PODCAST · religion
Daroos Al Fouz Al Kabir
by Rahimia Institute of Quranic Sciences
دُروس*الفوز الکبیر فی اصول التفسیر*از امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ*(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)**مُدرِّس:*حضرت مولانا شاہ مفتیعبد الخالق آزاد رائے پوریSeries of Daroos Al Fouz Al KabirHazrat e Aqdas Mufti Abdul Khaliq Azad RaipuriMasanad Naseen Khanqa Aliya Rahimia Raipur Director General of Rahimia Institute of Quranic Sciences Lahore.Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistanhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute
-
13
الفوز الکبیر | 13 | الخیرُ الکثیر سے حروفِ مقطعاتِ قرآنیہ کے مفاہیم | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروس*الفوز الکبیر فی اصول التفسیر*از امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ*(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)**درس : 13**’’الخیرُ الکثیر‘‘ سے حروفِ مقطعاتِ قرآنیہ**کے مفاہیم کی مزید توضیح و تشریح**مُدرِّس:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز درس✔️ سابقہ درس سے ربط اور ’’الخیرُ الکثیر‘‘ سے حروفِ مقطعاتِ قرآنیہ کی توضیح و تشریح✔️ ''الم'' نورِ الٰہی کا غیب سے عالمِ متدنس میں تعین (کائنات سے مثالیں اور سائنسی دلائل سے وضاحت)✔️ ''الم'' سے شروع ہونے والی سورتوں میں، آیات و عادات اور اعمال و اخلاق کی تحقیقِ قدسی یا تشریعی نظام میں ان کے تعین کا بیان✔️ لوامیم سات سورتیں، ہر سورت میں ''الم'' سے متصل آیت سے عنوان کا تعین (سوال کا جواب)✔️ مولانا سندھیؒ کی تفسیر میں یہی اسلوب پیشِ نظر✔️ تفسیر تحریر کرنے والوں نے اپنی دانست کے مطابق مولانا سندھیؒ کی ترجمانی کی، گو مولانا سندھیؒ نے اپنی نسبت سے ضبط ِتحریر کسی تفسیر کی ذمہ داری قبول نہیں کی، البتہ مولانا بشیر صاحبؒ لدھیانوی کی قلم بند تفسیر کو اپنے مطالعہ قرآن کے قریب تر کہا ہے✔️ ''المر'' سے شروع ہونے والی سورتیں (لوامیر) اور ان کے مضامین، نیز قرآن کی تمام سورتوں کے اجمالی مطالب✔️ بداعمالیاں، بری عادات و اخلاق اور کج حجتی سے پیدا ہونے والے شرورِ دنسیہ سے انبیاء علیہم السلام کی بار بار مصادمت و مزاحمت، المر سے مراد✔️ مقاماتِ انبیاء علیہم السلام کی وضاحت؛ شرور کے خلاف انبیاء علیہم السلام و صالحین کی جدوجہد بھی اپنا ایک وجود رکھتی ہے✔️ ''طٰہٰ'' کا معنی: دنسی وجود سے مکمل تنزہ و پاکیزگی کے ساتھ تجلی الٰہی کا تخلیطی عالم کے غیب میں نزول، اسمائے متجددہ کے احکام کا مدارکِ انسانی میں نزول سے کنایہ، تجلیِ طور سے وضاحت✔️ ''طسم'' کا معنی: حقیقی تنزہ و پاکیزگی کا مادی عالم میں سرایت کرنا، اسمائے متجددہ، ان کے احکام و علوم کا قدسی اعتبار سے دنسی عالم میں سرایت کرنے سے کنایہ✔️ ''حم'' کا مطلب: غیب کا متدنس میں ظہور، کفار کے غلط اقوال اور فرسودہ عقائد کا موطنِ وحی میں پہنچنا، ترغیب و ترہیب سے ان کا قلع قمع اور نظام توڑنا اور ان کی تشنیع بیان کرکے حق کو غالب کرنا✔️ ''عسق'' متحجر و محدود اور متدنس عالم میں روشن حق کا غالب آ کر پھیل جانا✔️ ''ق'' محدود قباحتوں کا قدسی طاقتوں کی مدد سے مقابلہ، وعظ و نصیحت اور اللہ کی آیات و نشانیوں سے کنایہ✔️ ''ن'' ظلمت کو دور کرنے والا نور، وعظ سے کنایہ✔️ ''ص'' وہ مقامِ قدسی، جس سے قربِ الٰہی حاصل ہو، انبیاء علیہم السلام کی وجاہت کے اعتبار سے ان کے مقامات اور علوم سے کنایہ✔️ ''یٰس''عالم میں ظہور و خفا کے درمیان درمیان سرایت کی ہوئی متردد شے، اللہ کے اسم متجدد اور اس کے علوم سے کنایہ✔️ حروفِ مقطعات سے متعلق اہم نکات؛ علمی قاعدہ✔️ طاء ''بشرط لا'' ، حاء ''بشرط شے'' اور الف ''لا بشرط شے'' کے ساتھ حیات و زندگی کے مشابہے✔️ حروفِ مقطعات سورتوں کے مضامین کے اعتبار سے ان کے نام✔️ تمام سورتوں میں مضامین کے مفہوم میں اتحاد لیکن ہر سورت میں سیاق و سباق سے مختلف اعتبارات کا لحاظ ، مثالوں سے وضاحت✔️ دور، زمانہ اور حالات بدلنے سے ذاتِ باری تعالی کے اسمِ متجدد کی نئی کیفیت کا مفہوم، اسمِ متجدد کا مضامین و اسالیب پیدا کرنے کی دو مشابہتوں کی وضاحت✔️ کتبِ سماویہ؛ تورات، زبور، انجیل اور قرآن کا حضرت محمد ﷺ، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے موطنِ نسمی اور کمالات واستعداد کے تناظر میں نزول (گہری بات)✔️ حوامیم، لوامیم، طواسیم اور لوامیر میں بنیادی فرق؛ تفہیماتِ الٰہیہ کی بحث✔️ حوامیم میں مضامین پر اجمالی گفتگو جب کہ لوامیم میں ان پر تفصیلی کلام✔️ لوامیر میں شرور کے مواقع کے اعتبار سے اسمائے متجددہ کے علوم کا نزول جب کہ طواسیم میں نبی کی استعداد و کمالات کے مطابق نزولپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/https://www.youtube.com/@rahimia-institute
-
12
الفوز الکبیر | 12 | حروفِ تہجی (مقطعات) کی مزید توضیح | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروس الفوز الکبیر فی اصول التفسیراز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 12حروفِ تہجی (مقطعات) کی مزید توضیح مقطعاتِ قرآنیہ سے متعلق صحابہ ؓ و تابعینؒ کے اقوال اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک ان کے معانی و مفاہیممُدرِّس:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔0:00 آغاز درس0:35 حروفِ تہجی (مقطعات) کے ما بین نسبت و تعلق (علمی قاعدہ) نیز ہمزہ و ہاء کا معنی مشترک، لیکن ہاء میں قدسی و دنسی کی تخلیط (ملاپ) کا اضافہ01:21 حا اور عین میں سے عین، زیادہ روشن اور خا اور غین میں خ میں لزوم اور غ میں غلظت کی زیادتی2:07 کاف میں قاف کی نسبت خِفّت اور لام اور راء میں ل میں تعین اور راء میں اس سے رفعت و تردد02:59 دال اور تا میں د میں لزوم و فصاحت اور ت میں ابہام و پوشیدگی کی زیادتی نیز جیم کی نسبت زا میں لطافت زیادہ3:35 اسی نسبت کی اساس پر دو یا تین حروف سے مرکب الفاظ کے مفاہیم:4:19 ''ال'' غیب (ا) کو (ل) نے متعین کر دیا نیز بعض صوفیاء کے ہاں ''ال'' اسمِ اعظم5:31 ''بل'' متعین کا غیر متعین کے ساتھ اتصال6:32 ''ھل'' نکرہ (غیر متعین) کو متعین کرنا6:58 ''ای'' ایسا غیب متردد، جنس معلوم لیکن ذات و تشخص میں جہالت7:43 ''ذا'' کا معنی9:35 تین حروف سے مرکب الفاظ کے مشترک مفہوم اور مثالوں سے وضاحت29:56 عربی زبان کی امتیازی خصوصیت؛ حضرت نانوتویؒ کی وضاحت44:09 حروفِ تہجی کا خاص تقارُب اور منفرد معنی؛ شیخ طاہر جزائریؒ کی عبارت سےاشتقاق کی توضیح52:59 حروفِ تہجی کے معانی کی بنا پر کلمات کے مفہوم کا تعین کرنا، نہایت تنبہ و بیداری کا کام57:20 خلاصۂ کلام1:02:12 علمائے راسخین کے ہاں مقطعاتِ قرآنیہ کے معانی و مفاہیم1:02:37 چودہ حروفِ مقطعات 29 سورتوں میں مجموعے کے طور پر آئے ہیں1:04:52 علمِ مقطعاتِ قرآنیہ سے متعلق صحابہ ؓ و تابعینؒ کے اقوال1:14:19 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ہاں حروفِ مقطعات کے معانی اور اسمائے سُوَر کی وضاحت1:17:22 ''الم'' کا مفہوم؛ غیب الغیب تجلیٔ الٰہی کا عالمِ مادی میں عربی زبان کی متعین شکل اختیار کرنا1:19:27 ''ا، ل، م'' ہر حرف کی الگ الگ معنوی تحقیق اور جامع مطلب و مفہوم1:34:45 ''الٓر و الٓمر'' کا مفہوم1:41:17 ''ط، ص، س اور طٰہٰ اور طٓسم'' کا معنی و مطلب؛ مقاماتِ انبیاء کا بیان1:46:56 ''ح اور حٓم'' کا مفہوم نیز حوامیمِ سبعہ کے مضامین کا خلاصہ 1:52:56 ''ع، ق اور عسق'' کا مطلب؛ روشن حق کا قوت و شدت سے مادی عالم میں سرایت کرنا1:54:59 ''ن، ی اور سورت یٰس'' کا معنی؛ نورِ الٰہی کا پورے عالم میں پھیلاؤ1:56:55 ''صٓ، قٓ، ک'' کا معنی اور ''کھیٰعص'' کا مفہوم 2:02:10 مقطعاتِ قرآنیہ کی بحث کا خلاصہ؛ شاہ صاحبؒ نے بطریقِ ذوق یہ معانی سمجھے ہیں نیز ذوق کا معنی و مفہومپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
11
الفوز الکبیر | 11 | اصولِ حکمت کی اساس پر ہر حرفِ تہجی کا معنی | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروسالفوز الکبیر فی اصول التفسیراز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 11اصولِ حکمت کی اساس پر ہر حرفِ تہجی کا معنی و مطلب (’’الخیر الکثیر ‘‘ کا اقتباس)(الفوز الکبیر کے بابِ چہارم کی فصل 5 کا مطالعہ)مُدرِّس:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز درس0:28 اصولِ حکمت کے مطابق ہر حرفِ تہجی (مقطعات) کا معنی و مطلب (''الخیر الکثیر '' کا اقتباس)1:06 حروفِ مجہورہ و مہموسہ کی وضاحت7:37 حرفِ الف: لین اور ہمزہ کی تعریف میں ''لا بشرطِ شیء'' کی تشریح اور ماہیت معلوم کرنے کے تین طریقے13:21 ''الف'' کا مخرج اور غیب محض ''لا بشرطِ شیء'' کا معنی و مفہوم20:03 ''ب'' کا مخرج و معنی اور فقہ اللغۃ کے اعتبار سے شاہ صاحبؒ کی وضاحت؛ مادی دنیا میں لزوم و ملاپ25:43 ''ت'' و ''ث'' کا مخرج و معنی اور دونوں میں فرق28:59 ''ج'' کا مخرج اور معنی (ایسی ماہیت جس میں قدسی و دنسی کا بغیر روشنی کے اختلاط ہو)31:06 ''ح'' میں ''غیب بشرطِ شیء'' نیز ''الف'' اور اس میں بنیادی فرق33:42 ''خ'' معنی میں ''ح'' کی طرح، لیکن اس میں لزوم و تخلیط کی معنویت کا اضافہ نیز نام کے شخصیت پر اثرات39:02 ''د'' کے معنی میں انفکاک (الگ ہونا اور جدائی) لازمی و ضروری40:06 ''ذ'' کے معنی میں ''د'' کی بہ نسبت لطافت و نرمی40:45 ''ر'' کی معنویت میں ظہور کا تردد و تکرار41:46 ''ز'' حرفِ ''ج'' کی طرح لیکن اس میں کچھ لطافت اور لزوم پایا جاتا ہے42:38 ''س'' ایک چیز کا دوسری میں تصوراتی یا واقعی سرایت کرنا، اور ''ش'' کے معنی میں انطباق و شمول44:25 ''ص'' کی معنویت میں بار بار لوٹنے والی رفعت و بلندی اور ''ض'' میں رفعتِ عودیہ کی صورت کی مزید گہرائی45:39 ''ط'' میں غیب بشرطِ لا (شے کے معدوم ہونے کی شرط) اور اس کا مخرج47:47 ''ظ'' میں کچھ لطافت کے ساتھ ایسا ظہور جو کہ روشن نہ ہو48:21 ''ع'' میں ''ح'' کی معنویت کے ساتھ روشنی کی کرنیں پھوٹتی ہیں، نیز مشہور لغوی خلیل کے ہاں اس کا مقام و مرتبہ اور ''کتاب العین'' کی وجہ تسمیہ54:05 ''غ'' میں مٹیالہ پن او روشنی و چمک نہیں ہوتی، جب کہ ''ف'' میں لفافہ بنتا ہے اور ''ت'' کی معنویت بھی پائی جاتی ہے55:08 ''ق'' میں انتہاء درجے کا تحجّر (پتھر کی باڑ لگانا) شدت و قوت کا استعارہ جب کہ ''ک'' میں تحجّر کی کمی56:56 ''ل'' میں اِبہام کو دور کرکے تعین کا معنی اور ''م'' میں تدنسِ تام (مکمل مادیت)58:54 ''ن'' میں نور اور روشنی نیز نور اور ضوء میں فرق1:00:02 ''و'' کبھی ''م'' اور کبھی ''ب'' کے معنی میں استعمال ہوتا ہے1:00:31 ''ہ'' مادی دنیا کے عالم کا غیب (غیب عالم التخلیط)1:01:36 ''ی'' ظہور و خفاء کے درمیان درمیان ترددپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
10
الفوز الکبیر | 10 | حروفِ مقطعات پر شاہ صاحبؒ کا منفرد علمی موقف | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروسالفوز الکبیر فی اصول التفسیراز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 10محکمات و متشابہات کی تفہیم پر حضرت مجدد الف ثانیؒ کا معتدل و متوازن نکتۂ نظر اورحروفِ مقطعات پر امام شاہ ولی اللہؒ دہلوی کا منفرد علمی مؤقف(الفوز الکبیر کے بابِ چہارم کی فصل 5 کا مطالعہ)مُدرِّس:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز درس0:17 شاہ صاحبؒ کے پانچ وہبی علوم میں سے ایک، علم مقطعات القرآن3:32 مقطعاتِ قرآنیہ سے متعلق دو انتہا پسندانہ تصورات10:44 حضرت مجدد الفِ ثانیؒ اور امام شاہ ولی اللہؒ کی معتدل و متوازن رائے (حضرت مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری مدظلہ العالی نے ’’الموقف فی علوم القرآن‘‘ مرتب کیا ہے)11:52 حقائق و اسرارِ کائنات کا خزانہ متشابہات میں پوشیدہ ہے (مجدد الف ثانیؒ کا اپنے مرید کے نام خط)13:32 آیاتِ قرآنیہ کی دو حصوں میں تقسیم: محکمات و متشابہات، نیز مقطعاتِ قرآنیہ کے مطالب صرف رُسوخ فی العلم والے جانتے ہیں19:46 راسخین فی العلم کی تاویل سے مراد: خاص گہرے رازوں کا اِدراک21:40 حضرت مجدد صاحبؒ کے ہاں حروفِ مقطعاتِ قرآنیہ کی عظمتِ شان؛ یہ جوش دار سمندر اور محب و محبوب کے گہرے نکات و اشارات ہیں24:17 محکمات و متشابہات میں چار بنیادی فرق30:36 عالمِ راسخ اور عالمِ قِشر (چھلکے کے علم پر اکتفا کرنے والے) کی تعریف اور ان میں فرق و امتیاز35:49 محکمات کا علم حاصل کیے بغیر محض متشابہات کی تگ و دو کرنے والا جاہل و گمراہ41:04 مجدد صاحبؒ کے ہاں شریعتِ محمدؐیہ کی اصل حقیقت اور اس کی معرفت میں علمائے ظاہر و راسخین فی العلم کا فرق، نیز اس حوالے سے تین جماعتوں کا جائزہ55:48 خلاصۂ کلام؛ راسخین فی العلم کو ولایتِ نبوت کا حصول جب کہ دیگر کی ظِل (سایہ) تک رسائی1:02:58 مجدد صاحبؒ پر متشابہات کی تاویل کے بحرِ محیط سے علمِ الٰہی کافیضان نیز خط کے اختتامی کلمات1:09:14 مجدد صاحبؒ کے خط کی عبارت نقل کرنے کا مقصد؛ متشابہات اور مقطعاتِ قرآنیہ کا معنی بیان کرنا، راسخین فی العلم کا بنیادی فریضہ، نیز شاہ صاحبؒ کی کتب کے بعض نام نہاد شارحین کی سوئِ فہمی و کوتاہ علمی1:13:33 ’’الفوز الکبیر‘‘ میں علم مقطعاتِ قرآنیہ سے متعلق بحث کا ذکر، نیز نام نہاد شارحین کا تعریب و ترجمہ میں کوتاہ فہمی1:15:26 قرآن کے حروفِ مقطعات کا سمجھنا، حروفِ ہجا و لغات کی وضع اور لغتِ عربی میں ان حروف کے معانی کی خصوصیات کی تفہیم پر موقوف (فقہ اللُّغۃ پر تمہیدی گفتگو)1:17:02 آوازوں کی دنیا کے عجائبات؛ ہر جان دار کی مخصوص آواز، نیز مختلف حالات و اوقات کی مختلف آوازیں1:17:59 انسان کی آواز کی تقطیع (ٹکرے کرنے) کا الہام، ہر حرف تہجی کی اسمائے حسنیٰ کے مقابلے میں وضع، نیز تقطیع سے حروف کا حصول اور کلمات کا تشخص و وجود1:31:43 مختلف زبانیں بننے کا فطری طریقہ کار، حروف کے قدسی و دنسی عمل کی تفہیم اور مثالوں سے وضاحت1:44:18 ہر حرفِ ہجا کی خاصیت اور ان کے معانی کا طلسماتی نظام؛ ابنِ منظور افریقی کا مؤقف1:48:11 حروفِ ہجا کے اَحیاز و مدارج پر خلیل بن احمد الفراہیدیؒ کا اہمیت کا متقاضی نکتہ نظر اور حروف کے چند اَلقابات1:58:10 حروفِ ہجا عربی کلمات کی بنیاد و جڑ؛ الفوز الکبیر میں آوازوں سے حروف کی تحصیل و تشخص کی بحث اور مثالوں سے وضاحت2:10:46 ایک سوال کا جوابپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
9
الفوز الکبیر | 09 | الفوز الکبیر کے بابِ 04 کے بقیہ مضامین کا مطالعہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروسالفوز الکبیر فی اصول التفسیراز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 9️⃣ قرآن حکیم کے روایتی تفسیری اسالیب و مناہج کا تحلیل و تجزیہاور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے منفرد اُسلوبِ تفسیر کی خصوصیات؛الفوز الکبیر کے بابِ چہارم کے بقیہ مضامین کا مطالعہمُدرِّس:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز درس0:18 گزشتہ درس کے مضامین کا خلاصہ2:06 اخذ و استنباط و توجیہات میں فقہا کے منہج پر کتبِ تفاسیر کا جائزہ7:31 اخذ و استنباط کے حوالے سے امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے جامع منہج کی روشنی میں اختلافِ فقہا کا تجزیہ25:51 فقہ میں فنِ ’’توجیہ‘‘ کی تعریف و اہمیت اور جمہور کی توجیہ کا اعتبار35:10 علومِ خمسہ کی تفسیر میں صحابہ کرامؓ میں کثرتِ توجیہ کا اُسلوب اور اس کی تطبیق49:07 ذات و صفات کے حقائق اور تاویلِ متشابہات میں غلو پر مبنی طریقۂ تفسیر اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا نکتہ نظر55:10 لغت و ادب اور نحو (عربی گرائمر) کا منہجِ تفسیر اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا مؤقف1:00:39 علم المعانی و البیان کے ذوق پر لکھی گئی تفاسیر کا تحلیل و تجزیہ1:02:14 علمِ فنِ تفسیر اور صوفیائے کرام کے اشارات و اعتبارات1:09:53 علمِ فنِ اعتبار کی اہمیت و حقیقت اور اس کے واضعِ اول 1:24:45 علمِ غریب القرآن کی بحث اور قرآنی غرابت کا حل سُوَر و آیات کے تناظر میں 1:34:58 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فنِ تفسیر میں پانچ وہبی علوم 1:44:54 حروفِ مقطعاتِ قرآنیہ کے مطالب و مفاہیم کا ایک اہم وہبی علم1:47:27 الفوز الکبیر اور امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی جامع قرآن فہمی اور ولی اللّٰہی فکر کے علما کی خدماتپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
8
الفوز الکبیر | 08 | تفسیری اَسالیب و مناہج کا تحلیل و تجزیہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروسالفوز الکبیر فی اصول التفسیراز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 8️⃣قرآن حکیم کے روایتی تفسیری اَسالیب و مناہج کا تحلیل و تجزیہاور امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے منفرد اُسلوبِ تفسیر کی خصوصیات؛الفوز الکبیر کے بابِ چہارم کا مطالعہمُدرِّس:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز درس0:23 الفوز الکبیر کے چوتھے باب کا بنیادی خاکہ1:44 محدثین، متکلمین اور فقہا وغیرہم کے مناہجِ تفسیر اور اُن میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی غیر معمولی مہارت13:47 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظر میں علم السلوک و الاحسان اور علم الحقائق دو مستقل علوم ہیں18:19 امام عبید اللہ سندھیؒ کی رائے میں علمِ تصوف دراصل علم الحقائق ہے26:26 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نئی تفسیری جہات31:22 شعائرِ اربعہ اور امام شاہ ولی دہلویؒ کا نقطۂ نظر37:09 شعائرِ اربعہ کی عقلی و منطقی تشریح و توضیح، امام سندھیؒ کی نگاہ میں40:08 امام شاہ ولی اللہ دہلوی کا قرآن حکیم کے وجودِ مثالی سے بلاواسطہ استفادہ45:03 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا نسبتِ اویسی کے ذریعے حضور ﷺ سے روحانی فیض کا حصول49:38 امام دہلویؒ کا خانۂ کعبہ میں تجلیاتِ الٰہی سے براہِ راست استفادہ52:26 حضرت شاہ صاحبؒ کا صلوۃِ عظمیٰ یعنی نماز کے روحانی و نورانی و مثالی وجود سے بلا واسطہ استفادہ58:58 روایتی طریقہ ہائے تفاسیر کا تحلیل و تجزیہ1:21:46 امام شاہ ولی دہلویؒ کی علمِ حدیث کے تناظر میں اہم تفسیری قواعد کی نشان دہی1:22:18 قرآن حکیم کے غریب (عربی زبان میں نامانوس) الفاظ کے معنی کی تعیین میں صرف لغت پر اکتفا باعثِ گمراہی ہے1:25:32 قرآن حکیم کے غریب الفاظ مثلاً ’’قصاص‘‘ وغیرہ کے ضمن میں شاہ صاحبؒ کی منفرد اور امتیازی تشریح1:28:24 محدثین کی تفسیر کے چار پہلوؤں کا تحلیل و تجزیہپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
7
الفوز الکبیر | 07 | قرآن حکیم کا منفرد و ممتاز اُسلوبِ بیان | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروس*الفوز الکبیر فی اصول التفسیر*از امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ*(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)**درس* : 7️⃣*قرآن حکیم کا منفرد و ممتاز اُسلوبِ بیان**سورتوں کی ترتیب اور وجوہِ اعجاز؛ الفوز الکبیر کے تیسرے باب کا مطالعہ**مُدرِّس:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز درس1:35 قرآن حکیم کا منفرد اسلوبِ کلام، جو نہ نظم ہے اور نہ نثر3:38 قرآن کی ہر سورت‘ اللہ تعالیٰ کا مستقل فرمانِ شاہی ہے7:32 قرآن کی سورتوں کی ترتیب، تقسیم اور اُن کے موضوعات19:56 قرآنی کی سورتوں کا منفرد اُسلوب اور اُن کے آغاز میں فرامینِ شاہی کی رعایت28:09 بعض قرآنی سورتیں قصائد و اشعار کی طرح اثر آفرین ہیں32:29 مولانا سندھیؒ کی نظر میں کلمۂ جامعہ کی تشریح33:35 سورتوں کی ابتدا و اختتام کے باہمی ربط پر غور و فکر سے ان کا موضوع متعین کرنے میں مدد ملتی ہے40:59 فطری حلاوت کے انداز میں قرآن کی آیات اور اَشعار میں اشتراک48:14 فطری حلاوت کے انداز میں قرآن کی آیات اور اَشعار میں اشتراک کے باوجود دونوں میں بنیادی فرق ہے51:19 اقوامِ عالم کے قوافی کا خلاصہ54:47 قرآن کی آیات کا اسلوب اور طبعی لذت56:55 قرآنی آیات میں سانس کے لحاظ سے ترتیب کے بارے میں امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا منفرد قاعدہ1:11:38 قرآن میں عرب کے روایتی شعری قافیے کو اختیار نہ کرنے کی وجہ 1:13:01 قرآن حکیم میں علومِ خمسہ کے مطالب مکرر ذکر کرنے کی حکمت1:19:55 قرآن حکیم کے پانچ وجوہِ اعجاز1:29:42 فلسفۃُ التّشریع الإسلامی کا مربوط نظام، قرآن حکیم کا ایک معجزہ ہےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
6
الفوز الکبیر | 06 | قرآن فہمی کے بنیادی امور (باب دوم کا مطالعہ) | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروسالفوز الکبیر فی اصول التفسیراز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 6️⃣مسلمانوں کے ہزار سالہ دورِ عروج کی قرآنی تفاسیر کا تحلیل و تجزیہاور قرآن فہمی کے بنیادی امور کی تعیین ؛ الفوز الکبیر کے باب دوم کا مطالعہمُدرِّس:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 آغاز0:27 الفوز الکبیر کے پہلے باب کا خلاصہ1:54 الفوز الکبیر کے دوسرے باب کا موضوع، نظمِ قرآن کے افہام و تفہیم پر مشتمل ہے3:46 قرآن کے منطوقِ کلام میں عربوں کی عمومی ذہنیت کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے7:13 تفسیرِ آیات میں بے مقصد زیادہ باریک بینی کی ممانعت12:10 عرب و عجم کے باہم روابط کے بعد قرآن فہمی میں پیش آنے والی مشکلات14:00 مسلمانوں کے ہزار سالہ دورِ عروج کے تفسیری لٹریچر کا تحلیل و تجزیہ15:11 امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے متعین کردہ دس تفسیری اُمور22:47 شرح غرائب القرآن میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا عمدہ اُسلوبِ بیان28:31 علمِ غریب القرآن کے موضوع پر شاہ صاحبؒ کا مستقل رسالہ ’’فتحُ الخبیر عَمّا لا بُدّ مِن عِلم التّفسیر‘‘32:34 علمِ تفسیر میں قرآن حکیم کے ناسخ و منسوخ کی معرفت کی ضرورت و اہمیت33:24 نسخ کا معنی اور دائرۂ کار؛ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا مؤقف40:13 نسخِ قرآن سے متعلق مولانا عبیداللہ سندھیؒ اور مولانا انور شاہ کشمیریؒ کا متفقہ مؤقف44:03 آیاتِ قرآنیہ کے سببِ نزول میں مفسرین کا اختلافِ رائے اور امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی توجیہات53:46 اسبابِ نزول میں مفسر کے لیے دو باتوں کی اہمیت1:00:54 تفسیر بالرائے کی حقیقت1:02:16 مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی تفسیر‘ محض رائے زنی نہیں1:17:04 محکم کا مفہومپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
5
الفوز الکبیر | 05 | علم الاحکام کے اِثبات کے لیے تذکیراتِ ثلاثہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروسالفوز الکبیر فی اصول التفسیراز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 5️⃣علم الاحکام کے اِثبات کے لیے قرآن حکیم میں تذکیراتِ ثلاثہ؛✍️ 1۔ ماضی کے واقعات سے علم الاحکام پر عمل پیرا لوگ یا اس کے منکرین کے لیے سبق✍️ 2۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ضمن میں احکامِ شریعت پر عمل پیرا ہونے کی دعوت✍️ 3۔ علم الاحکام پر صحیح عمل کرنے پر جنت کے انعام اور بے عملی اور بدعملی کی صورت میں جہنم کے عذاب کی تنبیہمُدرِّس:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇0:00 سابقہ چار دُرُوس کا خلاصۂ کلام✔️ تذکیراتِ ثلاثہ کی توضیح و تشریح✔️ 1۔ تذکیر بآلاء اللہ کا علم سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ودیعت دیا گیا✔️ 2۔ تذکیر بایام اللہ کا علم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ متعارف ہوا✔️ 3۔ تذکیر بالموت و ما بعد الموت کے علم سے حضور اقدس ﷺ نے روشناس کرایا✔️ انعاماتِ الٰہیہ اور خالق و مخلوق کے رشتے کے ضمن میں قرآن حکیم کا اندازِ بیان عام انسانیت کے لیے ہے✔️ قرآن حکیم نے صفاتِ الٰہی کے تعارُف کے لیے ’’اس ذات جیسا کوئی نہیں‘‘ کے نظریے کی اساس پر کامل انسانی صفات کی تعبیر اختیار کی ہے✔️ اللہ تعالیٰ کے اَسما و صفات توقیفی ہیں✔️ علم تذکیر بایام اللہ کی تعریف اور ان کے بیان میں قرآن کا اسلوب✔️ قصصِ قرآنی سے مقصود اِصلاحِ نفوس اور تعمیرِ معاشرے کے لیے تذکر و عبرت ہے، محض غیر مانوس قصہ خوانی نہیں ہے✔️ قرآن میں قصص مکمل ذکر نہ کرنے کی اَساسی حکمت کی توضیح و تشریح✔️ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ مکرر ذکر کرنے کی حکمت✔️ سورت کے مضامین کے پسِ منظر میں قرآنی قصص کا اجمال و تفصیل✔️ قرآن میں سولہ قصے ایسے ہیں جو صرف ایک یا دو مرتبہ بیان ہوئے ہیں✔️ قصصِ قرآنی کے علم کے مقاصدِ اربعہ✔️ علم التذکیر بالموت و ما بعد الموت کی حقیقت✔️ علم الاحکام پر بنیادی گفتگو✔️ مباحث الاحکام کی بنیاد‘ ملتِ ابراہیمی ہے✔️ علم الاحکام کا ایک دائرہ‘ عرب قوم کے پسِ منظر میں قومی انقلاب کا اعتبار اور دوسرا دائرہ‘ بین الاقوامی تناظر میں شریعت کے احکامات کا اطلاق✔️ احکامِ شریعت پُرحکمت اور معتبر مصلحت پر مبنی ہیں✔️ قرآن میں مجمل احکام کی حدیث نبوی ﷺ سے توضیح و تشریح کا خلاصہ✔️ علم الاحکام کا ایک حصہ حضور ﷺ سے کیے گئے سوالات کے جوابات کے ذریعے متعین ہوا✔️ قرآن حکیم کی جن آیات میں جس قصے پر تعریض ہے، اس کی توضیح ضروری ہے✔️ قرآن حکیم کی کوئی آیت علومِ خمسہ کے دائرے سے خارج نہیں ہےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
4
الفوز الکبیر | 04 | نصاریٰ کی گمراہیاں اورآج کے دور میں ان کا نمونہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروسالفوز الکبیر فی اصول التفسیراز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 4️⃣قرآن حکیم کا فاسد مذہبی گروہوں سے مباحثہ؛نصاریٰ کی گمراہیاں اور آج کے دور میں ان کا نمونہمنافقین سے مخاصمہ، عملی نفاق کی چند صورتیں اور موجود دور میں ان کا اطلاقی نمونہمُدرِّس:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز درسنصاریٰ کے تین بنیادی انحرافات :1۔ پہلی مسخ شدہ گمراہی؛ کفریہ عقیدۂ تثلیث✔️ مسخ شدہ مذاہب اور فلاسفہ؛ تثلیثِ یونانی، تثلیثِ مصری، اور تثلیث ہندی اور تثلیثِ بابلی کے عقائد✔️ پولس؛ عیسائیت میں عقیدۂ تثلیث کا بانی اور اس کا داعی✔️ لفظ ’’ابن‘‘ سے خدا ہونے پر نصاریٰ کا بے ہنگم استدلال اور اس کی حقیقت✔️ نصاریٰ کا انجیل کی بعض نصوص سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لیے خدائی اختیارات کا من مانا استدلال اور اس کا تجزیہ✔️ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لوحِ دل پر انجیل کے مفاہیم نازل ہوئے✔️ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی چند منفرد خصوصیات✔️ مشائخ و اولیا کی اولاد اور اُن کے جاہل جانشینوں کا اپنے مشائخ و اولیا کو خدائی اختیارات تک پہنچا دینا؛ نصاریٰ کے مسخ کردار کا آج کے دور میں اطلاقی نمونہ2۔ دوسرا گمراہ کن عقیدہ؛ عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دینے کا دعویٰ کرنا اور اس کو ان کے نام نہاد پیروکاروں کے گناہوں کے لیے کفارے کا سبب قرار دینا اور قرآن حکیم کی روشنی میں اس کا تجزیہ✔️ رفعِ عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت پر حضرت سندھیؒ کا منفرد مؤقف3۔ تیسرا تحریف کردہ عقیدہ؛ انجیل میں مذکور ’’فارقلیط‘‘ سے مراد حضرت عیسیٰ ہیں اور ان کے علاوہ کوئی نیا نبی مبعوث نہیں ہوگاقرآن حکیم کا منافقین سے مخاصمہ:✔️ نفاق کی دو قسمیں؛ نفاقِ اعتقادی، نفاقِ عملی✔️ نفاقِ عملی کی صورتیں (امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے مطالعۂ حدیث کی روشنی میں)1۔ اپنی کسی ذاتی شعوری فیصلے کے بغیر خاندان، قبیلے اور قوم کی مفاداتی تقلید میں اسلام قبول کرنا2۔ نفسانی لذات و ذاتی خواہشات کے اسیر ہو کر محبتِ الٰہی اور عشقِ رسول ﷺ سے محرومی3۔ دلوں میں حرص، حسد اور کینہ جیسی بداَخلاقیوں کی بالادستی اور مناجات کی حلاوت اور عبادت کی برکات سے محروم رسمی مسلمان4۔ معاشی وسائل کے حصول میں تعیش کی حد تک منہمک، آخرت کے معاملات، دین کے غلبے کے تقاضوں اور اعلیٰ اخلاق سے مجرمانہ غفلت کے مرتکب لوگ5۔ خدا اور اُس کے رسول ﷺ کے بارے میں فضول قسم کے تصورات، بے بنیاد اور لغو قسم کے شکوک و شبہات کے حامل نام نہاد مذہبی لوگ6۔ اپنے قبیلے، برادری، نسلی غیرت اور عصبی جہالت کی بنا پر اپنے قبیلے اور قوم کی ہر ظلم و زیادتی اور دین دشمنی میں معاونت کرنے والے عناصر✔️ نفاقِ اعتقادی اور نفاقِ عملی میں فرق اور ان کا حکم✔️ احادیثِ مبارکہ میں منافق معاشرے کی شناخت؛ جھوٹ، معاہدہ شکنی، وعدے کی خلاف ورزی، امانتوں میں خیانت اور تنازعے کے وقت گالم گلوچ✔️ قرآن میں نفاق کی دونوں قسموں کا بیان اور اُن کی تردیدآج کے دور میں نفاقِ عملی کا نمونہ:1۔ مفاد پرست پارلیمانی ممبران اور روایتی سیاسی پارٹیوں کے ہم نوالہ و ہم پیالہ لوگ، جو اپنے لیڈروں کی خوشامد اور ان کی آلہ کاری کو اللہ کی رضا پر مبنی فکر وعمل پر ترجیح دیتے ہیں2۔ نام نہاد جدت پسند اور عقل پسندی کے مزعومہ دانش ور جو دینِ اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کی ترویج کا باعث بنتے ہیں✔️ امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی نظر میں مطالعۂ قرآن کا تقاضا: قرآن حکیم کا مخاصمہ نہ صرف دورِ نزول کے مذہبی گروہوں سے ہے، بلکہ دورِ حاضر میں ان کی خصلتوں کی جانشین جماعتوں سے بھی ہے✔️ علم المخاصمہ میں قرآن کا مقصد ہر فاسد مذہبی فرقے کی خرابیوں کے اُصول و کلیات متعین کرنا اور اُن کے اطلاقی مطالعے کی دعوت دینا ہےپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
3
الفوز الکبیر | 03 | یہود کے فرسودہ اَفکار و خیالات کا تحلیل و تجزیہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروسالفوز الکبیر فی اصول التفسیراز امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)درس : 3️⃣قرآن حکیم کا فاسد مذہبی گروہوں سے مباحثہ؛یہود کے فرسودہ اَفکار و خیالات کا تحلیل و تجزیہاور آج کے دور میں ان افکار ونظریات اور اعمال کا اطلاقی نمونہمُدرِّس:حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔ 👇 0:00 آغاز درس✔️ یہود کے مسخ شدہ علوم و اَفکار پر معاشرے کی صالح تشکیل خارج از امکان ہے✔️ یہود اور اُن پر نازل شدہ کتاب تورات (بائبل کا عہدِ قدیم) کا تعارف✔️ یہود کی آٹھ علمی خرابیاں و گمراہیاں✔️ 1۔ مقدس مذہبی کتاب کے احکامات میں تحریف✔️ کتبِ سابقہ میں تحریفِ لفظی کے متعلق امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا منفرد مؤقف✔️ تحریفِ معنوی کی تعریف اور چند مثالیں✔️ تحریفِ معنوی کے متعلق امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی رائے ؛ محقق اہلِ علم کی نظر میں✔️ قرآن حکیم کلام اللہ ہے، اس کے الفاظ اور معانی مُنزَّل مِنَ اللّٰہ ہیں✔️ کتبِ سابقہ پر کتاب اللہ کا اطلاق یا کلام اللہ کا؟✔️ 2۔ تورات کی آیات کا کِتمانِ(عوام الناس سے چھپالینا)✔️ کِتمانِآیات کے اسباب؛ جھوٹی شہرت کی حفاظت✔️ کِتمانِ آیت اور حضرت عبداللہ بن سلام کا واقعہ✔️ حضور ﷺ کی نبوت سے متعلق تورات کی آیت کو یہود کی طرف سے چھپانے کا پسِ منظر✔️ 3۔ خود ساختہ آیات کو تورات میں شامل کرنا ’’افتراء علی اللہ‘‘ کا نمونہ ہے✔️ یہود کے علماء ومشائخ میں ’’افتراء‘‘ کا بنیادی سبب؛ تشدد (شدت پسندی) و تعمق (انتہاء پسندی)✔️ صوفیائے کرام کے ہاں قلتِ طعام اور قلتِ نوم کا تصور؛ قرار واقعی حیثیت کی توضیح و تشریح✔️ من پسندی اور سِفلی خواہشات کو دین قرار دینا✔️ مفاداتی اجتہادات اور انحرافی استنباطات کو شرعی حیثیت دینا✔️ تحریف، کِتمان اور افتراء کے مفاسد کو الگ الگ عنوان کے ساتھ بیان کرنا، امام شاہ ولی اللہؒ کا علمی کمال و کارنامہ ہے✔️ 4۔ تورات کی آیات کے احکامات پر عمل درآمد میں تقصیر ( پس و پیش کرنا) کا ارتکاب اور اس کے اسباب و وجوہات✔️ بدی و پستی پر اُبھارنے والے نفس (امارہ) کی اتباع و پیروی کے نقصانات✔️ اوہام و ظنون کی بنا پر غلط تاویلات کی ترویج و اشاعت✔️ 5۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر فاسد یہودی عصبیت کا فروغ✔️ 6۔ نبی اکرم ﷺ کی رسالت کا انکار✔️ 7۔ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی، طعن و تشنیع اور اللہ کی جناب میں غلط الزامات اور ان کے اسباب و وجوہات✔️ نبی ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد؛ فرسودہ نظام کا خاتمہ اور ’’اصول البر و الاثم‘‘ پر مبنی عادلانہ سماجی نظام کا قیام✔️ نبوی سیاست اور نظریۂ نیشنل ازم کی توضیح✔️ 8۔ یہود میں بخل، لالچ، مال پرستی جیسی سماج دشمن بداَخلاقیاں✔️ آج کے دور میں فاسد یہودی خصلتوں کا نمونہ؛ مسلمانوں کے علمائے سو (مفاد پرست علمی مذہبی طبقہ) ہیںپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
2
الفوز الکبیر | 02 | قرآن حکیم کا چار فاسد مذہبی گروہوں سے مباحثہ | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروس*الفوز الکبیر فی اصول التفسیر*از امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ*(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)**درس* : 2️⃣*قرآن حکیم کا چار فاسد مذہبی گروہوں سے مباحثہ**اور اہلِ شرک کے فرسودہ اَفکار و خیالات کا تحلیل و تجزیہ**مُدرِّس:*حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری*۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇0:00 آغاز درس✔️ علم المخاصمہ کے دو بنیادی اصول✔️ حقائق کے برعکس بنیادی عقائد اور اُن کی تردید✔️ فاسد اَفکار و نظریات کے حاملین کے شکوک و شبہات اور اُن کا جواب✔️ دلائلِ بُرہانی اور دلائلِ خطابی کی توضیح و تشریح✔️ قرآن حکیم کا اندازِ دعوت خطابی اور حضرت شیخ الہندؒ کی وضاحت✔️ مکی سوسائٹی کا فکر و نظریہ اور نظام و سسٹم✔️ ملتِ حنیفی (ابراہیمی) اور اس کے بنیادی شعائر کا تعارف✔️ مشرکینِ مکہ کے عقائد و اَعمال کے مفاسد (خرابیاں)✔️ (1) شرک؛ مکہ کے طبقاتیت زدہ ماحول کی بنیادی خرابی✔️ شرک کی حقیقت اور اس کی قرار واقعی حیثیت✔️ شرک کے تناظر میں ہندوستان میں انگریز کے استعماری نظام کے تسلط کا جائزہ✔️ مشرکینِ مکہ کے تمام بت، نیک اور بزرگ شخصیات سے منسوب تھے✔️ شرک اور آمریت پر مبنی سسٹم کے باہم ربط و تعلق کا جائزہ✔️ (2) تشبیہ (مخلوق کی صفات، خالقِ کائنات میں تسلیم کرنا) مکی معاشرے کی دوسری خرابی✔️ شرک کی طرح تشبیہ کا آمرانہ طرز ِفکر سے تعلق✔️ (3) تحریف؛ آمریت زدہ نظام کی تیسری خرابی✔️ ملتِ ابراہیمی میں تحریف اور بت پرستی کا آغاز✔️ مکہ میں مالی استحصال اور لوٹ کھسوٹ کے نظام کے ذرائع؛ بحیرہ، سائبہ، وصیلہ، حامی، استقسام بالازلام وغیرہ✔️ (4) احتساب کے عملی نظام، حشر و نشر کا انکار؛ چوتھی خرابی اور اس کا سرمایہ پرستی کے فروغ میں کردار✔️ (5) حضور ﷺ کی رسالت کا انکار اور اس پر بے سروپا اعتراضات ؛ پانچویں خرابی✔️ موجودہ دور میں مشرکین کا اِطلاقی نمونہ✔️ حضور ﷺ کی بعثت کا مقصد؛ ملتِ ابراہیمی کے اصولوں کا احیاء اور ان پر سماج کے قیام کے لیے جدو جہد✔️ مشرکین کی خرابیوں پر قرآنی مخاصمہ کے مختلف طریقوں پر تفصیلی بحثپیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستانhttps://www.rahimia.org/https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
-
1
الفوز الکبیر | 01 | قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف | مفتی عبدالخالق آزاد رائے پوری
دُروس *الفوز الکبیر فی اصول التفسیر* از امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ *(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)* *درس* : 1️⃣ *مُدرِّس:* حضرت مولانا شاہ مفتی عبد الخالق آزاد رائے پوری *۔ ۔ ۔ ۔ درس کے چند بُنیادی نِکات ۔ ۔ ۔ ۔* 👇 0:00 آغاز درس ✔️ الفوز الکبیر کے مضامین کا تعارف، اہمیت اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی امتیازی خصوصیات ✔️ علومُ القرآن کی تعیین کے اہداف اور نزولِ قرآن کے بنیادی مقاصد ✔️ علومِ خمسہ (علم الاحکام، علم المخاصمہ، تذکیرات ثلاثہ) کا مختصر تعارف اور بنیادی اُمور ✔️ علم الاحکام اور اس کا فلسفہ ✔️ پست اور گمراہ فرقوں کے شکوک و شبہات کا علمی جائزہ اور اس کا حل ✔️ علوم القرآن کے بیان کا منفرد اُسلوب اور اس سے متعلق شکوک و شبہات پر تنبیہ ✔️ قرآن کے شانِ نزول میں قصص کے متعلق تنبیہ ✔️ علم الاحکام پر عمل پیرا نہ ہونے والوں کو تذکیرات؛ آلاء اللّٰہ، أیّام اللّٰہ، موت و مابعدہٗ کی ممکنہ شکلوں کی تعیین کا سائنٹفک نظام پیش کردہ ادارہ رحیمیہ علوم قرآنیہ ، لاہور ۔ پاکستان https://www.rahimia.org/ https://web.facebook.com/rahimiainstitute/
We're indexing this podcast's transcripts for the first time — this can take a minute or two. We'll show results as soon as they're ready.
No matches for "" in this podcast's transcripts.
No topics indexed yet for this podcast.
Loading reviews...
ABOUT THIS SHOW
دُروس*الفوز الکبیر فی اصول التفسیر*از امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ*(قرآن فہمی کے بنیادی اصولوں کا تعارف)**مُدرِّس:*حضرت مولانا شاہ مفتیعبد الخالق آزاد رائے پوریSeries of Daroos Al Fouz Al KabirHazrat e Aqdas Mufti Abdul Khaliq Azad RaipuriMasanad Naseen Khanqa Aliya Rahimia Raipur Director General of Rahimia Institute of Quranic Sciences Lahore.Presented by Rahimia Institute of Quranic Sciences, Lahore Pakistanhttps://www.rahimia.org/https://facebook.com/rahimiainstitute
HOSTED BY
Rahimia Institute of Quranic Sciences
CATEGORIES
Loading similar podcasts...