحت۔۔ ۵۔ آیت ( يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة الخ) میں کلالہ کا دوسرا مسئلہ ، کلالہ کی تعریف اور وراثت میں حصہ کی توضیح۔۔ آیت میں بنی الاعیان اور بنی العلات مراد اور خلاصہ بحث ۔۔ احادیث سے ماخوذ مسائلِ میراث۔۔ ۶۔ حدیث ( ألحقوا الفرائض بأهلها الخ) میں سب سے پہلے ذوی الفروض کا حق ادا کرنے کا حکم ، اور باقی ماندہ وراثت کے حق دار ، مرد (عصبہ)  ۔۔ شاہ صاحبؒ کی تشریح : وراثت کی بنیاد دو معنویتیں ( مودت و رفاقت) نیز قرابتِ بعیدہ میں مرد وراثت کا حق دار۔۔ ۷۔ حدیث (لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم) میں مسلمان کافر کا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا، مواسات کا انقطاع سیاسی نظام کی بنیادی ضرورت نیز مشرک عورت سے نکاح بھی اسی حکم میں ، بنیادی وجہ۔۔ ۸۔ حدیث (القاتل لا يرث) میں مورث کا قاتل وراثت سے محروم ، بنیادی وجہ۔۔ ۹۔ سنت جاریہ ، غلام وارث نہیں ہوتا۔۔ ۱۰۔ حدیث (إن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات) میں حقیقی بھائی وراثت کا حق دار اور علاتی (باپ شریک) بھائی محروم۔۔ ۱۱۔ اجماعِ صحابہ سے ایک مسئلے کی نشان دہی۔۔ ۱۲۔ بیٹی ، پوتی اور حقیقی بہن میں وراثت کی تقسیم سے متعلق نبی اکرم ﷺ کا فیصلہ ، شاہ صاحبؒ کی وضاحت۔۔ حجة اللہ البالغہ کے تمام قلمی نسخوں میں ایک عبارت میں کاتبوں کا سہو اور حضرت سندھیؒ کی تصحیح ۔۔ ۱۳۔ حضرت عمرؓ کا فیصلہ اور اس کی تفصیلات "المسویٰ" میں ۔۔ ۱۴۔ دادی کے لیے چھٹا حصہ ۔۔ ۱۵۔ باپ کی عدم موجودگی میں اس کی وراثت دادا کو ملے گی۔۔ ۱۶۔ ولاء کا مالک کون؟ اس کا راز: خاندان کی سیاسی طاقت اور حمایت کی حفاظت ، حضرت بریرہؓ کا مشہور قصہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  41. 163

    حجۃ اللہ البالغہ | 162 | اسلام کا نظامِ وراثت (حصہ اول) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 162قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتحصولِ رزق کے طریقہ کار : باب05 (حصہ اول) تبادلۂ مال کی ایک اور اہم قسم؛ اسلام کا نظامِ وراثت(دین اسلام میں وراثت کی تقسیم کا طریقۂ کار ، بتدریج قانون سازی اور ورثاء کے حصص کا تعین) مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  17؍ نومبر 2021 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ فرائض: مرنے کے بعد انسان کے وسائل کی تقسیم و استعمال کا بیان ( سوسائٹی کے اہم ترین مسئلے پر نبی اکرم ﷺ کی قانون سازی)۔۔ نظامِ وراثت کا پہلا علمی قاعدہ: وراثت کی تقسیم کی روح اور بنیاد خونی رشتے داروں سے صلہ رحمی اور تعاونِ باہمی۔۔ بلا تفریق مسلم و غیر مسلم اہلِ محلہ  کی مدد و تعاون ، مواسات و خیر خواہی  اور ان کے نفع و نقصان کو اپنا نفع و نقصان سمجھنا، حکمت کے تین لازمی تقاضے۔۔ ان امور کا قیام جبلّی تعلق  یا مدد و مواسات کے عارضی اَسباب یا اس کے باقاعده تحریری قانون کے بغیر ممکن نہیں۔۔ جبلی تعلق (خونی رشتے) کی وضاحت۔۔ الفت و محبت ، مواسات کے عارضی مواقع پیدا ہونا۔۔ نسبی رشتے داروں سے صلہ رحمی دنیا بھر کے شرائع (سنتِ متوارثہ) سے ثابت شدہ ۔۔  منفی ذہنیت کے حامل طبقہ کا رشتوں کے احترام اور صلہ رحمی سے روگردانی کرکے انہیں غیر ضروری سمجھنا۔۔صلہ رحمی کی لازمی صورتیں اور وراثت کا مال صلہ رحمی کی شکلوں میں سب سے زیادہ  قابل توجہ۔۔  تبادلۂ مال کی ایک اور اہم قسم؛ اسلام کا نظامِ وراثت ۔۔ نظامِ وراثت کا دوسرا علمی قاعدہ: دین اسلام میں وراثت کی تقسیم کا طریقۂ کار اور بتدریج قانون سازی ۔۔ عرب و عجم کے مذاہب میں وراثت کی تقسیم کے اتفاقی و اختلافی امور۔۔ زمانۂ جاہلیت میں خاص طور پر عرب قریش کے ہاں وراثت کے حق دار صرف مرد  اور  قرآن حکیم کا اہم قانون؛ خونی رشتے داروں کے لیے وصیت کرنا ضروری اور خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سخت وعید۔۔ آیتِ قرآنیہ میں معروف کے مطابق وصیت کرنے کا حکم ،وصیت میں متعین حد بندی اور وقت کی پابندی نہیں تھی، بنیادی وجہ۔۔ وصیت کے قانون میں ظلم و زیادتی اور قضاة کو اِصلاح کرنے کا اختیار۔۔ نبی اکرم ﷺ کی بین الاقوامی خلافت کے آغاز کے بعد مصلحت کا تقاضا ، اللہ کا وراثت کے دستوری قانون کا نفاذ۔۔ وراثت کے ان قوانین کی قرآن و احادیث سے تخریج۔۔ پہلا اصول: مورث کا سب سے  قریبی خونی رشتے دار ، وراثت کا پہلا حق دار ، ۔۔ چار وجوہات کی بناء پر میاں بیوی بھی ذوی الارحام میں شامل اور ایک دوسرے کی وراثت کے حق دار۔۔ دوسرا اصول: قرابت کی دو قسمیں اور ان کے اَحکامات۔۔ قوم پروری کی سوچ اور قومی شناخت ہر قوم کی فطرتی و جبلی آواز۔۔ شاہ صاحبؒ کے زمانے میں رشتوں اور انساب میں فساد  برپا اور قومی شناخت اور غیرت و حمیت ختم۔۔ قرابت کی نوعِ اول (مردوں) کو فضیلت لیکن نوعِ ثانی (عورتوں) کو حق سے محروم کرنا جائز نہیں۔۔ ماں شریک اولاد (اخیافی بھائی) کا وراثت میں حصہ ۔۔ زوجہ (بیوی) ذوی الفروض کے حصوں میں سے سب سے کم حصے کی حق دار  ، بنیادی وجہ۔۔ وراثت میں تمام حصص تین دائروں میں منحصر نیز وراثت میں سب سے قریب ترین حق دار بیٹا اور مورث کا قائم مقام؛ حق داروں کی تفصیلات۔۔ تین بنیادی فوائدپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  42. 162

    حجۃ اللہ البالغہ | 163 | اسلام کا نظامِ وراثت (حصہ دوم) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 163قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتحصولِ رزق کے طریقہائے کار: باب 05 (حصہ دوم) تبادلۂ مال کی ایک اور اہم قسم؛ اسلام کا نظامِ وراثت(وراثت کی تقسیم کے بقیہ بنیادی اصول اور  قرآنِ حکیم کی روشنی میں مسائلِ میراث کی تفہیم)مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ: 24؍ نومبر 2021 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز درس۔۔ سابقہ درس کا خلاصہ۔۔ وراثت کی تقسیم کا تیسرا اصول: مرد ورثاء کو خواتین پر ایک شرط اور دو وجوہات کی بناء پر وراثتی تقسیم میں ترجیح اور متعلقہ دلائل۔۔ پہلی دلیل، آیت (  الرجال قوامون على النساء الخ) سے مردوں کو عورت پر فضیلت حاصل اور آیت کا درست مفہوم؛ مرد فعالی قوت کی بناء پر قیِّم (سسٹم چلانے) اور مال خرچ کرنے کا ذمہ دار۔۔  دوسری دلیل، حضرت ابن مسعودؓ کے قول سے بھی مرد کی ترجیحی حیثیت واضح۔۔ دد استثنائی صورتوں میں مرد و عورت کا حصہ برابر۔۔ چوتھا اصول: وراثت سے محروم ہونا ، حجب کی دو قسمیں؛ حجبِ حرمان و نقصان نیز محرومی کی بنیادی وجوہات۔۔ سوال کا جواب۔۔ پانچواں اصول: ذوی الفروض کے حصے مقرر کرنے کا بنیادی راز؛ دو بنیادی امور۔۔ ریاضی و جغرافیہ میں مولانا سندھیؒ کی گہری دلچسپی اور حاشیہ میں حصوں کی تقسیم کے حساب و کتاب کے اصول کا تعین۔۔ وراثت کی تقسیم میں پانچواں اور ساتواں حصہ  معتبر نہ ہونے کی بنیادی وجہ۔۔ مسائلِ میراث قرآنِ حکیم کی روشنی میں۔۔ ۱۔ آیت (يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين الخ) میں مرد کا دوگنا حصہ اور دوسری آیت سے دلیل ، اکیلی بیٹی نصف مال کی حق دار ، دو بیٹیاں یا اس سے زیادہ ان کے لیے دو تہائی حصہ ۔۔  بیٹیوں کو عصبات پر فضیلت اور اس کی بنیادی حکمت۔۔ ۲۔ آیت (ولأبويه لكل واحد منهما السدس الخ) میں میت کے والدین کے حصے کی تفصیلات اور ہر صورت کی بنیادی حکمتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  43. 161

    حجۃ اللہ البالغہ | 161 | تبرُّعات کی چار ، مُعاوَنات کی گیارہ قسمیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 161قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتحصولِ رزق کے طریقہ کار : باب 04 تبادلۂ دولت کی دیگر شکلیں(تبرُّعات کی چار اور مُعاوَنات کی گیارہ قسموں کا بیان)مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  10؍ نومبر 2021 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ ابتغائے رزق کے سابقہ ابواب کی مباحث کا خلاصہ اور اس باب میں تبادلۂ دولت کی دیگر شکلیں  (تبرُّعات کی چار اور تعاون باہمی کی گیارہ قسموں) کا بیان۔۔ تبرُّع (رضاکارانہ معاملہ) کی پہلی قسم: صدقہ کی وضاحت۔۔ تبرُّع کی دوسری قسم "ہدیہ" (گفٹ) کی تعریف اور  ہدیہ سے متعلق چھ احادیث۔۔ہدیہ کا بنیادی مقصد ، انسانوں کی باہمی الفت و محبت کا اظہار  ، ہدیہ  کا عمل دو طرفہ ہونا چاہیے ، شکرانِ نعمت کا  زبان سے مناسب اظہار جبکہ بغیر ہدیہ کے تعریف کے پل باندھنا اور خوشامد  کرنا ، کذب بیانی۔۔ ایک شخص کا دوسرے کے لیے بھلائی و معروف کا کام کرنا،  جواب میں اس کا دعائیہ کلمات "جزاك الله خيرا" کہنا،  مکمل تعریف ، جامع نصاب اور معاملہ کو اللہ کے سپرد کرنا ۔۔ "جزاك الله خيرا" سے زیادہ تعریفی کلمات کہنا وقار و الفت کے منافی۔۔ ہدیہ دینے والے کی حد سے زیادہ تعریف کرنے والے شخص کو  حضرت سندھیؒ کی تنبیہ  (مولانا منظور نعمانیؒ سے منقول واقعہ )۔۔ ہدیہ کے تبادلے کا عمل ، دلی نفرتیں و کدورتیں دور کرنے کا سبب اور شاہ صاحبؒ کی مزید تشریح ۔۔ خوشبو دار پھول (نیاز بو) بطور ہدیہ دینا اور حدیث کی روسے قبول کرنے کا حکم ، کم قیمت چیز کا ہدیہ قبول نہ کرنا سرمایہ پرستانہ سوچ۔۔ ہدیہ دے کر واپس لینا قے کرکے واپس لینے کے مترادف، اس کی وجوہات: بخل ، تنگی اور  دوسرے کو نقصان پہنچانا۔۔ نبی اکرم ﷺ کا ہدیہ  دے کر واپس لینے والےکی بلیغ انداز میں مذمت البتہ ایک صورت میں ہدیہ واپس لینے میں کوئی حرج نہیں۔۔ اولاد میں سے بعض کو ہدیہ دینا اور باقیوں کو محروم رکھنا ، حضرت نعمان بن بشیرؓ کو گھوڑا ہدیہ کرنے کا قصہ اور حضور ﷺ کا ناپسند سمجھنا ، ایسا عمل اولاد میں حسد و کینہ اور والدین سے نفرت پیدا ہونے کا باعث۔۔  تبرُّع کی تیسری قسم "وصیت" (جس کا تعلق مرنے کے بعد کے امور سے)۔۔ وصیت سے متعلق پہلی حدیث (أوص بالثلث والثلث كثير) کل مال میں سے ایک تہائی سے زیادہ وصیت کی ممانعت ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا واقعہ۔۔ میت کے مال کے ورثاء کے زیادہ حق دار ہونے پر عرب و عجم کا اتفاق نیز کل مال کی وصیت ان کے حق میں ظلم و زیادتی شمار۔۔ حکمت کا تقاضا کہ وراثت کے زیادہ حق دار قریبی نسبی رشتے دار لیکن مواسات کی بنا پر تہائی مال میں وصیت کا جواز۔۔ وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ، بنیادی قانون کی تشریح۔۔ وصیت کا ارادہ  رکھنے والے کے لیے لازمی ہے کہ وہ اسے تحریر کرنے میں جلدی کرے ، وجوہات اور حدیث کا درست مفہوم سمجھنا ضروری۔۔ عمریٰ (عمر بھر کے لیے رہائش کے لیے کسی کو زمین ہدیہ کرنا) ، نزاع و جھگڑا ختم کرنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی قانون سازی۔۔ تبرُّع کی چوتھی قسم "وقف" ، عرب میں وقف کا نبی اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے رواج نہیں تھا ، آپؐ نے وقف کے قانون کو آیتِ قرآنی سے اخذ کیا ۔۔ نبی اکرم ﷺ نے چند مصلحتوں کی بنیاد پر وقف کے قانون کو مستنبط کیا۔۔۔ مُعاوَنات (تعاون باہمی) کی گیارہ قسمیں:۔۔ ۱) مضاربت تعاون کی ایک شکل۔۔ ۲) شرکتِ مفاوضه کی تفصیل۔۔ ۳) شرکتِ عنان کی توضیح ۔۔ ۴) شرکتِ صنائع اور ۵) شركة الوجوہ کی وضاحت۔۔ ۶) وکالت بھی تعاون کی ایک صورت۔۔ ۷) مساقات کا تعلق باغات سے اور ۸) مزارعت کی تشریح۔۔ ۹) مخابرہ کا مفہوم اور ١٠) دسویں قسم۔۔ ۱۱) اجارہ میں بیع اور تعاون کی دو معنویتیں اور اجیر کی دو قسمیں۔۔ ان عقود کا عرب میں تعامل اور نبی اکرم ﷺ کی قانون سازی۔۔ مزارعت مختلف فیہ مسئلہ ، رواةِ حدیث میں تعارض ، صحابہ و تابعین کے عمل کی روشنی میں عقد مزارعت کا جائزہ ، حضرت رافع بن خدیجؓ کی حدیث میں ممانعت کے تین اطلاقاتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  44. 160

    حجۃ اللہ البالغہ | 160 | احادیث کی روشنی میں تبادلۂ دولت کے احکامات | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 160قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتحصولِ رزق کے طریقہ کار : باب 03احادیث کی روشنی میں معاملات اور تبادلۂ دولت (بیع و شراء) کے احکامات کا تذکرہمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  03؍ نومبر 2021 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ سابقہ باب سے ربط اور زیر مطالعہ باب کا خلاصہ۔۔ حدیث ۰۱ (رحم الله رجلا سمحا إذا باع الخ) میں مالی معاملات میں سماحتِ نفس کے حامل شخص پراللہ کی رحمت کا نزول،تین باتیں۔۔ سماحت کا تہذیبِ نفس اور سیاستِ مدینہ میں کردار نیز مالی معاملات میں بخل کا اندیشہ اور نبی اکرم ﷺ کی تعاونِ باہمی کی اساس سماحت کی بڑی تاکید۔۔ حدیث ۰۲ (الحلف منفقة للسلعة ممحقة للبركة) میں کثرت سے قسم اٹھانا برکت اٹھنے کا سبب نیز دو وجوہات کی بنا پر  بیع میں قسم اٹھانا مکروہ قرار۔۔ حدیث ۰۳ ( يا معشر التجار إن البيع يحضره اللغو والحلف الخ) بازار میں لین دین کے وقت لغو ، جھوٹی قسموں کا رواج اور صدقہ دینے کا حکم، حدیث کا درست سمجھنا ضروری۔۔ حدیث ۰۴ (لا بأس أن تأخذها بسعر يومها الخ) میں سونے اور چاندی کے تبادلے میں اس دن کا ریٹ اور نقد سودا کرنے کا حکم، مقصود جھگڑا و نزاع کا خاتمہ۔۔ حدیث ۰۵ (من ابتاع نخلا بعد أن تؤبر الخ) کجھور کے درخت کی خرید و فروخت میں جھگڑا نمٹانے کے لیے آپؐ کا تابیرِ نخل کو معیار مقرر کرنا۔۔ حدیث کی تشریح: تابیرِ نخل کا عمل درخت پر ایک اضافی محنت ، اس لیے پھل بائع کا حق (نظام بنانے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی واضح ہدایات) ۔۔ حدیث ۰۶ (ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل) میں کتاب اللہ کے خلاف ورزی پر مبنی ہر شرط معاملات میں ناجائز۔۔ حدیث ۰۷ (نهى عليه السلام عن بيع الولاء وعن هبته) میں ولاء بیچنے اور ھبہ  کرنے کی ممانعت ، وضاحت اور ممانعت کا راز۔۔ حدیث ۰۸ ( الخراج بالضمان) میں تاوان بھرنے والا، فائدہ اٹھانے کا مستحق، مالی معاملات کا عالمگیر و آفاقی اصول اور شاہ صاحبؒ کی حدیث کی تفصیلات کی توضیح۔۔ حدیث ۰۹ (البيعان إذا اختلفا والمبيع قائم ليس بينهما بينة الخ) میں بائع و مشتری میں اختلاف اور  مبیع بعینہ موجود ہونے کی صورت میں نبویؐ فیصلہ اور اس کی بنیادی وجہ۔۔ حدیث ۱۰ (۱۔الشفعة فيما لم يقسم فإذا وقعت الحدود الخ ، ۲۔الجار أحق بصقبہ) میں حقِ شفعہ کا بیان ، دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض اور شاہ صاحبؒ کی تطبیق (شفعہ کی بنیادی روح اور دو قسمیں)۔۔ حدیث ۱۱ (من أقال أخاه المسلم صفقة كرهها الخ) میں چیز بیچنے کے بعد خرید دار سے واپس لینے والے کے لیے اجر و ثواب، حدیث کی تشریح۔۔ حدیث ۱۲ (حديث جابر رضي الله عنه بعتُه، واستثنيت حملانه إلى أهلي) کی تفصیلات، بیع میں استثناء کی شرط لگانا ، فقہاء کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کا موقف۔۔ حدیث ۱۳ (من فرق بين والدة وولدها الخ) میں غلام عورت اور اس کے بچے کو الگ الگ بیچنے والے کے لیے آپ ﷺ کی وعید ، بنیادی راز۔۔ ۱۴۔ آیت (إذا نودى للصلاة من يوم الجمعة  الخ) میں آذان سے مراد امام کے خطبہ دینے سے پہلے والی آذان مراد، شاہ صاحبؒ کا موقف۔۔ ۱۵۔ حدیث (إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق الخ) میں ظلم و زیادتی اور مستقل قانون سازی کے پیش نظر آپ ﷺ کا مارکیٹ ریٹ مقرر نہ کرنا۔۔ تاجروں کے ظالمانہ ریٹ کا جواز حدیث سے ثابت نہیں ، ایسے موقع پر حکومت کا ریٹ متعین کرنا جائز۔۔ حضور ﷺ کا مارکیٹ ریٹ مقرر نہ کرنا، شاہ صاحبؒ نے حدیث کی لا جواب تشریح  بیان کی۔۔ ۱۶۔ آیت (يا أيها الذين آمنوا إذا  تداينتم بدين الخ) میں ادھار مالی لین دین میں تحریری معاہدہ کرنے کا حکم۔۔  معاملات میں جھگڑے اور فساد کا بڑا سبب قرض کا لین دین نیز  ادھار معاملے کے لیے چار امور کی پابندی ضروری۔۔ ۱۷۔ حدیث (من أسلف في شيء، فليسلف في كيل معلوم الخ) میں بیعِ سلم کے مروجہ طریقے میں لڑائی جھگڑے ، آپ ﷺ کا مناقشہ ختم کرنے کے لیے چند شرائط کا تعین اور فقہا کا مزید اضافہ۔۔ ۱۸۔ قرض کی مشروعیت کی بنیاد  تبرع و احسان ، نیز اس میں عاریت کا معنی بھی لیکن اضافے کا مطالبہ جائز نہیں۔۔ ۱۹۔  رہن کی اساس اعتمادپر ہے۔۔۔ ۲۰۔ رہن سے متعلق بظاہر دو متعارض حدیثیں اور ان میں جمع و تطبیق۔۔ شے مرہونہ (گروی رکھی اشیا یا گھر) استعمال کرنے کی ممانعت ۔۔ ۲۱۔ حدیث (إنكم قد وليتم أمرين الخ) میں حضور ﷺ کا وزن اور کیل کرنے والوں سے خطاب اور دو امور کی تاکید ، ناپ تول کمی ، سابقہ امتوں کی ہلاکت کا باعث۔۔ ۲۲۔ حدیث (أيما رجل أفلس الخ) میں مُفلس  (دیوالیہ شخص) کی شے کسی قرض خواہ کے پاس بعینہ موجود ہونا، موجود شے سے قرض خواہوں کے قرض وصول کرنے سے متعلق فقہا کا اختلاف اور شاہ صاحبؒ کا موقف۔۔ ۲۳۔ حدیث (من سره أن ينجيه الله من كرب الخ) میں تنگ دست کا قرض معاف کرنے یا مہلت دینے کا اجر و ثواب؛ راز۔۔ ۲۴۔ حدیث (مطل الغني ظلم الخ) میں مال دار کا ٹال مٹول کرنا بڑا ظلم  اور  مال دار کی طرف سے محتاج کا حوالہ و کفالہ قبول کر لینا مستحب عمل۔۔ ۲۵۔ حدیث (لَىُّ الواجدِ يحل عرضه وعقوبته) ٹال مٹول کرنے والے  کا شرعی حکم، حدیث کا درست مفہوم سمجھنا ضروری۔۔ ۲۶۔ حدیث (الصلح جائز بين المسلمين الخ) مسلمانوں میں ہر صلح جائز لیکن حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دینے والی صلح  یا شرط ناجائز  ، جیسا کہ ابو حدرد  کا قصہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  45. 159

    حجۃ اللہ البالغہ | 159 | بقیہ ممنوع قسمیں اور مکروہ صورتوں کا بیان | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 159قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتحصولِ رزق کے طریقہ کار : باب 02 (حصہ سوم) جوے سے  مشابہ تبادلۂ دولت کی بقیہ ممنوع قسمیں اور مکروہ صورتوں کا بیان مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  27؍ اکتوبر 2021ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ چوتھا علمی قاعدہ (تبادلۂ اشیاء میں کراہت) کی پانچ وجوہات کا خلاصہ۔۔ (6) شے کے ضائع ہونے کا خطرہ اور تنازعات پیدا ہونے کے واضح احتمال کی وجہ سے ممانعت۔۔ (7) ملکی نظم و نسق میں فساد کا سبب بننے والے پانچ امور میں خرید وفروخت کی ممانعت ، ۔۔ ۱۔  تلقی رُکبان (تجارتی قافلے سے شہر یا ملک سے باہر ہی سستے داموں چیز خرید لینا اور اوپن مارکیٹ میں اس کی رسائی روک دینا) کی حقیقت اور چند خرابیوں کی وجہ سے ناجائز۔۔ ۲۔ ایک آدمی سے سودا کرکے دوسرے آدمی سے سودا طے کرنا، حرام۔۔ ۳۔ بائع و مشتری میں ایک شے کے نرخ پر بات چیت کے دوران تیسرے آدمی کا اس کی قیمیت اور ریٹ لگانا۔۔ ۴۔ نجش (محض نرخ بڑھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر بولی لگانا) میں دھوکہ دہی اور واضح ضرر۔۔ ۵۔ بیع الحاضر للبادی کی وضاحت اور ناجائز ہونے کا سبب نیز کم اور مناسب نفع پر مال بیچنا سوسائٹی کے لیے مفید اور با برکت عمل۔۔ احتکار کی ممانعت کی وجوہات اور ممنوع شکلیں۔۔ (8) خریدار سے بیع میں تدلیس و دھوکہ دہی ، حدیث تصریہ سے اس کی ممانعت ۔۔ تصریہ کا مفہوم ، احناف و شوافع میں اختلاف اور شاہ صاحبؒ کا دو ٹوک موقف ۔۔  غیر محقق حنفیہ کا خود ساختہ قاعدہ اور شاہ صاحبؒ کی کڑی تنقید۔۔ ملاوٹ کرنے والے کا حضور ﷺ سے تعلق کا خاتمہ ، حدیث کی وضاحت۔۔ (9) سب کے لیے مساوی طور پر اصلاً مباح چیز کی خرید وفروخت کی ممانعت، احادیث سے وضاحتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  46. 158

    حجۃ اللہ البالغہ | 158 | جوے سے مشابہ تبادلۂ دولت کی مکروہ قسمیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 158قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتحصولِ رزق کے طریقہ کار: باب 02 (حصہ دوم) جوے سے  مشابہ تبادلۂ دولت کی ممنوع قسمیں اور مکروہ صورتیں نیز ان کے ناجائز ہونے کی وجوہات مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  13؍ اکتوبر2021 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ سابقہ درس کا ما حصل اور باب کی اگلی مباحث سے ربط۔۔ تیسرا علمی قاعدہ: تبادلۂ دولت کی ممنوع قسمیں جن میں جوا اور "میسر" کی معنویت اور مشابہت کا عمل دخل۔۔ ۱) "مزابنہ" میں جوے کی شکل اور معنویت۔۔ ۲) "محاقله" کا عربوں میں رواج اور نبی اکرم ﷺ  کی ممانعت نیز "عرایا" میں فقہاء کے اختلاف کی نوعیت۔۔ ۳) بيع الصبرة من التمر (کجھور کے ڈھیر کو اندازے سے بیچنا) ۔۔ ۴) "ملامسہ" کی تعریف اور ممانعت کی وجہ۔۔ ۵) "منابذه" کی حرمت ۔۔ ۶) "بیع الحصاة" (کنکری پھینک کر خرید وفروخت) کی ممانعت۔۔  آخری چار بیوعات کی ممانعت کا راز نیز مصنوعی حاجت کی اساس پر اشیاء کی خرید و فروخت اسی کے حکم میں ۔۔ ۷) "بیع العُربان" کی وضاحت اور حرمت کی وجہ۔۔ ۸) تمر (خشک کجھور) کے بدلے رطب (تازہ کجھور) کی بیع ، نبی اکرم ﷺ کا منع کرنا اور اس کا راز۔۔ ۹)  غبن اور جوے پر مشتمل ایک اور ممنوع قسم ۔۔ چوتھا علمی قاعدہ: تبادلۂ اشیاء میں کراہت و ناپسندیدگی کی چند وجوہات:۔۔ (1) تبادلۂ اشیاء کا عمل گناہ کا وسیلہ بن جائے، احادیث کی روشنی میں حرمت کی وضاحت۔۔ پاکستان میں ان غیر شرعی بیوعات کو قانونی تحفظ حاصل۔۔ حرام شے کی قیمت بھی ناجائز ، حدیث میں حرمت کی وجہ۔۔ طوائف کی کمائی، کاہن کی مٹھائی اور "کسبِ زمارہ" کی ممانعت اور حرام کی دو وجوہات۔۔ (2) نجاست و گندگی ملنے کی وجہ سے کراہت کا پیدا ہونا، وضاحت اور ناپسندیدگی کا راز۔۔ (3) لڑائی جھگڑے کا احتمال پیدا ہونے کے چار اصول اور چھ مثالوں سے عدمِ جواز کی وضاحت۔۔ (4)  ایک معاملہ اس شرط پر کرنا کہ اس بنیاد پر دوسرا معاملہ کرنے کا ارادہ ہو، (صفقةٌ فی صفقةٍ)۔۔ (5) غیرملکیتی شے آگے بیچنا، اس کی چند صورتیں اور حرمت کی وجوہاتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  47. 157

    حجۃ اللہ البالغہ | 157 | تبادلۂ دولت (بیوع) کی ممنوع شکلیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 157قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتحصولِ رزق کے طریقۂ کار : باب 02 (حصہ اول)   تبادلۂ دولت (بیوع) کی ممنوع شکلیں؛ جوا اور سود کی حرمت کی تفصیلات(غبنِ فاحش کی شرعی حرمت جبکہ پاکستانی معیشت میں اس کا باقاعده نظام) مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  06؍  اکتوبر 2021 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس0:13 سابقہ باب کا اس باب سے ربط و خلاصہ2:59 جوے کے حرام ہونے کی بنیادی حکمتیں اور مقاصد (علمی قاعدہ) 10:58 قمار بازی میں تمدن اور تعاون باہمی کا سرے سے فقدان 12:07 غبنِ فاحش حرام جبکہ پاکستانی معیشت میں اس کا باقاعده نظام15:03 جوے اور قمار کی تین بڑی خرابیاں اور شاہ صاحبؒ کا معاصر سماج کا معائنہ کرنے کی دعوت19:36 سود کی تعریف اور اس کے نتائج : مناقشاتِ عظیمه ، خصوماتِ مستطیرہ اور زرعی و صنعتی نظام کی تباہی؛ سود کی حرمت کی مزید بنیادی خرابیاں22:18 جوا اور سود کا پیشہ ، منشیات کی عادت کی مانند 24:30 عرب معاشرے میں جوے اور سود کا رواج اور شارع علیہ السلام کا دو ٹوک انسداد28:28 ربا کی دو قسمیں ، حقیقی سود کا تعلق قرضوں سے اور اس کے حرام ہونے کا راز (دوسرا علمی قاعدہ)31:01 دوسری قسم ربا الفضل؛ تعریف اور اس کی حرمت کی اساس حدیثِ مشہور 37:07 اس قسم کی ربا حقیقی سے مشابہت اور رفاہیتِ بالغہ کی ناپسندیدگی، اس کی حرمت کا راز45:51 رفاہیت (سہولیات) اور آیت (نحن قسمنا بينهم معيشتهم في الحياة الدنيا الخ) کا درست مفہوم1:01:11 ربا ان چھ اشیاء میں بند نہیں اور تینوں فقہاء کے ہاں الگ الگ علتوں کا تعین1:04:15 امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے ہاں ربا الفضل کی علت1:13:19 امام شافعیؒ کا مصالحہ جات کو نمک پر قیاس کرنا؛ تحلیل و تجزیہ1:17:17 امام مالکؒ کی علت ربا کے حق میں شاہ صاحب کے بنیادی دلائل1:18:41 نقد سودا کرنے کی پہلی وجہ1:21:03  بیع قبل القبض (شے قبضہ کرنے سے پہلے آگے بیچنا) ناجائز1:22:32 نقد سودا کرنے کی دوسری وجہ1:23:57 حدیث میں طعام اور نقد کو خاص کرنے کا راز1:25:42 جزوی ضرورت والی حدیث سے اسلامی بینک کاری کے جواز کے حیلہ کی حقیقت ، شاہ صاحبؒ کا دو ٹوک موقفپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  48. 156

    حجۃ اللہ البالغہ | 156 | تبادلۂ دولت کے قوانین اور ریاستی امور | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 156قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلات حصولِ رزق کے طریقۂ کار میں انسانی سماج کے معاشی نظام کا بیان : باب 01 (حصہ دوم) احادیث کی روشنی میں  تبادلۂ دولت کے بنیادی قوانین  اور ریاستی امور  کا تعین مُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  29؍  ستمبر 2021ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس۔۔ سابقہ درس پیدائش دولت اور ملکیت کے اصول کا بیان ، اب احادیث کی روشنی میں  تبادلۂ دولت کے بنیادی قواعد کی نشان دہی۔۔ تبادلۂ اشیاء میں چار چیزیں ضروری۔۔ عاقدین و عوضین کے لیے چار چار شرطیں۔۔ تبادلۂ اشیاء میں حقیقی رضامندی معلوم کرنے کا طریقہ۔۔فریقین کا متعلقه عوض (مبیع و ثمن) دوسرے کے سپرد کرنا ۔۔ عقد پختہ کرنے اور جھگڑا نمٹانے پر حدیث (" المتبايعان كل واحد منهما بالخيار على صاحبه ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار ") سے استدلال۔۔ خیارِ مجلس اور ائمہ اربعہ کے نقطہائے نظر ۔۔ حدیث  کی تشریح کے تناظر میں  تبادلۂ اشیاء میں چار ضروری چیزوں کی مزید توضیح۔۔ خرید و فروخت کی مجلس برخاست ہونے سے عقد کی تکمیل ، عقلی دلائل۔۔ بیع سے مقصود ایک دوسرے کو نفع پہنچانا ،نقصان پہنچانے کی نیت سے مجلسِ عقد ختم کرنے کی حرمت از روئے حدیث (ولا يحل له أن يفارق صاحبه خشية أن يستقيله) ۔۔ شاہ صاحبؒ کا اس باب میں کتبِ فقہ میں تبادلۂ اشیاء کی تمام تر تفصیلات کا جامع خلاصہ۔۔  پیشوں کا تعین ، ملکیت کی تحدید اور  تبادلۂ دولت کے لیے سیاسی حکومت کا قیام لازمی ۔۔ زرعی معیشت میں صنعت کاروں اور انتظامیہ کا حجم بڑھنا اور زراعت کے عمل کو چھوڑ دینا تباہی کا باعث۔۔ مضر پیشوں کو روکنا اور سوسائٹی کے لیے مفید پیشوں کو رواج دینا ، ریاست کے ذمہ داری۔۔ ریاست و مملکت کی خرابی و بربادی کا بڑاسبب: ضروری ارتفاقات ترک کرنا  اور تعیش پسندی کے امور کو فروغ دینا ، ۔۔ عیش پرست حکمرانوں کے تسلط سے ریاست کے تباہ و برباد ہونے پر  تمام عرب و عجم کے مدبرین کا اتفاق۔۔  حکمرانوں کی شہوات و خواہشات پورا کرنے کے لیے  پیشوں میں فساد کا منظر نامہ ۔۔حقیقی پیشوں (زراعت ، صنعت اور تجارت) کو مہمل چھوڑنا : سوسائٹی کے لیے بہت بڑا نقصان۔۔ دیمک کی طرح پھیلے ہوئے اس مرض کے خاتمے کے لیے حضور ﷺ کے ریاستی اِقداماتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  49. 155

    حجۃ اللہ البالغہ | 155 | پیدائش دولت اور معاشیات کے چار بنیادی اصول | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 155قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منہج کی تفصيلات حصولِ رزق کے طریقۂ کار میں انسانی سماج کے معاشی نظام کا بیان: باب 01 (حصہ اول) پیدائش دولت سے متعلق معاشیات کے چار بنیادی اصول اور چھ احادیث سے ان کا ثبوتمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  22؍ ستمبر2021 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇 0:00 آغاز درس0:16 معاشی ضروریات کا بندوبست کیے بغیر ، احکامِ شریعت پر عمل اور صفتِ احسان پیدا کرنا ناممکن ، حجة اللہ البالغة کی سابقہ مباحث سے ربط و تعلق1:36 قسمِ اول میں حکمتِ برّ و اِثم کی اساس پر ارتفاقات زیرِ بحث آئے ، جبکہ قسمِ ثانی میں نبی اکرمؐ کی تعلیمات کی روشنی میں معاشی اصول اور ان کے تشریعی نظام کا بیان 3:34 ابوابِ ابتغائے رزق میں احادیث کی روشنی میں انسانی سماج کے معاشی نظام پر گفتگو4:37 معاشیات کے چار بنیادی اصول: زمین میں وسائلِ معاش کا بندوبست اور ان سے نفع اٹھانے کی اجازت عامہ (اباحت)9:40 انسانی نفوس میں حسد و بغض کی وجہ سے وسائلِ معاش میں نزاعات و جھگڑے اور حکمِ الہی10:55 پہلا اصول: مباح وسائل سے نفع اٹھانے کا حق ایک کے لیے مختص ہونے کے بعد دوسرے کی مزاحمت و مداخلت اور قبضہ کی ممانعت 12:59 کسی چیز کے مخصوص و مختص ہونے کی ممکنہ شکلیں نیز دھوکہ دہی اور فریب کی ممانعت16:47 مِلکِیت کا مطلب؛ مالک کو دیگر افراد کی نسبت مملوکہ شے سے نفع اٹھانے کا استحقاق 18:02 دوسرا بنیادی اصول (۱) بنی نوع انسان کے اجتماعیت پسند ہونے کے سبب معاشی سرگرمیوں میں تعاونِ باہمی لازمی اور ناگزیر ، نظامِ معیشت کی درستگی کے لیے اللہ کی قضا جاری  20:52 (۲) مفید معاشی سرگرمی میں ہر شخص کا حصہ لینا ، تعاونِ باہمی اور  سوسائٹی کے لیے مفید عمل22:06 معاشی ضروریات میں دوسروں پر بوجھ بننا شریعت کا مقصود نہیں ، البتہ محتاج و مریض کے لیے رخصت24:32 تیسرا بنیادی اصول ، سوسائٹی کے لیے ترقی یافتہ معیشت کا نظام: شے مخصوص میں ذرائع پیداوار (زراعت و صنعت و تجارت) کے ذریعے بڑھوتری کرنا ضروری ، نیز اشیا میں افادیت کی تین قسمیں27:23 مال میں اضافے کی پہلی صورت: ۱۔ قدرتی وسائل اکٹھا کرنا  ، ۲۔ اموالِ مباحه  (قدرتی وسائل) کے ذریعے مال کی نشو و نما کی صورتیں32:05 زراعت کے عمل سے مال میں اضافے کی بنیادی شرط؛ پیداواری عمل میں فساد پیدا کرنے والی تنگی کی ممانعت35:05 دوسری صورت: تجارتی عمل کے ذریعے "قدر" پیداکرنا ، اس کی اساس پر تعاونِ باہمی کی چند شکلیں38:54 مال میں بڑھوتری کی تیسری صورت: صنعت کاری و دستکاری کے ذریعے مال میں نئی افادیت پیدا کرنا 41:19 چوتھا بنیادی اصول: تعاونِ باہمی اور رضامندی کے بغیر مال کی بڑھوتری پر مبنی معاشی نظام کی ممانعت 43:27 شاہ صاحبؒ کا مشہورِ زمانہ اصول؛ مجبور کی رضا مندی حقیقت میں رضا نہیں ، سرمایہ داری نظام کے ظلم پر مبنی اصول (بارگینگ پاور)  کا تحلیل و تجزیہ 45:25 سودی لین دین اور جوا ، پسندیدہ معاہدات اور رزق کمانے کے عمدہ اسباب میں سے نہیں، حکمتِ مدنیہ کی اساس پر باطل46:59 معاشیات کے چار اصولوں کا چھ احادیث سے ثبوت48:44 (1) حدیث ("من أحيا أرضا ميتة فهي له") سے  غیر مملوکہ بنجر زمین آباد کرنا سے ملکیت مختص ہونے کا ثبوت49:49 بنیادی قاعدہ؛ زمین اور وسائل کا حقیقی مالک اللہ ، انسان کو صرف حقِ انتفاع حاصل اور زمین کو آباد کرنا قبضے کی بنیادی شرط 54:08 شہر اور فنائے شہر  (جیسے شاملات) بنجر زمین کے حکم میں نہیں56:11 زمین کو آباد کرنے والے سے زبردستی زمین نہ چھینی جائے56:58 ساری روئے زمین در حقیقت مسجد یا سرائے کی مانند59:11 سوال کا جواب (ملکیت کا معنی و مفہوم) 1:00:34 (2) حدیث ("عاديُّ الأرض لله ورسوله، ثم هي لكم مني" بے آباد زمین اللہ اور اس کے رسول کی) کی تشریح1:04:36 (3)  اللہ اور اس کے رسول کی حمی (جاگیراور سیکورٹی زون) کے علاوہ کسی کو حمی بنانے کی اجازت نہیں، حدیث(لا حمى إلا لله ورسوله) کی وضاحت 1:07:25 اجازت نہ ہونے کی بنیادی وجہ؛ لوگوں کے لیے تنگی اور ظلم کی شکل پیدا ہونا ہے۔1:10:27 رسول اللہﷺ کوحمی بنانے کی اجازت اور اس خصوصیت  کا بنیادی راز1:17:13 (4) حدیث میں مہزور کے سیلابی پانی کا قضیہ ، حضرت زبیرؓ کی ایک انصاری صحابی سے تنازعہ اور حضور ﷺ کا فیصلہ1:22:41 حدیث کی اصل حقیقت نیز کالا باغ ڈیم کی بحث میں شرعی رہنمائی 1:29:11 (5)  نمک والی زمین (معدن) قومی ملکیت قرار؛ متعلقہ حدیث کی تشریح1:31:50 (6) حدیث میں لقطہ (راستہ میں گری پڑی شے) ، گم شدہ بکری اور اونٹ سے متعلق سوال اور ان کا حکم 1:35:12 حضرت جابرؓ کی روایت کی روشنی میں گرا پڑا کوڑا ، ڈنڈا اور رسی وغیرہ استعمال کرنے کی اجازت1:36:24 دونوں حدیثوں کی روشنی میں لقطہ اٹھانے کا حکم نیز شاہ صاحبؒ کا متعلقہ معاشی اصول پر استدلالپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

  50. 154

    حجۃ اللہ البالغہ | 154 |نفس کےچار مقامات اور دوحالتیں | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری

    احادیثِ نبویہ ﷺ کی روشنی میں دینِ اسلام کے مربوط فلسفہ ’’علمِ اَسرار الدین‘‘ پر مبنی مجددِ ملت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی مایۂ ناز تصنیف حُجّةُ اللّٰه البالِغة کے ہفتہ وار دروس درس : 154قسمِ ثانی: احادیثِ رسول ﷺ پر مشتمل ملتِ اسلامیہ  کا مربوط نظام و فلسفہ اور عقلی منهج کی تفصيلاتاَبوابِ سلوک و اِحسان باب 04 (آخری حصہ) نفس کےچار مقامات اور دوحالتیں ، نیز مقامات و اَحوال سے متعلق دو علمی قاعدےمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری بتاریخ:  15؍ ستمبر 2021 ء بمقام: ادارہ رحیمیہ علومِ قرآنیہ (ٹرسٹ) لاہور *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ * 👇 0:00 آغاز درس0:19 عقل و قلب کے مقامات و اَحوال کے بعد نفس کے مقامات و اَحوال کا بیان0:41 تین پہلوؤں سے نفس کو مقامات حاصل ہوتے ہیں۔ ( بنیادی بات)3:10 (۱) نفس : خواہشات و مطالبات کا مرکز . پہلا مقام "توبہ" اور اس کی شرائط5:24 مقامِ"توبہ" کی حقیقت؛ نورِ ایمانی سے بھرپور عقل ، قلب کی جبلت کا حصہ بن کر  زجر، ندامت اور عزم کو  نفس پر غالب کرنا، قرآنی آیت سے استدلال12:27 آیت کی تشریح؛ اللہ کے خوف سے نورِ ایمانی کا عقل سے قلب میں آنا ، نیز خوف کی ابتدا کا محل ، عقل اور انتہا کا مرکز ، قلب ( من خاف) کا مفہوم15:42 عقل سے نورِ ایمان کے قلب میں آنے کے بعد نفس کو روکنا اور ڈانٹ ڈپٹ کرنا (ونھی النفس) کی تشریح17:04 مقامِ توبہ نفس کی خواہشات کو مسلسل روکنے ، اِنابتِ الہی اور استغفار کرنے سے پیدا ہوتا ہے، نیز حدیثِ نبویؐ میں  اس کی حقیقت و علاج کا ذکر 21:08 "نکتة سوداء" سے مراد بہیمیت کی ظلمت کا قلب پر ظاہر ہونا اور ملکیت کی نورانیت کا چھپ جانا22:18 "صقالة" وہ روشنی جو نورِ ایمانی سے نفس پر پڑتی ہے،  نیز بہیمیت کے غلبے کا نام "رَین" 23:46 جب بھی نفسانی خیال آئے تو نورِ ایمانی اس کو پاش پاش کردے نیز ایک اور حدیث سے توبہ کی حقیقت کی وضاحت34:00 حدیث میں دو داعی کا ذکر ؛ ۱۔ قرآن و شریعت اور ۲۔ نورِ ایمانی 36:11 بسا اوقات اللہ کی خاص مہربانی سے معصیت و نافرمانی کے درمیان حائل ہونے کے لیے خاص لطیفہ نورانی کا خاص بندوں پر نزول ، جسے قرآن میں "برہانِ ربی" سے تعبیر کیا گیا ہے۔38:13 مقامِ توبہ کا خلاصہ39:04 (۲) توبہ کے بعد اس کے ثمرات میں سے نفس کا دوسرا مقام "حیاء" ، اس کا لغوی و شرعی معنی42:50 سید الطائفه جنید بغدادیؒ اور ذوالنون مصریؒ کے قول سے حیاء کی تشریح44:19 حدیث میں حیاء کو ایمان  سے تعبیر کیا گیا نیز کامل حیاء کے چار معیارات49:13 طبعی کمزوری حیاء نہیں ، شاه صاحبؒ کی حدیث کی لاجواب توضیح54:57 (۳) حیاء کے نتیجے میں نفس کا تیسرا مقام "ورع" (پرہیز گاری) تین روایات سے استدلال59:25 ان روایات کی حقیقت؛ شریعت کے معیارات اور مشتبہ امور چھوڑنا "ورع" 1:04:07 (۴) ورع (پرہیز گاری) کے بعد اگلا مقام "ترک ما لا یعنیه" (فضول اور لغویات کو چھوڑنا) حدیث سے استدلال اور شاہ صاحبؒ کی تشریح1:08:20  "ترک ما لا یعنیه" کا دوسرا نام ، زہد نیز حدیث سے زہد کی قرار واقعی حقیقت1:10:45 انسانیت کے دائرے سے ماورا تعمق اور انتہا پسندی زہد نہیں، چند صورتوں سے وضاحت1:17:12 مجاہدہ کرکے ان مقامات کو حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ (علمی قاعدے سے تشریح)1:20:45 نیکی و بدی کے خیالات میں ٹکراؤ کی صورت میں نبوی حکمتِ عملی1:24:56 جبلی و کسبی طور پر نفسِ مطمئنہ والے شخص کا اپنے خیالات پر کنٹرول1:25:45 نورِ ایمانی سے سرشار عقل کا نفس پرفیضان اور  شیطانی خیالات کے خلاف کردار ، قرآنی آیت سے ثبوت 1:26:40 شیطان کا نفس کی شہوت کے سوراخ سے انسانی باطن میں داخل ہونا اور بصیرتِ نورِ ایمانی سے اس کا مقابلہ1:29:00 آیات کے الفاظ کی وضاحت1:30:11 نفس کے دو اَحوال میں پہلی حالت؛ نفسانی شہوات سے دور ہونا (الغیبة) 1:32:40 دوسری حالت؛ ایک لمبی مدت تک نفس کھانے پینے کی طرف متوجہ نہ ہو (المحق) جیسے نبی اکرم ﷺ کا صومِ وصال ، لیکن یہ ہر فرد کے لیے نہیں ہے۔1:36:54 نفس کے مقامات اور اَحوال کے بیان کے بعد دو علمی قاعدے1:37:34 پہلا علمی قاعدہ: قلب ، عقل اور نفس کے درمیان  ہے،  مقامات کے تعین میں بعض صوفیا کا تسامح1:39:56 دوسرا علمی قاعدہ: نورِ ایمانی کے نفس اور قلب کے تقاضوں کے رد کرنے کے صوفیاء کے ہاں چند خاص ناموں کی فہرست1:44:57 شاہ صاحبؒ کا حجة اللہ البالغہ میں علم الاَخلاق پر اَبواب قائم کرنے کا ارادہ جو پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔1:46:15 علم الاحسان  اور علم الشرائع کی تکمیل کے بعد معاشیات کا بیان اگلے ابواب میںپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/

Type above to search every episode's transcript for a word or phrase. Matches are scoped to this podcast.

Searching…

We're indexing this podcast's transcripts for the first time — this can take a minute or two. We'll show results as soon as they're ready.

No matches for "" in this podcast's transcripts.

Showing of matches

No topics indexed yet for this podcast.

Loading reviews...

ABOUT THIS SHOW

حُجّةُ اللہ البالِغة کے ہفتہ وار دروسمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری

HOSTED BY

Rahimia Institute of Quranic Sciences

Produced by Irfan Sadiq

Frequently Asked Questions

How many episodes does دروس حُجّةُ اللہ البالِغة have?

دروس حُجّةُ اللہ البالِغة currently has 50 episodes available on PodParley. New episodes are automatically indexed when they're published to the podcast feed.

What is دروس حُجّةُ اللہ البالِغة about?

حُجّةُ اللہ البالِغة کے ہفتہ وار دروسمُدرِّس: حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری

How often does دروس حُجّةُ اللہ البالِغة release new episodes?

دروس حُجّةُ اللہ البالِغة has 50 episodes. Check the episode list to see recent publication dates and frequency.

Where can I listen to دروس حُجّةُ اللہ البالِغة?

You can listen to دروس حُجّةُ اللہ البالِغة on PodParley by clicking any episode. We provide an embedded audio player for direct listening, and you can also subscribe via your preferred podcast app using the RSS feed.

Who hosts دروس حُجّةُ اللہ البالِغة?

دروس حُجّةُ اللہ البالِغة is created and hosted by Rahimia Institute of Quranic Sciences.
URL copied to clipboard!